# ادریس آزادؔ > آئینہ ادراک ## Posts - [تصورملامت کا فلسفہ اور وجودیت](https://idrisazad.com/philosophy/tasawar-e-malamat-ka-falsafa-aur-wajoodiyat/): تصوف کے بعض مکاتبِ فکر میں’’ ملامت‘‘ نامی ایک عُنصر کاتصورپایاجاتاہے۔جبکہ بعض دیگر مکاتبِ فکر کے نزدیک یہ کوئی اچھا عُنصر نہیں ہے۔ملامت کیا ہے؟ اِس تصورکی موجودگی کے اسباب کیا ہیں؟ اور بعض سالِکین ملامت کا راستہ کیوں اختیارکرتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ تصوف کا میدان جو ’’میدانِ خیال‘‘ سے بھی بڑا میدان ہے بنیادی طور پر دوقسم کے انسانی کرداروں کاسٹیج ہے۔اگرکوئی سالک، اکیلا ہی راہِ سلوک کی دشوار گزار گھاٹیوں میں چلتا چلا جارہاہے تو وہ انفرادی کاوش کو پسند کرتاہےلیکن اس کے برعکس تصوف میں سلاسل کا ایک نظام بھی موجود ہے۔ جیسا کہ سُنی مسلمانوں - [کیا اسلام نے غلامی کا خاتمہ کیا؟ یا یہ سہرا اہل ِ مغرب کے سرہے؟](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/kia-islam-ne-ghulami-ka-khatma-kia/): اسلام نے جب حکم دیا کہ غلاموں کو اپنے جیسی غذا اور لباس دو اور شرعاً غلاموں کا جائیدادا میں حصہ رکھ دیا تو کیا قیامت خیز قسم کا انقلاب برپا ہونا شروع ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ انسان جن کی گردنوں میں لوہے کا کڑا ڈالنا مالک نسل کے انسانوں کا حق ہوتا تھا، یکایک نئے مقام سے آشنا ہوئے۔ بس پھر کیا تھا؟ آنے والی چند ہی صدیوں میں زمین سے غلامی کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔ کبھی سوچتاہوں اگر اسلام نہ آیا ہوتا تو افلاطون کی مثالی ریاست کے غلام آج بھی گردنوں میں - [یورپین کوئل کتنی سیانی ہے](https://idrisazad.com/evolution/european-coal-kitne-siane-he/): یورپین کوئل کمال پرندہ ہے۔ اپنا گھونسلہ نہیں بناتی بلکہ اپنا انڈہ دوسرے پرندوں کے گھونسلہ میں جاکر دیتی ہے۔ چڑیاؤں، فاختاؤں، کبوتروں، اور ایسے ہی چھوٹے بڑےپرندوں کے گھونسلوں میں تاکہ اُس کے انڈے محفوظ رہیں۔ پھر کیا ہوتاہے کہ یورپین کوئل کے انڈے لازمی طور پر اُس گھونسلے میں موجود دوسرے انڈوں سے پہلے تیار ہوجاتے ہیں اور کوئل کا ننھا بچہ انڈے سے نکلتے ہی پہلا کام یہ کرتاہے کہ اپنے آس پاس رکھے دوسرے انڈوں کو دھکے مار مار کر گھونسلے سےباہر پھینک دیتا ہے۔ وہ اپنی پُشت سے انڈے کو دھکیلتاہے اور ایک ایک کرکے بقیہ سارے - [دہریت کا آخری دور](https://idrisazad.com/philosophy/dehriat-ka-akhre-door/): رچرڈ ڈاکنز کی ایک ویڈیو پچھلے دنوں مشہورہوئی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا، ’’ایک سیل سے‘‘۔ اُن سے مکرر پوچھا گیا کہ وہ سیل کہاں سے آیا ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا، ’’ممکن ہے کسی اور نظام ِ شمسی کے کسی اور سیارے پر زندگی کی ترقی ہماری ترقی سے لاکھوں سال پہلے ہوئی ہو اور وہ ارتقأ میں ہم سے لاکھوں سال آگے ہوں۔ ممکن ہے انہوں نے زندگی کی ایک ایسی شکل ڈیزائن کی ہو جیسی ہمارے سیارے پر - [منطق کا بہت تھوڑا سا تعارف](https://idrisazad.com/philosophy/mantiq-ka-bohat-thora-sa-taaruf/): بات کرنا سب سے مشکل فن ہے اورتمام عمر سیکھتے رہنا پڑتا ہے۔مبالغے اور مغالطے سے پاک گفتگو کا صرف تصور ہی موجود ہے۔عقل کا کام ہے آپ کی مرضی کے حق میں جواز ڈھونڈ ڈھونڈ کرلانا، جو استدلال کی بنیاد بنتے ہیں۔سیدھے سیدھے الفاظ میں کی گئی بات کو لہجے کے نشیب و فرازبگاڑ دیتے ہیں۔ وہ بات جسے قرانِ حکیم “قولِ سدید” کہتاہے، اُس کا عملی اطلاق ماسوائے منطق کے کہیں دیکھنا قریب قریب ناممکن ہے۔منطق کسی بات کی صداقت کو پرکھنے کے نہایت معیاری آلات فراہم کرتی ہے۔بالخصوص جدید منطق ، جو “مغالطۂ وجود” سے بھی پاک ہے۔مغالطۂ - [فورتھ ڈائمینش کو سمجھنے کی ایک اور کوشش](https://idrisazad.com/physics/fourth-dimension-ko-samjhnay-ki-aik-aur-koshish/): اگرہم یہ جملہ اچھی طرح سمجھ لیں تو ایکسٹرا ڈائمینشنز سمجھ آنا شروع ہوجاتی ہیں کہ، ’’ہم اپنی زندگی میں چوتھی ڈائمینشن کے مختلف کراس سیکشنز دیکھتے ہیں۔ جنہیں ہم تھری ڈی کی زندگی کا تسلسل کہتے ہیں، یہ فورڈی کے ، پلانکین سطح تک باریک کراس سیکشنز ہیں‘‘۔ کراس سیکشن کیا ہوتاہے۔ اگر آپ نے کبھی آلُو کی وہ والی چپس بنائی ہیں جو گول گول اور کاغذ کی طرح پتلی کاٹنی ہوتی ہیں؟ یقیناً آپ نے ’’لیز‘‘ کمپنی کی ’’پوٹیٹو چِپس‘‘ تو دیکھی ہی ہونگی۔ پچاس روپے کے لفافے میں انچاس روپے کی ہوا اور ایک روپے کے آلو - [اظہار ِ ذات سے ترکِ اظہار ذات تک](https://idrisazad.com/mysticism/izhar-e-zaat-se-tark-e-izhar-e-zaat-tak/): ظہار ِذات کے مختلف مراحل ہیں۔ جب تک انسان اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے اور پھر بعد میں اُسے استحکام دینے کی غرض سے ہمہ وقت اپنے ہونے کا اظہار کرتا رہتا ہے، اُس کے لیے یہ حقیقت پوشیدہ رہتی ہے کہ اظہار ِ ذات کے منتہیٰ پر وجود اپنی ہستی کھو کرعدم میں تحلیل ہونا شروع ہوجاتاہے۔ شیخ احمد سرہندی ؒ کو کسی شاگرد نے خط لکھا کہ اب مجھے ہرطرف اپنا آپ دکھائی دیتا ہے  تو آپ نے اپنی محفل میں فرمایا کہ  یہ شخص ابھی معرفتِ حق کی پہلی منزل کے پہلے زینہ پر ہے”۔ سر ِ خفی - [پارٹیکل سپِن کی دریافت کا قصہ اورسپِن کو سمجھنے کی ایک کوشش](https://idrisazad.com/physics/history-and-reality-of-particle-spin/): کوانٹم فزکس میں پارٹیکل سپِن کا تصور بہت دیر سے داخل ہوا۔ یہاں تک کہ شروڈنگر کی ویو اِکویشن بھی آچکی تھی۔شروڈنگر کی مساوات کے بعد یہ سمجھا جارہاتھا کہ کوانٹم فزکس کے لیے شروڈنگر کے نتائج کافی ہونگے اور لگ بھگ ہرمظہرِ فطرت کی ٹھیک ٹھیک وضاحت ہوسکے گی۔ پھر یوں ہوا کہ کچھ لوگوں کو محسوس ہوا جیسے بعض پارٹیکلز میں سپِن (Spin) یعنی اپنے محور کے گرد ، گردش سی پائی جاتی ہے۔لیکن حقیقت میں یہ محوری گردش نہیں تھی۔ زیادہ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ کچھ ایسی خصوصیات ہیں جنہیں کم سے کم محوری گردش - [کوانٹم فزکس کی تاریخ، زمان و مکان کی الیٰ غیرِ نہایت تقسیم کا راز](https://idrisazad.com/physics/history-of-quantum-physics/): قدیم یونانی فلسفی زینو کے پیراڈاکسز مشہور ہیں۔زینو حرکت کا مُنکر ہے۔زینو کے نزدیک حرکت کا امکان نہیں کیونکہ ہمیں نقطہ اے سے نقطہ بی تک سفرکرنے کے لیے،  پہلے اُن دونوں نقاط کا نصف فاصلہ طے کرنا ہوگا۔ اُن دونوں نقاط کا نصف فاصلہ طے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اُس نصف کا نصف پہلے طے کریں، علی ھٰذالقیاس۔ یہاں تک کہ آخر ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ دو قریب ترین نقاط کے درمیان بھی چونکہ لامتناہی نقاط موجود ہیں اس لیے ہمارے لیے ممکن نہیں کہ ہم لامتناہیت کو عبور کرسکیں۔ کوانٹم والوں کو بلیّاں پسند - [سائنس اور مذہب کے تعلق پر، ایک غلط فہمی کا ازالہ](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/science-aur-mazhab-ka-taluq/): (عقلیت پرستی اور تجربیت پسندی کے فرق سے ناواقفیت کی بنا پر علم الکلام پر ہونے والے واحد مشہور اعتراض کا جواب۔ شہزاد احمد کی فرمائش پر) سائنس کو مذہب سے الگ ماننے والوں کی عقل پر ماتم کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جب سائنس نہیں تھی تو مذہب کی ذمہ داری تھی، سائنس کے حصے کا کام سنبھالنا بھی، اور جب سائنس پیدا ہوگئی تو مذہب کے مدلولات بھی اپنی عالمگریت میں ایمان کے درجے سے بلند ہوکر یقین کے درجے میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ اگستے کومت والی بات کہ کسی بھی شخص کی ذہنی نشوونمأ کا - [میرے دادا جان مرحوم، مولانا اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ (ایک تعارف)](https://idrisazad.com/blog/molana-ismail-ra/): ایک شخص جس نے مجھے سب سے زیادہ پیاردیا، میرے دادا جان مرحوم ہیں۔ ابّا جی مارتے تھے، دادا جی بچاتے تھے۔ مجھے دیکھ کر اُن کے چہرے پر بہار آجایا کرتی تھی۔ جس دن فوت ہوئے، امی کو ایک جانب اشارے سے متوجہ کرتے ہوئے کہا، ’’میری چارپائی وہاں ڈال دو!‘‘۔ امی نے جواب دیا، ’’وہاں تو دھوپ آجائے گی‘‘۔ کہنے لگے، ’’نہیں، آج ادریس نے آنا ہے نا۔ تو جب وہ گھر میں داخل ہوگا، تو تم سب سے پہلے مَیں اُسے دیکھونگا‘‘۔ لیکن افسوس اُس ویک اینڈ پر میں گھر نہ آیا لاہور چلا گیا وہ میری راہ - [روشنی کی رفتاراور توانائی پر ایک نظر](https://idrisazad.com/physics/energy-of-photon/): ہمارے طلبہ جانتے ہیں کہ فوٹان الیکٹرومیگانیٹک ویوز کا بنیادی ذرّہ ہے۔ روشنی بھی الیکٹرومیگانیٹک ویو ہی ہے۔ فوٹان ایک ماس لیس ذرّہ ہے۔ ماس لیس ذرّہ سے مراد یہ ہے کہ فوٹان کا ماس (کمیت) نہیں ہوتا۔ کلاسیکل تعریف کی رُو سے ماس کسی جسم میں مادے کی مقدار کو کہتے ہیں۔ چنانچہ فوٹان میں مادے کی کوئی مقدار نہیں ہوتی۔ یہ بات خاصی سادہ اور عام فہم ہے۔ وہ اس لیے کہ اتنا تو ایک اَن پڑھ شخص بھی جانتاہے کہ روشنی کا کوئی ماس نہیں ہوتا بالفاظ ِ دیگر روشنی مادہ نہیں ہے۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے - [آئن سٹائن کا تصورِ زماں](https://idrisazad.com/physics/einstein-theory-of-time/): آئن سٹائن کا تصور ِ زماں یہ ہے کہ ’’وقت‘‘ مکان کی بُعدِ رابع یعنی چوتھی ڈائمینشن ہے۔وقت ، مکان کی تین ابعاد میں سے ہرایک کےساتھ اس طرح جُڑا ہوا ہے جیسے کسی جولاہے نے اِن دھاگوں کی بُنائی کرکے ایک جال بنادیاہو۔ہم جانتے ہیں کہ مکان کے تین ابعاد ہیں، جنہیں ہم ’’ایکس ، وائی، زیڈ‘‘ سے ظاہر کرنے کے عادی ہیں۔ان میں سے ہرایک خط اردو میں  ’’محور‘‘ اور انگریزی میں ’’ایکسز‘‘ کہلاتاہے۔ اِن تین خطوط سے چھ جہات کا ظہورہوتاہے، جنہیں فارسی میں ’’شش جہات‘‘ کہا جاتاہے۔یہ چھ جہات ایسے ہیں، دائیں بائیں اُوپر نیچے آگے پیچھے - [پروفیسر ہُود بھائی ، ایک نایاب انٹرویو](https://idrisazad.com/physics/interview-parvez-hood-bhoy/): میں ایک اسماعیلی فیملی میں پیدا ہوا۔ میرے نانا حیدرآباد کے نواح میں ایک جگہ سے تعلق رکھتے تھے، جسے اب سلطان آباد کہا جاتاہے۔ وہ   (پرنس کریم )آغا خان کے ساتھ بہت مخلص تھے۔ گاؤں میں اُن کے پاس خاصی زیادہ زمین تھی۔ انہوں نے وہ ساری زمین ’’آغاخان‘‘ کو ڈونیٹ کردی اور  اس طرح خود’’وارث‘‘ بن گئے۔ (نوٹ: غالباً ’’وارث‘‘،  اسماعیلی برادری میں کسی مذہبی عہدے کا نام ہے) میرے داد بھی بہت زیادہ مذہبی آدمی تھے۔ حقیقت یہ ہےکہ کراچی میں اسماعلیوں کا پہلا ’’جماعت خانہ‘‘ میرے دادا نے اپنی ذاتی رقم سےبنوایا تھا، جس کے نتیجہ میں - [سیدھی لائن کا وجود ممکن نہیں، جیوڈیسِک کی تفہیم(طلبہ کے لیے)](https://idrisazad.com/physics/intro-to-geodesic-urdu/): ہمارے وائٹ بورڈز پر بنائی گئی جیومیٹری کا کائنات کی حقیقی جیومیٹری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ ریشنل سرگرمی کا نتیجہ اورفقط خیالی جیومیٹری ہے جبکہ حقیقی جیومیٹری امپریکل سرگرمی کا نتیجہ بایں ہمہ  ہماری اپنی دنیا کی جیومیٹری ہے۔بیسویں صدی کا آغاز  انسانی تاریخ ِ علم کا سب سے بڑا موڑہے۔صرف فزکس ہی نہیں بدلی، سب کچھ بدل گیا۔ ریاضی بدل گئی، جیومیٹری بدل گئی، کیمسٹری بدل گئی، مادے کی تعریف بدلی، کششِ ثقل یعنی گریوٹی کی تعریف بدلی، حرکت، سکون، مومینٹم، ڈائمینشنز، ماس، ولاسٹی، توانائی، سب کچھ ہی یکسربدل ہی نہ گیا بلکہ بالکل اُلٹ ہوگیا۔یوکلیڈین جیومیٹری جو - [سپرپوزیشن اور کوانٹم کمپیوٹرز](https://idrisazad.com/physics/superposition-and-quantum-computers/): سُپر پوزیشن کا یہ بنیادی نکتہ کہ ایک سنگل آبجیکٹ (مثلاً الیکٹران) بیک وقت کئی جگہوں پر موجود ہوتاہے کوانٹم فزکس کا وہ مظہر ہے جس کا ٹھیک ٹھیک تصور قائم کرنا انسانی عقل سے خاصا بعید ہے۔ سپر پوزیشن کا یہ مظہر کائنات میں ہروقت، ہر کہیں، ہر آبجیکٹ کے ساتھ پیش آرہاہے۔ آج تک سائنس نے جتنی ترقی کی، اس میں قدیم ریاضی کا بے پناہ بلکہ نوّے سے زیادہ فیصد دخل رہا۔ لیکن سُپر پوزیشن کی ریاضی بالکل جدید ریاضی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جتنی ریاضی ہم انسانوں کو آتی ہے کائنات یا فطرت کو اِس - [مذہب کی سائنس میں ’’آگ کی دریافت‘‘کا زمانہ](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/discovery-of-fire-in-science-of-religion/): موجودہ زمانہ، مذہب کی سائنس میں آگ کی دریافت کا زمانہ ہے۔پین سرمیا کے مطابق زمین کے بعض خطّوں سے صرف تیس کلومیٹر کی دوری پر خلا یعنی سپیس ہے۔ اس لیے قرین ِ قیاس ہے کہ زندگی کے ابتدائی جرثومے خلا  یا آسمان سے زمین پر وارد ہوئے ہوں۔ اس نظریہ کے نزدیک زندگی سیارہ در سیارہ بارش کی طرح برستی رہتی ہے۔ جب کوئی بڑا شہابیہ کسی ایسے سیارے پر گرتاہے جہاں زندگی کے جرثومے پہلے سے موجود ہوں تو وہاں سے اُٹھنے والی دھول، مٹی، گرد اور پتھر وغیرہ واپس خلا میں نکل جاتے ہیں اور اپنے ساتھ زندگی - [کیا خدا کا وجود ہے؟](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/does-god-exist/): کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ یہ ایک ایسا پُرانا سوال ہے  جو ہمیشہ تروتازہ رہا۔’’کیا خدا ہے؟‘‘۔ اِس موضوع کو لے کر صدیوں پر محیط سوالات اور ان کے جوابات کے سلاسل سے کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں۔ لیکن عموماً دیکھا گیاہے کہ خدا کو ماننے اور نہ ماننے کا تعلق کتابوں اور عقلی دلائل سے نہیں ہے بلکہ جذبات سے ہے۔ ہم اگر ایک ’’کوانٹی ٹیٹِو‘‘ (Quantitative)  ریسرچ کریں اور چھ ارب انسانوں میں  زیادہ سے زیادہ  لوگوں کے تصورِ خدا کا مطالعہ کرنے کی کوشش کریں تو ایک بات پورے ثبوت کے ساتھ سامنے - [سائنس نہیں بدلتی](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/ilmulkalamscience-nahi-badalti/): سائنس نہیں بدلتی جب کبھی بھی ’’مظاہرِ فطرت اورقران‘‘ سے متعلق کوئی پوسٹ لگائی، دیسی ملحدین سے وہی پرانا غیر منطقی جملہ بار بار سننے کو ملا جس کا نہ کوئی سر ہے نہ کوئی پیر اور نہ کوئی ثبوت۔ فقط ایک نعرہ ہے۔ ’’سائنس تو بدل جاتی ہے، کیا کل تم اپنا دین بھی بدل دوگے؟‘‘ سائنس نہیں بدلتی بھائی! براہِ کرم، اپنی معلومات کی اصلاح فرماویں۔ سائنس کے بارے میں ہمارے ڈاکِنِسٹس اور سوکالڈ سیکولر دوستوں کا یہ خیال کہ سائنس متغیر ہے درست نہیں۔ سائنس نام ہے مظاہرِ فطرت کا اور مظاہرِ فطرت اپنے قوانین کے پابند رہتے - [ڈاکٹروقار کی کتاب ’’انایا‘‘ پر بے لوث تبصرہ](https://idrisazad.com/litrature/dr-waqar-ki-kitaab-anaya-par-bayloos-tabsrah/): میں اُس وقت تک ڈاکٹر وقار کو فلسفے والا ڈاکٹروقار سمجھتارہا جب تک اُن کا شعری مجموعہ’’انایا‘‘ مجھ تک نہ پہنچ گیا۔ فلسفے والے ڈاکٹروقار کو میں نہیں جانتا۔ یونہی  غالباً پروفیسر سحرین بخاری کے ساتھ کسی ٹیلیفون کال کے دوران اُن کا نام ذہن میں رہ گیاتھا، جب سحرین نے بتایا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے فلسفہ ڈیپارٹمنٹ میں ایک ڈاکٹروقار ہوتے ہیں۔ بس یہ نام ذہن میں تھا  اور جب فیس بک پر ایک شاعرڈاکٹروقار سے تعارف ہوا تو میں نے خود ہی دونوں کو آپس میں مِکس کردیا۔چنانچہ جب شاعر ڈاکٹروقار نے مجھ سے ایڈریس مانگا تاکہ وہ - [موت کے خوف سے نجات، حیاتِ انسانی کا مقصود](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/purpse-of-life-is-overcomming-the-fear-of-death/): بچپن میں ہمارے علاقے میں ایک صاحب بڑے عجیب و غریب تجربے کرتے تھے۔ اہلِ علاقہ انہیں پاگل سمجھتے تھے ۔ ہم بچے اُن سے خوف کھاتے تھے لیکن آج غور کرتاہوں تو محسوس ہوتاہے کہ وہ ’’موت کے خوف سے نجات‘‘ کے حربے کیا کرتے تھے۔ جب بھی کوئی قبر کھودی جاتی، وہ اس میں لیٹ جاتے۔ لوگ انہیں زبردستی نکالتے۔ مسجد میں آتے تو جنازے والی رنگین چارپائی پر لیٹ جاتے۔ کئی  کئی راتیں وہ مسجد میں پڑی ہوئی جنازے والی چارپائی میں گزار دیا کرتے تھے۔ جہاں کوئی وفات ہوتی وہ پہنچ جاتے اور کوشش کرکے میّت کے - [مکان مطلق ہے یا اضافی؟ نیوٹن اور لائبنز کا مناظرہ ، اور نیوٹن کی جیت](https://idrisazad.com/physics/is-time-absolute-or-relative/): نیوٹن کا بالٹی والا تجربہ المعروف بَکِٹ ایکسپیری منٹ نیوٹن کی جانب سے لائبنز کے خلاف ،خلائے مطلق کے وجود کا قطعی ثبوت تھا۔نیوٹن اور لائبنز ہم عصر ہیں اور دونوں میں زبردست قسم کے علمی اور نظریاتی اختلافات ہیں۔ کیلکُولَس ان دونوں میں سے کس کی ایجاد ہے یہ سوال آج تک فلسفے اور فزکس کے طلبأ کے درمیان مونچھ کامسئلہ ہے۔لائبنز ایک فلسفی تھا۔ ایک زبردست قسم کا فلسفی اور اُسے یقین تھا کہ مکان (سپیس) کا وجود مادے کی وجہ سے ہے۔ ہم جہاں تک دیکھتے ہیں مادہ پھیلاہوا ہے۔ جہاں جہاں تک مادہ پھیلا ہوا ہے وہاں - [نیلمانہ](https://idrisazad.com/litrature/prose/afsana/neelmana/): ’’بٹرفلائی ہاؤس‘‘  کا باغیچہ ہزاررنگ کے پھولوں اور تتلیوں سے جگمگارہاتھا۔چنبیلی، سوسن، چمپا، موتیا، گلاب، نیلوفر، ڈاہلیا اور جانے کتنی ہی قسم کے پھول تھے جو بٹرفلائی ہاؤس کے وسیع باغیچے میں یوں کھِلے تھے گویا دھوپ کے ساتھ سُورج سے آئے ہوں۔پچاس کے پیٹے کا ایک دبلاپتلا شخص کسی پودے پر جھکا  شایدکچھ ڈھونڈرہاتھا۔ ’’یہ میرے بابا ہیں۔میں اکثرسوچتی ہوں، میرے بابا اگر ’’لیپی ڈاپٹرسٹ‘‘ نہ ہوتے تو شاعرہوتے‘‘ ماریہ نے جیسے خودکلامی کی۔ راہیل ماریہ کی بات پر مسکرادیا ۔وہ ماریہ کے بابا پروفیسر سارنگ کو دلچسپی سے دیکھ رہاتھا۔ ’’تمہارے بابا پروفیسر تھے نا؟ کسی یورپی ملک میں؟‘‘ - [تم مرے دِل سے دُھواں بن کے نکل کیوں نہیں گئے؟](https://idrisazad.com/litrature/tum-meray-dil-se-dhuwan-ban-ke-nikal-kion-naen-gaye/): تم مرے دِل سے دُھواں بن کے نکل کیوں نہیں گئے؟ اتنی جو آگ لگی تھی تمہیں جل کیوں نہیں گئے؟   میں تو پروردۂ اوقات تھا، رہنا تھا مجھے آپ تو وقت تھے پھر آپ ہی ٹل کیوں نہیں گئے؟   آج بھی اُتنی ہی شدت سے تمہیں چاہتا ہوں وہ جو سُورج کی طرح خواب تھے ڈھل کیوں نہیں گئے؟   آگِرے ہیں نا پھِسل کر وہ ہمارے دل میں؟ ہم نے بروقت بتایا تھا،سنبھل کیوں نہیں گئے؟   مجھ حدف پر تو چلے آتے ہیں بے ساختہ تیر تم کہ تھے ساختہ پرداختہ چل کیوں نہیں گئے؟   - [کائنات حیات سے چھلک رہی ہے    ](https://idrisazad.com/evolution/panspermia/): یہ بات کہ اور سیّاروں پر بھی زندگی ہوسکتی ہے اتنی ہی قرین ِ قیاس ہے جتنی آج سے پانچ سو سال پہلے تک یہ بات قرین ِ قیاس تھی کہ اور بر ہائے اعظم پر بھی زندگی ہوسکتی ہے۔ جس طرح دوسرے براعظموں پر زندگی آہستہ آہستہ دریافت ہوئی اسی طرح اور سیّاروں پر بھی زندگی آہستہ آہستہ ہی دریافت ہوگی۔ البتہ وہ دن جب پہلی بار پتہ چلے گا کہ کسی اور سیّارے پر بھی حیات موجود ہے ہم اہل ِ زمین کے لیے بڑا پُرتجسس دن ہوگا۔ شاید ایک نئی تقویم (سَن) کا بھی آغاز ہو۔ صرف یہی - [تاریخ لسانیات، مختصر جائزہ](https://idrisazad.com/linguistics/history-of-linguistic/): ایک لحاظ سے دیکھاجائےتو 27 ستمبر علم ِ لسانیات کی سالگرہ کا دن ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ  انسان نے زبان، آغازِ تمدّن سے بہت پہلے بولنا شروع کردی تھی۔ انیسویں صدی سے پہلےلسانیات صرف فلسفیوں کی دلچسپی کا میدا ن ہوا کرتی تھی۔ کہاجاتاہے کہ زبان کو ایک فلسفیانہ موضوع کے طور پر سب سے پہلے افلاطون اور پھر ارسطو نے اختیار کیا۔ کہا جاتاہے کہ افلاطون وہ پہلا شخص ہے جس نے اسمأ وافعال یعنی ناؤنز اور وربز کو (Nouns and Verbs) الگ الگ کیا۔ لیکن خود مغربی مفکرین کی تحقیق کے مطابق یہ بات درست نہیں ۔ درست بات یہ - [دہریت کا آخری دور](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/end-of-atheism/): رچرڈ ڈاکنز کی ایک ویڈیو پچھلے دنوں مشہورہوئی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا، ’’ایک سیل سے‘‘۔ اُن سے مکرر پوچھا گیا کہ وہ سیل کہاں سے آیا ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا، ’’ممکن ہے کسی اور نظام ِ شمسی کے کسی اور سیارے پر زندگی کی ترقی ہماری ترقی سے لاکھوں سال پہلے ہوئی ہو اور وہ ارتقا میں ہم سے لاکھوں سال آگے ہوں۔ ممکن ہے انہوں نے زندگی کی ایک ایسی شکل ڈیزائن کی ہو جیسی ہمارے سیارے پر - [گریویٹشنل ویوز کی دریافت، آئن سٹائن کا ہر اندازہ درست نکلا !](https://idrisazad.com/physics/discovery-of-gravitational-waves/): (نوٹ: یہ مضمون، گیارہ فروری ، 2016 کے روز لکھا گیاتھا، جس دن لائیگو نے گریوٹیشنل ویو کی دریافت کا اعلان کیا) آج کا دن علوم انسانی کی تاریخ میں سب سے اہم ہے۔ آج لائیگو نے گریویٹیشنل ویو دریافت کرنے کا اعلان کردیا۔ گریوی ٹیشنل ویو کی دریافت گویا اپنی نوعیت میں ایسی دریافت ہے جیسے کائنات کا راز کھول دیا گیاہو۔ ایک سائنسدان نے آج اپنے بیان میں کہا، ’’دِس اِز فرسٹ ٹائم ایور دیٹ دہ یونیورس ہیز سپوکن ٹُو اَس‘‘ انسان نے ہوش سنبھالتے ہی سب سے پہلے آسمان کی طرف دیکھا۔ ہوموسیپیئنز یعنی موجودہ انسان سے پہلی - [انسانی آزادی کا تصور، فلسفہ و تاریخِ یورپ کی روشنی میں](https://idrisazad.com/philosophy/concept-of-freedom-in-western-philosophy/): سارتر کا یہ کہنا کہ ’’ہمیں اگزسٹینس میں پھینک دیا گیاہے اور ہم آزاد ہوجانے پر مجبور کردیے گئے ہیں‘‘ میرے نزدیک منطقی اعتبار سے باطل ہے۔ بات اِس کے عین برعکس ہے یعنی یوں ہے کہ، ’’ہم مجبور ہوجانے کےلیے آزاد کردیے گئے ہیں‘‘۔ ریحان نقوی نے ایک بار سوال کیا تھا کہ ’’ہماری آزادی کی حُدود کہاں تک ہیں؟‘‘، میں نے لکھا تھا کہ ’’ہم خود پر قابوپانے کے لیے کُلی طور پر آزاد ہیں‘‘۔ جس قسم کا جوہر سارتر کو نظر آیا وہ جانوروں سے انسان کو الگ کرنے کے لیے ناکافی ہے، اگرچہ سارتر نے بنیادی طور - [کوانٹم فزکس کی جادُوگر بلّیاں](https://idrisazad.com/physics/magician-cats-of-quantum-physics/): ایک زمانے میں ذات و صفات کی بڑی بحث ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ میدان تو زیادہ تر تصوف کا ہی ہوتا تھا لیکن یہ بحث اپنے موضوع کے اعتبار سے خاصی مقبولِ عام تھی۔ اہلِ تصوف کے نزدیک، بالخصوص ایسے اہل ِ تصوف جو کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ تھے، اُن کے نزدیک بنیادی سوال یہ ہوا کرتا تھا، ’’کیا خدا کی ذات میں، اُس کی صفات بھی شریک ہیں؟ ‘‘ فلسفے کے لوگ اسے مزید گہرائی میں جاکر دیکھتے اور لفظ خدا کو معاملے سے الگ کردیتے۔ ’’کیا شئے کو اس کی صفات سے الگ کیا جاسکتاہے؟ یا اس - [برگسان کا زمانہ اورتصورِ وجدان۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%a8%d8%b1%da%af%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1%d9%90-%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): برگسان کا زمانہ اورتصورِ وجدان۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 30 جنوری 2020 اپنی کتاب ’’مابعدالطبیعات کا تعارف ‘‘ میں برگسان نے کہا کہ، علم دوقسم کا ہے، ایک مطلق کاعلم (Knowledge of absolute) اوردوسرا اضافی کا علم (Knowledge of Relative) ۔ دونوں قسم کے علوم کو حاصل کرنے کے طریقے بھی الگ الگ ہیں۔ اضافی کاعلم حاصل کرنے کا طریقہ برگسان کے مطابق اینالسس (Analysis) ہےجبکہ مطلق کے علم کے حصول کا طریقہ وجدان (Intuition) ہے۔ برگسان کہتاہے کہ وجدان ہمیں شئی فی الذات میں داخل کرتاہے جبکہ اینالسس ہمیں شئے فی الذات سے باہر ہی فقط اُس کی صفات تک محدودرکھتاہے۔ برگسان نے - [جینیٹک انجنئرنگ اور نوع ِ انسانی کا مستقبل۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%ac%db%8c%d9%86%db%8c%d9%b9%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%ac%d9%86%d8%a6%d8%b1%d9%86%da%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%86%d9%88%d8%b9-%d9%90-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%aa/): جینیٹک انجنئرنگ اور نوع ِ انسانی کا مستقبل۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 3 اگست 2015 (فلاسفی آف سائنس فورم کے لیے لکھا گیا) جینیٹک انجنئرنگ کسی جاندار کے ڈی این اے کو مختلف ٹکڑوں میں کاٹنے اور پھر دوبارہ سے جوڑنے کے علاوہ اُن میں نئےنئے جینز داخل کرنے یا پرانے جینز نکال باہر کرنے کے عمل کا نام ہے۔بظاہر جینیٹک انجنئرنگ کا مقصد انسانوں سمیت تمام جانداروں میں ایسے مفید جینز داخل کرنا ہے جو اُن کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کاباعث ہوں یا ایسے جینز کا نکال باہر کرناہے جو اُن کی صحت یا سروائیول کے لیےنقصان دہ ہوں۔جینیٹک انجنئرنگ فی الحقیقت - [ڈینش فلاسفر کیرکے گارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%da%88%db%8c%d9%86%d8%b4-%d9%81%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%81%d8%b1-%da%a9%db%8c%d8%b1%da%a9%db%92-%da%af%d8%a7%d8%b1%da%88%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3/): ڈینش فلاسفر کیرکے گارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 21 مئی 2020 ڈینش فلاسفر کیرکے گارڈ (Kierkegaard) جس کے نام کا ٹھیک ٹھیک ڈینش تلفّظ ’’کھرکے کو‘‘ میں نے محترمہ صدف مرزا سے سیکھا، جو ڈینش زبان کی ماہر ہیں اور حال ہی میں اُن کی ’’زبانِ یار ِ من دانش‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی آئی ہے جن میں ڈینش تاریخ، تہذیب، ثقافت وغیرہ کے ساتھ ساتھ ڈینش ادب کو براہِ راست ڈینش سے اردو میں ترجمہ کیا گیاہے۔ نام کی بابت اتنی تفصیل سے میرا مقصد فقط کیرکے گارڈ کے نام کی ڈینش ادائیگی ’’کھرکے کو‘‘ کی سند فراہم کرناہے۔ کھرکے کو، - [حکمت اور ذہانت میں فرق۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b1%d9%82%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): حکمت اور ذہانت میں فرق۔۔۔۔۔ادریس آزاد 26 مئی 2020 ایک اہم فرق کی طرف ہماری توجہ بہت کم جاتی ہے اوروہ ہے ذہانت اور حکمت کا فرق۔ ذہین شخص کو انگریزی میں اِنٹیلیجنٹ اور بہت زیادہ ذہین شخص کو انگریزی میں جینئس کہتے ہیں۔ اِسی طرح حکیم یعنی حکمت کے مالک شخص کو انگریزی میں ’’وائز‘‘ جبکہ حکمت کو وِزڈم کہتے ہیں۔ حکمت عربی کا لفظ ہے۔ اس کے لیے اردو میں ایک اورلفظ ’’دانائی‘‘ بھی استعمال ہوتاہے۔ اسی طرح حکیم کے مترادف ’’دانا‘‘ کا لفظ استعمال ہوتاہے۔ اب نوٹ کرنے والا خاص فرق کیا ہے؟ ذہانت یا بہت زیادہ ذہانت - [دنیا میں انفرادیت کا وجود قوتِ دفع کی وجہ سے ہے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%82%d9%88%d8%aa%d9%90-%d8%af%d9%81%d8%b9-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%ac/): دنیا میں انفرادیت کا وجود قوتِ دفع کی وجہ سے ہے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 26 مئی 2020 یہ کتنی عجیب بات ہے کہ کائنات میں انفرادیت کا وجود فقط قوتِ دفع کی وجہ سے ہے۔ اگر قوتِ دفع یعنی ریپَلشن کی قوت نہ ہوتی تو کائنات کسی ایک کُل میں ضم پائی جاتی۔ کوئی انفرادی ہستی نہ ہوتی۔ دریا سے کوئی قطرہ باہر نہ ہوتا۔ آتماؤں کا وجود ہی نہ ہوتا۔ وجود ہوتا تو صرف پرماتما کا۔ رچرڈ فائن مین کے کتنے ہی ڈایا گرام فزکس کی اس حقیقت کو بتانے کے لیے بنائے جاتے ہیں کہ ایک ذرّہ کبھی دوسرے ذرّے کو - [اشتراکیت کی نشاۃِ ثانیہ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی شکست۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%a7%d8%b4%d8%aa%d8%b1%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b4%d8%a7%db%83%d9%90-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1/): اشتراکیت کی نشاۃِ ثانیہ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی شکست۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 3 جون 2020 آپ نے غور کیا کہ پاکستان کو دُوسری مرتبہ ایک ہی جیسی صورتحال کا سامناہے؟ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ قدرے زیادہ سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان لڑائی فی الحقیقت دو مُلکوں کے درمیان لڑائی سے کہیں زیادہ دو نظریات کے درمیان لڑائی تھی۔ سوویت یونین کمیونزم کا مُلک تھا اور امریکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا۔ اب پھر وہی لڑائی جنم لے چکی ہے۔ چین کمیونسٹ مُلک ہے اور امریکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت ۔ سوویت یونین سے سرد جنگ کے وقت - [سانولی شام۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b3%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%84%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d9%85%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): سانولی شام۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 مارچ 2020 آسماں کو دیکھو تو سانولے سے بادل ہیں مجھ کو ایسا لگتا ہے موسموں کے خالق نے بادلوں کی رنگت میں شام گھول ڈالی ہے یاد ہے تجھے سورج! ایسے بادلوں پرجب تیرا عکس پڑتا تھا اُن میں ایک یاقوتی رنگ پھیل جاتا تھا ہائے وہ حیا داری ہائے وہ وفا داری اور وہ سانولے بادل روز شام ہوتے ہی گھر کو لوٹ جاتے تھے جب ہمیں محبت تھی اور ابھی ترا مجھ سے جی نہیں بھرا تھا جب شاد باد شاموں کی ہم لڑی بناتے تھے ہر ہلال کو تم نے انگلیوں سے چھو - [کردیا ہے جُدا کسی سے مجھے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%da%a9%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%ac%d9%8f%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%ac%da%be%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2/): کردیا ہے جُدا کسی سے مجھے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 مارچ 2020 کردیا ہے جُدا کسی سے مجھے اتنا شکوہ ہے شاعری سے مجھے پہلے تم تھے تو یہ بھی پیاری تھی اب تو نفرت ہے زندگی سے مجھے اُس نے دس سال بعد خط لکھا آکے لے جائیے خوشی سے مجھے چُن لیے نام مستقل سے خود دے دیے نقش عارضی سے مجھے تیری اِس دلگی کی عادت نے باز رکھا ہے عاشقی سے مجھے یوں تماشا بنا دیا تُو نے خوف آتا ہے ڈگڈگی سے مجھے عارضہ دل کا ہوگیا لاحق آپ کے پیار کی کمی سے مجھے دِل کی آنکھوں - [زہرہ نگاہ کو جواب آں نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b2%db%81%d8%b1%db%81-%d9%86%da%af%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%88-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%93%da%ba-%d9%86%d8%b8%d9%85%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7/): زہرہ نگاہ کو جواب آں نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد مجھے سیب کھانے کی تلقین تو نے ہی کی تھی ’’وہ گندم کا دانہ مری دسترس میں نہیں تھا‘‘ ’’مری سانپ سے دوستی بھی نہیں تھی‘‘ اگر دوستی تھی کسی سے وہ تم تھیں وہ اِک سیب جو تو نے مجھ کو چکھایا وہ گندم کا دانہ جو مجھ کو کھلایا وہی آگہی تھی، جو مجھ کو ملی تھی وہی ایک تحفہ جو تو نے مجھ دے دیا تھا وہی مجھ کو تقویم میں سب افضل بنانے کا موجب ہواہے ادریس آزاد   - [علم حجاب ِ اکبر ہے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%90-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): علم حجاب ِ اکبر ہے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 مارچ 2020 علم حجاب ِ اکبر ہے۔ یہ ایک صوفی عالم کا قول ہے۔یعنی حضرت علی ھجویری رحمۃ اللہ علیہ کا۔ صوفیا کے ہاں اس مضمون کے اقوال عام پائے جاتےہیں۔ مثلاً خواجہ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر دیکھیے، زانکہ ایں علم ِ لزج چوں راہ زند پیشتر راہ ِ دل ِ آگاہ زند یہ علم ِ عقلی جو ہے یہ راہ زن ہے۔ یہ دلِ آگاہ کے آگے آکر اُس کا راستہ روک اور اُسے لوٹ لیتا ہے۔ لیکن اگر ہم اِس حدیث کی روشنی میں، العلم ُ علمانِ - [مرا جد دشتِ تنہائی میں رہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d9%85%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d8%af-%d8%af%d8%b4%d8%aa%d9%90-%d8%aa%d9%86%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%d8%aa%d8%a7-%d8%aa%da%be%d8%a7%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): مرا جد دشتِ تنہائی میں رہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 مارچ 2020 مرا جد دشتِ تنہائی میں رہتا تھا ہزاروں سال گزرے میں ہوا اور میں بہت بیزار، بددِل اور پریشاں ہوں یہ کیسی خاک ہے؟ اُڑتی ہی رہتی ہے اِسے کب چین آئیگا اِدھر میں ہوں مسلسل اور تواتر سے سرابوں کے تعاقب میں یہ صحرا جھوٹ ہے جھوٹا ہے جھٹلایا ہوا ہے مگر میں اب سکوتِ دشت سے اُکتا گیا ہوں سنو! خاکی ہواؤ! جاؤ جاؤ! کوئی دیوار و در کو ڈھونڈلاؤ! ادریس آزاد     - [دی پلیٹ فارم۔(فلم کا تھیم)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%af%db%8c-%d9%be%d9%84%db%8c%d9%b9-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d9%85%db%94%d9%81%d9%84%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%85%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): دی پلیٹ فارم۔(فلم کا تھیم)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 24 مارچ 2020 میں عموماً جب کوئی اچھی فلم دیکھتاہوں تو شوقین دوستوں کے ساتھ اس کا تھیم شیئر کرتاہوں۔ لیکن یہ فلم یعنی ’’دی پلیٹ فارم‘‘ مجھے اتنی پسند آئی کہ میں نے اس کا پلاٹ لکھنے کا فیصلہ کیا۔آپ بھی دیکھیے! یقیناً سرخ لٹریچر ابھی تک بھی لکھاجارہاہے۔ کورونا وائرس کی وحشت میں یہ تحفہ حالیہ انسانی موضوعات پر کتنا منطبق ہوتاہے یہ آپ نے مجھے کمنٹ میں بتاناہے۔ فلم کا پلاٹ زمین کے نیچے ایک عمارت ہے۔ بہت گہری۔ اتنی گہری کہ اس کی گہرائی کا کسی کو اندازہ نہیں۔ یہ ایک - [ایک عام بندے کا تعارف (سلسلہ بندہ نمبر ایک، صوفی علی احمد) ۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%81-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-%d8%a7/): ایک عام بندے کا تعارف (سلسلہ بندہ نمبر ایک، صوفی علی احمد) ۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 27 مارچ 2020 صوفی علی احمد دودھ والا تھا۔ بعد میں اس نے ’’ڈِکوترہ والے پُل‘‘ پر چائے کا ہوٹل بنالیا۔ نمازی بندہ تھا۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے پنجابیوں کو تو پنجاب میں اُتنے جتن نہ کرنے پڑے جتنے خالص اُردو بولنے والوں کو کرنے پڑے تھے۔ صوفی علی احمد اردوبولنے والا سوکالڈ مہاجر تھا۔ اتنا کھرا بندہ تھا کہ اگر آپ ذرا سے بھی ملاوٹ زدہ ہیں تو ممکن نہیں آپ کو صوفی صاحب کی کوئی بات اچھی لگے۔ دِل کا صاف، دماغ کا - [تیرا جسم اور تیری مرضی۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%aa%db%8c%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d8%b3%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2/): تیرا جسم اور تیری مرضی۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 4 مارچ 2020 تیرا جسم اور تیری مرضی اب تک کی تاریخ میں شاید ہراِک شئے پر حاوی ہیں تُجھ پر مُجھ پر اور اُن سب پر جتنے اِس کے راو ی ہیں دِل پر، سرپر درپر، گھر پر روزِ ازل سے ہرعالم پر ہرشاعر پر ہرہررنگ کے صورت گر پر دنیا کی ہرشئے سے بڑھ کر تیرا جسم اور تیری مرضی پہلے بھی سب سے برترتھے اب بھی سب سے افضل ہیں تجھ کو آتا دیکھ کے آنکھیں جھک جاتی ہیں تجھ کو رُوٹھا دیکھ کے سانسیں رُک جاتی ہیں ادریس آزاد   - [پاکستان کی مذہبی قوتیں، سوشلزم اورحالاتِ حاضرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c-%d9%82%d9%88%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%8c-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84%d8%b2%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ad%d8%a7%d9%84/): پاکستان کی مذہبی قوتیں، سوشلزم اورحالاتِ حاضرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 16 مارچ 2020 “زندہ لوگ” کے سینتالیسویں اجلاس کی رُوداد ۔۔۔ آج کا اجلاس خاصا گرماگرم تھا۔ میں پہنچا تو بحث زوروں پر تھی۔شروع شروع میں مجھے موضوع کی مرکزیت کا اندازہ نہ ہوسکا لیکن کچھ ہی دیر میں بات واضح ہوگئی۔ دراصل آج کی گفتگو جنابِ افتخارعارف کے ایک سوال سے شروع ہوئی تھی۔انہوں نے پروفیسر فتح محمد ملک سے یہ سوال کیا کہ، ’’سوویت یونین بڑی تیزی سے جس نکتۂ نظرکودنیا میں پھیلا رہاتھا، اُس آئیڈیالوجی کا قلع قمع کرنے کے لیے امریکہ نے دنیا بھر میں مذہبی قوتوں کو استعمال - [ون الیکٹران تھیوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%88%d9%86-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%88%d8%b1%db%8c%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2/): ون الیکٹران تھیوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 18 مارچ 2020 جان وہیلر ایک بڑا سائنسدان تھا۔ بہت بڑا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے آئن سٹائن کے سپیسٹائم اور گریوٹی کے بارے میں ایک جملہ بولا تھا جو اب عام استعمال ہوتاہے، ’’میٹر ٹیلز سپیسٹائم ہاؤ ٹُو کرْو، اینڈ سپیسٹائم ٹیلز میٹر ہاؤ ٹُو مُوو‘‘ رچرڈ فائن مین جو خود ایک بہت بڑا سائنسدان ہے اور جس کے ڈایا گرامز کی وجہ سے کوانٹم الیکٹروڈائنامیکس وجود میں آئی جو واحد ایسی تھیوری ہے جس پر پوری دنیا کے سائنسدان پہلی بار متفق ہوئے کہ ’جی ہاں، یہ آئن سٹائن کی سپیشل ریلیٹوٹی اور کوانٹم - [ناک کا مسئلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d9%86%d8%a7%da%a9-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): ناک کا مسئلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 3 اپریل 2020 سچی بات تو یہ ہے کہ بابائے مادیات سرآئزک نیوٹن کی کشش ثقل کے پیچھے کیپلر کے تیسرے قانون کی مساوات کا ہاتھ ہے۔ جبکہ یہ گمان بھی اکیڈمیا میں موجود ہے کیپلر کی مساواتوں کے پیچھے بیچارے ’’ٹائیکو براہے‘‘ کی ناک ہے۔ ٹائیکو براہے گیلیلیو کے زمانے کا ایک ڈینش سائنسدان ہے۔ نیوٹن کے زمانے پر ہی موقوف نہیں، ناک کا مسئلہ ہرزمانے میں بڑے سائنسدانوں کا مسئلہ رہاہے۔ خیر ٹائیکو جب بیس سال کا تھا تو ایک دن یعنی انتیس دسمبر 1566 کے روز پروفیسر لوکس بیچ میسٹر کے گھر منگنی کی - [دعا کو ذہن پہ ایسے سوار کرلیاجائے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%af%d8%b9%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d8%b0%db%81%d9%86-%d9%be%db%81-%d8%a7%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): دعا کو ذہن پہ ایسے سوار کرلیاجائے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 5 اپریل 2020 دعا کو ذہن پہ ایسے سوار کرلیاجائے کہ دستِ کون و مکاں زیرِ بار کرلیاجائے اِسے خدا سے تعلق سا ربط کہتے ہیں ملے بغیر اگر اعتبار کرلیاجائے وہ جس کے حُسن سےپیہم فساد جاری ہے اُسے بھی فتنہ گروں میں شمار کرلیاجائے تمہارے چہرے سا چہرہ، تمہارے کام سا کام تمہارا نام بھی اب اختیار کرلیاجائے میں یوں تو بس ابھی جانے کے انتظام میں ہوں ذرا سا اور ترا انتظار کرلیاجائے سجا کے جیت کے تمغےتو سب ہی آتے ہیں مزہ تو جب ہے کہ انعام ہار کرلیاجائے - [اظہارِ ذات اور معرفتِ نفس میں فرق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%90-%d8%b0%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d9%81%d8%aa%d9%90-%d9%86%d9%81%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b1%d9%82%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): اظہارِ ذات اور معرفتِ نفس میں فرق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 10 اپریل 2020 بے لوث ہونا بڑا مشکل کام ہے۔ کانٹ سے کسی نے پوچھا کہ ’’آپ نے شادی کیوں نہیں کی‘‘تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’’شادی اور بچوں سے انسان کی زندگی میں جو لوازمات داخل ہوجاتے ہیں ان کی وجہ سے اپنے تحقیقی کام میں غیر جانبدار رہنا ناممکن ہوجاتا ہے‘‘۔ یعنی انسان بال بچے دار ہوگا تو اُسے کئی مواقع پر سفارش یا تعلق داری کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اپنے لیے نہ سہی اپنے بچوں کے لیے سہی۔ اپنے قُوت لایموت کے لیے سہی۔ انسان اُس طرح بے - [فکرعقلی عمل ہے لیکن اندازِ فکر جذباتی۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%81%da%a9%d8%b1%d8%b9%d9%82%d9%84%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84-%db%81%db%92-%d9%84%db%8c%da%a9%d9%86-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b2%d9%90-%d9%81%da%a9%d8%b1-%d8%ac%d8%b0%d8%a8%d8%a7%d8%aa%db%8c/): فکرعقلی    عمل ہے  لیکن   اندازِ فکر   جذباتی۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 11 اپریل 2020 فکرعقلی عمل ہے لیکن اندازِ فکرجذباتی۔فکرکے لیے عقل استعمال ہوتی ہے لیکن اندازِ فکر کے لیے جذبات۔ فکر کے عمل سے نتائج وجود میں آتے اورذخیرۂ علم میں اضافہ ہوتاہے لیکن جذبات کے متواتراظہارسے مزاج مرتب ہوتاہے اور شخصیت اپنی شناخت کے راستے پر آگے بڑھتی ہے۔ اندازِ فکر یعنی سوچنے کا انداز جذباتی عمل ہےجبکہ بذاتِ خود فکر یعنی سوچنا عقلی عمل ہے۔ ایک لحاظ سے یہ فکر اور جذبات کا مقامِ اتصال ہے، یعنی اندازِ فکر۔مثلاً اندازِ فکر مایوس ہوسکتاہے جسے قنوطی کہتے یا اندازِ فکر اُمید پسند - [مسئلہ تقدیر و اختیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%aa%d9%82%d8%af%db%8c%d8%b1-%d9%88-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3/): مسئلہ تقدیر و اختیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 11 اپریل 2020 جہاں تک تقدیر اور اختیار کے مسئلہ کا تعلق ہے تو تقدیر کے حق میں ہمیشہ سے زیادہ وزنی دلائل موجود رہے ہیں۔ خاص طور پر انسان اس دنیا میں اپنے آنے اور جانے پر قادر نہیں تو درمیانی مدت پر کیسے قادر ہوسکتا ہے۔ جیسے خواب میں ہم نہیں جان سکتے کہ ہم ایک خاص ماحول میں کہاں سے نمودار ہوگئے، ہم بیداری میں بھی اپنے بارے میں نہیں کہہ سکتے کہ ہم یہاں، اِس دنیا میں کیسے اور کیونکر نمودار ہوگئے۔ ہمیں بس کسی کی گواہی پر یقین کرنا پڑتا - [انفرادی شناخت اور اظہارذات میں فرق۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%ae%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%a7%d8%b1%d8%b0%d8%a7%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b1%d9%82%db%94%db%94%db%94/): انفرادی شناخت اور اظہارذات میں فرق۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 12 اپریل 2020 انفرادی شناخت الگ چیز ہے اور ذات الگ ۔ انسان کا جوھر تیار ہوتے ہوتے بھی برسوں نکل جاتے ہیں۔ ہرانسانی بچہ محض اظہار ِ ذات سے آغاز کرتا ہے، کسی مخصوص شناخت سے نہیں۔ اُس کا جوھر اُس کی مخصوص شناخت کو الگ کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ محض ذات کا اظہار کیا ہوگا؟ دراصل جوھر کی تلاش کا عمل تب ہی ممکن ہے جب وہ مختلف جوھریوں کو سونپ سونپ کر پرکھوایا جائے۔ بچہ ابتدا سے ہی اپنی ہر اُس بات کو نکھارنا چاہتا ہے جو اُس کے - [کچھ لوگ جو جاتے ہیں پلٹتے ہی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%da%a9%da%86%da%be-%d9%84%d9%88%da%af-%d8%ac%d9%88-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%84%d9%b9%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%ba%db%94%db%94%db%94/): کچھ لوگ جو جاتے ہیں پلٹتے ہی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 18 اپریل 2020 کچھ لوگ جو جاتے ہیں پلٹتے ہی نہیں ہیں اور اُن کے بِنا دن ہیں کہ کٹتے ہی نہیں ہیں بکھرے ہی کچھ ایسے ہیں کہ کیا شعر کہوں میں؟ گیسو ترے لفظوں میں سمٹتے ہی نہیں ہیں ماتھے پہ جو آئے ہیں یہ ہاتھوں سے ہٹا لوں پَر، بال جو شیشے میں ہیں ہٹتے ہی نہیں ہیں میں راستہ بھٹکوں تو چلے آتے ہیں جگنو شاہیں ترے صحرا کے جھپٹتے ہی نہیں ہیں چلتے ہیں ترے نقش ِ قدم پر بھی بصد شوق ہم صرف تری رہ - [اسلم چشتی۔(سلسلہ: ایک عام آدمی کا تعارف: قسط نمبر2)](https://idrisazad.com/blog/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%86%d8%b4%d8%aa%db%8c%db%94%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%93%d8%af%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81/): (سلسلہ: ایک عام آدمی کا تعارف: قسط نمبر2) اسلم چشتی۔ 12 اپریل 2020 اللہ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ہمارے اسلم چشتیؒ کو۔ غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والا ہمارا ایک شاعر دوست جو بنیادی طور پرجلالی فقیر تھا۔ پورے شہر خوشاب میں ’’کوّے‘‘ کی طرح مشہور تھا۔ گرمیوں میں مکئی کی بھُنی ہوئی چھلیوں کی ریڑھی لگایا کرتا اور ساتھ ہی اپنی شاعری بآوازِ بلند گاتا تھا، جو چھلیّوں کے ذائقے اور خستگی کا قصیدہ ہوا کرتی تھی۔ سردیوں میں کوئلے کی مائین میں کام کرتا تھا۔ کوئلہ نکالنے والے مزدور کی حیثیت سے اُس نے مائینز کے - [اقرارِ خدا فلسفہ نہیں انسانی واردات ہے](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d9%82%d8%b1%d8%a7%d8%b1%d9%90-%d8%ae%d8%af%d8%a7-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d8%a7%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%aa-%db%81%db%92/): اقرارِ خدا فلسفہ نہیں انسانی واردات ہے 17 اپریل 2020 استاذی المکرم و محترم جناب جلیل عالی صاحب کی پوسٹ کہ “اقرارِ خدا فلسفہ نہیں انسانی واردات ہے” پر حسن نقوی صاحب کا تبصرہ کہ “فلسفہ بھی انسانی واردات ہے” اس پر جلیل عالی صاحب کی رائے کہ، ’’فلسفہ فکری فعلیت ہونے کے ناطے انسانی شخصیت کا جزوی ذہنی عمل ہے۔ واردات پوری شخصیت کا تجربہ ہوتا ہے۔ خدا کا اقرار صرف ذہنی عمل نہیں ۔ عقلی دلیل کے بغیر بھی انسان خدا کی موجودگی کا احساس جیتا ہے ۔ آسانی کے لیے ادبی تجربے کی کلیت اور فلسفے کی جزویت - [امکانات کے شمار کی صلاحیت یا صاحبِ تکوینیات۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%db%8c%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d9%90-%d8%aa%da%a9%d9%88%db%8c/): امکانات کے شمار کی صلاحیت یا صاحبِ تکوینیات۔۔۔۔۔ادریس آزاد 19 اپریل 2020 لفظ “کُن” ، کائنتات، تکوین ، تکوینیات، کون (و مکاں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ ایک ہی مادے سے برآمد ہوتے ہیں۔ روایتی تصوف میں ایک اصطلاح ہے، “صاحبِ تکوینیات”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایسا سالک جس کو اشیأ کی حالت میں تبدیلی لانے پر قدرت حاصل ہو۔ روایتی تصوف میں یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ صاحبان ِ تکوینیات کو تکوینیات میں دخل ہے۔ یعنی وہ چاہیں تو بارش ان کے حکم پر برسے، چاہیں تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ فلمی اداکار جب نئے نئے فلموں - [عقل عادی ہے نارسائی کی۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b9%d9%82%d9%84-%d8%b9%d8%a7%d8%af%db%8c-%db%81%db%92-%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): عقل عادی ہے نارسائی کی۔۔۔۔۔ادریس آزاد عقل عادی ہے نارسائی کی دل نہیں مانتا جُدائی کی طوق نکلے ہیں چابکیں نکلیں جس دفینے کی جب کھدائی کی یہ غلامی کی یادگاریں ہیں توڑ دے چوڑیاں کلائی کی تم نے تاروں کو رہنما جانا ہم نے تاروں کی رہنمائی کی کون جانے کہ کیسے دلہن کو رسم لگتی ہے منہ دکھائی کی مست ہیں سب خدا خدا کرتے بات کرتے نہیں خدائی کی اُس نے زیروزبر نہیں چھوڑے حد ہوئی حرف آزمائی کی ہم گنہ گار تھے گناہ کیے پارساؤں نے پارسائی کی ہم کہ آزاد ؔہونہیں پائے گانٹھ کھلتی نہیں تھی - [مساجد میں اذانوں کی مدد سے عوامی آگاہی کی مہم کو تیز تر کیا جاسکتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%ac%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b0%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af-%d8%b3%db%92-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%93%da%af%d8%a7%db%81%db%8c/): مساجد میں اذانوں کی مدد سے عوامی آگاہی کی مہم کو تیز تر کیا جاسکتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 مارچ 2020 مثلاً اگر، مساجد کے سپیکروں سے صبح شام اعلانات کیے جائیں کہ لوگو! اپنے اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کر اللہ اللہ کرو! یہی سب سے بڑی نیکی اور بھلائی کا کام ہے۔ اگر تم اپنے گھروں میں سکون سے چند دن بیٹھے رہوگے تو تمہارا نام قوم کے غازیوں کی فہرست میں شمار کیا جائےگا اور تمہی کو ہیرو مانا جائےگا کہ تم نے سب کی بقا کے لیے موذی وائرس کی زنجیر کو درمیان میں توڑنے میں مدد کی - [مابعدیات۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d9%85%d8%a7%d8%a8%d8%b9%d8%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): مابعدیات۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 19 اپریل 2020 زمین خالی پڑی ہوئی ہے کوئی نہیں ہے تمام انسان مرچکے ہیں درخت پھر سے سنور چکے ہیں سمندروں میں حیات باقی ہے مچھلیاں گیت گارہی ہیں اکیلے رستوں پہ اور کوئی نہیں سوائے فسردہ پیلے نحیف پتّوں کی آہٹوں کے کوئی درندہ نہیں بچاہے کوئی چرندہ، کوئی پرندہ نہیں بچاہے سنا ہے اُن بانس کے درختوں میں سنسناتی ہوئی ہواؤں سے بجنے والی فراق روتی ہوئی کسی بانسری کی لئے پر وہاں وہی سانپ ہے کھڑا رقص کررہا ہے جو عہدِ فردوس میں رفیق سفر ہوا تھا وہ جس کی باتوں سے ہار کے میں - [تحیّر سے مُکرتی ہوئی آنکھ۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%aa%d8%ad%db%8c%d9%91%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%8f%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%93%d9%86%da%a9%da%be%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): تحیّر سے مُکرتی ہوئی آنکھ۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 24 اپریل 2020 حسن خود شاہد ِ اوّل بھی ہے اعظم بھی ہے حسن خود دیکھتاہے اپنی حسیں آنکھوں سے حسن خود چنتا ہے ناظر اپنے کون دیکھے گا اُسے کون نہ دیکھے گا اُسے کس کی موجودگی میں پردہ گرانا ہے اُسے کس کے ہوتے ہوئے چہرے کو چھپانا ہے اُسے کس کی آنکھوں سے جھلکتے ہوئے شکووں پہ عنایت کی نظر کرنی ہے کس کی بے باک نگاہی پہ تڑپنا ہے مزہ لینا ہے کس کو حق دینا ہے اور چھیننا ہے کس سے حق کس کی نظروں کو ہٹانا ہے پرے جلوۂ - [خدا وہی ہے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%ae%d8%af%d8%a7-%d9%88%db%81%db%8c-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): خدا وہی ہے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 25 اپریل 2020 خدا وہی ہے ۔۔ ہزارناموں کےساتھ دنیا میں رہنے والا وہ اجنبی جو ہزارہا سال سے یہاں رہ رہا ہے اور پھر بھی اجنبی ہے کسی کا شکوہ ہے کون پہچان پائے اُس کو؟ جب اس کے چہرے ہزارہیں اور ہزارچہروں میں کوئی چہرہ بھی اُس کا اپنا نہیں ہے اورپھر ہرایک رنگ اور روپ میں وہ جُدا جُدا ہے تو کون جانے کہ وہ خُدا ہے؟ پھر اس کے چہروں میں ایک چہرہ جو بول سکتا تھا اور سوالوں کو تول سکتا تھا مسکرایا مجھے بتایا کہ آدمی مچھروں کے، مکھیوں کے دیکھنے - [خوب تھا دونوں کا رشتہ شام تک۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%ae%d9%88%d8%a8-%d8%aa%da%be%d8%a7-%d8%af%d9%88%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%b4%d8%aa%db%81-%d8%b4%d8%a7%d9%85-%d8%aa%da%a9%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): خوب تھا دونوں کا رشتہ شام تک۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 27 اپریل 2020 خوب تھا دونوں کا رشتہ شام تک لے گئی دیوار سایہ شام تک کون جانے کس قدر تھا جاں گُسل کشٹ جو سورج نے کاٹا شام تک اُس کی آنکھیں دیکھ کر ایسا لگا جھیل سے نکلے گا دریا شام تک شام تک آئیگا وہ اُس نے کہا بیت جائے گا زمانہ شام تک شہر کے جنگل میں حسبِ آگہی زندگی کا مور ناچا شام تک دُور پربت پر کہیں، کوہ ِ ستم برف پر سورج نے توڑا شام تک(۱) تم نہیں آئے تھے چندا! اس لیے آج بھی سورج - [تسلی کے دوبول۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%aa%d8%b3%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88%d8%a8%d9%88%d9%84%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): تسلی کے دوبول۔۔۔۔۔ادریس آزاد 26 مارچ 2020 ہم سب پریشان ہیں کہ ایک چُڑیل بال کھولے ہمارے ویران گلی کوچوں میں ناچ رہی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو سینوں سے چِپکائے کونوں کھدروں میں چھُپے بیٹھے ہیں کہ کہیں یہ بَلا ہم تک نہ آپہنچے اور اِس آسیب کا ہاتھ ہمارے بچوں ، بیمار والدین اور ہمارے جیون ساتھیوں کو نہ چھُو لے۔ ہم ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں ہم کورونا دیوی کے کرودھ کا شکار ہو کر مرہی نہ جائیں۔ یہ دن تاریخ انسانی میں یاد رکھے جائیں گے۔ صدیوں بعد بھی ہمارا ذکر ہوا کرےگا۔ صدیوں بعد بھی وحشت - [ایسا عالم ہے بے نیازی کا جس میں کوئی نیازوناز نہیں۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%a7%db%8c%d8%b3%d8%a7-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%db%81%db%92-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%b2%d9%88%d9%86/): ایسا عالم ہے بے نیازی کا جس میں کوئی نیازوناز نہیں۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 2 جون 2020 امریکہ میں جارج فلائیڈ کے قتل کی وجہ سے مسلسل احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ امریکی پولیس کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے امریکی عوام گورے کالے کی تمیز کے بغیر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لوگوں نے کورونا کو بھلا دیا ہے۔ وائیٹ ہاوس کے سامنے مظاہروں سے لے کر دور دراز کی ریاستوں تک مختلف چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ جن میں کہیں کہیں ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ ایک جگہ ایک ٹینکر ڈرائیور نے مظاہرین پر ٹینکر چڑھا دینے جیسی رفتار سے - [جس کی تحریر میں تقریر کی لذت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%ac%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%82%d8%b1%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%b0%d8%aa-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94/): جس کی تحریر میں تقریر کی لذت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 2 جون 2020 جس کی تحریر میں تقریر کی لذت نہیں ہے اُس کو اِک لفظ بھی لکھنے کی اِجازت نہیں ہے کل، کہ دنیا کی کسی چیز سے نفرت نہیں تھی آج دنیا کی کسی شئے سے محبت نہیں ہے ذرّۂ نُور ہوں، ہستی ہے مری سب سے الگ میری حالت پہ کسی چیز کی حالت نہیں ہے آپ نے آج بھی اظہار کیا ہے لیکن آپ کے لہجے میں وہ پہلی سی شدت نہیں ہے دل کی سُنتا ہوں تو لگتاہے خدا کی سُنی ہے یوں ہی تواپنی رگِ - [معنویت نہیں ہے، معنی میں۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d9%85%d8%b9%d9%86%d9%88%db%8c%d8%aa-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%92%d8%8c-%d9%85%d8%b9%d9%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/): معنویت نہیں ہے، معنی میں۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 29 اپریل 2020 معنویت نہیں ہے، معنی میں کتنا اونچا ہے آسمان ترا سارا عالم تری تلاش میں ہے اور کوئی نہیں مکان ترا سراُٹھا کر جیے یقین کے ساتھ دِل میں چھُپ کررہا گمان ترا ایک موہوم سا خیال ہے تُو پھر بھی رہتاہے صرف دھیان ترا ادریس آزاد   - [تصور کریں کہ اگر ایسا ہو۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%81-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%b3%d8%a7-%db%81%d9%88%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2/): تصور کریں کہ اگر ایسا ہو۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد اگر پوری دنیا ورچول ورلڈ میں بدل جائے، لوگ مخصوص قسم کے چیمبروں میں لیٹ جائیں، خوراک داخل اور خارج کرنے کے لیے جسموں کے ساتھ پائپ نصب ہوں۔ شیشے کے ٹب نما کیبنوں میں لیٹے ہوئے لوگ، پوری دنیا میں ورچولی گھوم رہے ہوں۔ اس موضوع پر بہت پہلے ایک فلم دیکھی تھی، ’’ سروگیٹس‘‘۔ آج کل اس فلم کے مناظر نظروں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ ورچول رئیلٹی اور ظاہری رئیلٹی میں فرق اتنا سا ہی ہے کہ ایک میں ہم کسی چیمبر میں لیٹے ہوئے نہیں ہیں اور دوسری میں لیٹے - [روح اور معنی ہم جنس ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%b1%d9%88%d8%ad-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b9%d9%86%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%ac%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2/): روح اور معنی ہم جنس ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 2 مئی 2020 لفظ جسم کی مانند ہے اور معنی رُوح کی مانند ۔ الفاظ میں معانی کے امکان کی حیثیت اور مقام بھی وہی ہے جو جسم میں روح کی حیثیت اور مقام ہے۔ جیسے الفاظ میں معنی ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے، اور نہ ہوتے ہوئے بھی ہوتے ہیں، بعینہ ویسا ہی، روح بھی جسم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ ایک مرتبہ میں آئی بی اے سکھر کے ایک دو دوستوں کے ساتھ ویڈیو کال میں آن لائن تھا جب اُنہوں نے سوال کیا کہ ’’رُوح کیا ہے؟‘‘ تو میں نے جواب - [غمِ فراق۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%ba%d9%85%d9%90-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%82%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): غمِ فراق۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 4 مئی 2020 غم فراق بھی بہروپیے سے کم تو نہیں یہ صرف نام کا غم ہے یہ کوئی غم تو نہیں غم فراق تجھے درد ِ سَر سے کیا مطلب؟ غم ِ فراق! کسی کے جگر سے کیا مطلب؟ کہ جس وصال کو سمجھا گیا علاج ِ فراق وہ کون یار کا ملنا ہے؟ جانیے کیسے؟ اُڑی نظر کو طلبگار مانیے کیسے؟ ستم تو یہ ہے تجھے احتیاج کوئی نہیں ستم تو یہ ہے کہ تیرا علاج کوئی نہیں غم ِ فراق! مری جان چھوڑ دے یارا! کہ تُو نے جتنا بھی مارا بہت بُرا مارا ادریس - [خدا غارت کرے دیوار و در کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%ae%d8%af%d8%a7-%d8%ba%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%b1%db%92-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%88-%d8%af%d8%b1-%da%a9%d9%88%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): خدا غارت کرے دیوار و در کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 4 مئی 2020 خدا غارت کرے دیوار و در کو بوجھ بن کر میرے سرپر جو کھڑے رہتے ہیں دن بھر شور کرتے ہیں بہت تکلیف دیتے ہیں۔۔ خدا غارت کرے سب ناصحوں کو جن کی محنت سے یہ اخلاق و مروت جیسے موذی جھوٹ اِس دنیا میں رائج ہیں یہ سارے خودکشی کے وہ طریقے ہیں جنہیں جائز سمجھ کر ہر کوئی کرتاہے اور مرتا ہے ٹکڑوں میں۔۔۔ خدا غارت کرے ممنون کرنے والے یاروں کو خدا غارت کرے ایسے سہاروں کو۔۔۔ خدا غارت کرے تہذیب کو جس کے تسلط نے ہماری - [خواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%a8%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): خواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 7 مئی 2020 جب شبِ غم میں بکھر جاتا ہے شیرازہ ء دِل آنکھ میں چپکے سے کھُل جاتا ہے دروازہ ء دِل ظرف اُمّید کی کرنوں سے چھلک جاتا ہے راستہ لوٹ کے آتے ہی بھٹک جاتا ہے گوشہء دِل سے ترا خواب اُمڈ پڑتا ہے ایک سویا ہوا سیلاب اُمڈ پڑتا ہے دیکھتا ہوں میں تجھے ٹوٹا ہوا ، پھوٹا ہوا بال بکھرے ہوئے، سرمایہ ء تن لوٹا ہوا تیرے چہرے پہ فسوں کاریء ایّامِ عدم تیری آنکھوں میں بسی وحشتِ صحرائے ستم تیری پوشاک کہ اوراقِ مقدس کا غلاف جیسے درویش کے تن پر کوئی بوسیدہ - [کون بھاری، قاری یا لکھاری؟۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%8c-%d9%82%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%8c%d8%a7-%d9%84%da%a9%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): کون بھاری، قاری یا لکھاری؟۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 25 اپریل 2020 لکھاری قاری کے لیے لکھتاہے۔ قاری کے بغیر لکھاری کا تصور محال ہے۔ ممکن ہے کوئی لکھنے والا کسی کے لیے نہ لکھتاہو۔ بعض لوگوں کو کہتے سناہے کہ وہ کسی کے لیے نہیں لکھتے صرف اپنے لیے لکھتے ہیں۔ اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔ صرف اپنے لیے کس طرح لکھا جاتاہے۔ ہاں ایک صورت ہے۔ ہم جیسے ریمائنڈر لگاتے ہیں۔۔۔ تو اپنے لیے ہی لکھتے ہیں۔ گویا ڈائری لکھنا بھی اپنے لیے لکھنا ہوسکتاہے اور اگر اتنا ممکن ہے تو پھر مضمون اور کتابیں بھی اپنے لیے لکھی جاسکتی ہیں۔ - [ایگزسٹینشلزم‘‘ اور ’’نائی ہِلزم یا نی ہِلزم‘‘ کا بنیادی فرق۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%db%8c%da%af%d8%b2%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%86%d8%b4%d9%84%d8%b2%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%81%d9%90%d9%84%d8%b2%d9%85-%db%8c%d8%a7/): ایگزسٹینشلزم‘‘  اور ’’نائی ہِلزم یا نی ہِلزم‘‘  کا بنیادی فرق Difference between Existentialism and Nihilism 20 مئی 2020 “ایگزسٹینشلزم” اور”نائی ہلزم    یا  نی ہلزم” کا بنیادی فرق پہلے مرحلے میں کوئی نہیں۔بلکہ اگلے مرحلے میں موجود ہے۔ ایگزسٹینشلزم اور نائی ہِلزم دونوں کا پہلا مرحلہ یہ ہے، ’’زندگی میں کوئی معنیٰ نہیں ہیں اور دنیا میں انسان کا وجود بے مقصد ہے‘‘ لیکن دوسرے مرحلے میں دونوں فلسفیانہ تحریکوں میں فرق واضح ہوجاتاہے۔ نائی ہِلزم یہ مانتا ہے کہ ’’انسانی زندگی کا کوئی معنی اور مقصد نہیں اور نہ ہی کبھی پیدا کیا جاسکتاہے‘‘۔ اس کے برعکس ایگزسٹینشلزم یہ مانتاہے کہ - [فریڈم آف سپیچ یا برداشت کا امتحان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/iqbal/%d9%81%d8%b1%db%8c%da%88%d9%85-%d8%a7%d9%93%d9%81-%d8%b3%d9%be%db%8c%da%86-%db%8c%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%a7%d9%86%db%94%db%94%db%94%db%94/): فریڈم آف سپیچ یا برداشت کا امتحان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 1 جون 2020 فریڈم آف سپیچ یہ ہے کہ آپ کھُل کر بولو! اور جب آپ کے ’’کھل کر بولے ہوئے‘‘ پر کوئی اور ’’کھل کر بولے‘‘ تو پھر آپ اُسے سہہ سکو تو ٹھیک، ورنہ پھر کھل کر بولو! دوبارہ جب آپ کے ’’کھل کے کر بولنے‘‘ پر کوئی آپ کے خلاف ’’کھل کر بولے‘‘ تو سہہ سکو تو ٹھیک، ورنہ پھر کھل کر بولو! علی ھٰذالقیاس خیر! جب یہ سلسلہ اِسی طرح چلتا رہا تو اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ آپ دونوں فریقین بالآخر گالی گلوچ پر آجاؤگے۔ اب - [پرسیپشن اور ہماری زومبی زندگیاں،،،،ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%be%d8%b1%d8%b3%db%8c%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b2%d9%88%d9%85%d8%a8%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c%d8%a7%da%ba%d8%8c%d8%8c%d8%8c%d8%8c%d8%a7/): پرسیپشن اور ہماری زومبی زندگیاں 25 مئی 2020 یہ بات کہ سارا معاملہ پرسیپشن کا ہے اتنی درست ہے جتنا درست ہونا کسی بھی درست ترین بات کو زیبا ہے۔ اور چونکہ یہ بات درست ہے اس لیے لازمی طور پر یہ بات بھی درست ہے کہ عہد بہ عہد بدلتا ہوا منطقی فہم ہماری آنکھوں کی عینکیں بھی بدلتا رہتا ہے۔ سب ہی یہی مثال دیتے ہیں کہ جب ہم زمین کو بچھا ہوا فرش اور آسمان کو ایک چھت تصور کرتے تھے تو وہ ایک طرح کا فہمِ منطقی تھا جو ہزاروں سال میں استوار ہوا تھا اور اس - [چاند ہر کہیں ایک جیسا دیکھاجائے۔۔۔۔۔۔۔فواد چوہدری کے بیان پر تبصرہ](https://idrisazad.com/blog/%da%86%d8%a7%d9%86%d8%af-%db%81%d8%b1-%da%a9%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ac%db%8c%d8%b3%d8%a7-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be%d8%a7%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): چاند ہر کہیں ایک جیسا دیکھاجائے۔۔۔۔۔۔۔فواد چوہدری  کے بیان پر تبصرہ 23مئی 2020 چاند ہر کہیں ایک جیسا دیکھاجائے تاکہ تمام مسلمانوں کی ایک عید ہو اور توحید یا وحدت کا نظارہ کیا جاسکے۔ ‘‘ یہ وہ نکتۂ نظر ہے جو مفتی فواد چودھری سے لے کر جنابِ غامدی تک سب بڑے مفکرین اور ماہرین سائنس و شریعت نے فی زمانہ اختیار کررکھاہے۔ لیکن بصد معذرت مجھے اس نکتۂ نظر یا مؤقف کے ساتھ شدید اختلاف ہے۔ میں کوئی مفتی تو نہیں ہوں لیکن میرا دِل کہتاہے کہ ایسا کرنا عین بدعت ہے۔ میری دانست میں چاند کو دیکھنا شعائر میں - [پھل بھی زخموں کی طرح پکتے ہیں، پھٹ جاتے ہیں۔۔۔۔غزل (ادریس آزاد)](https://idrisazad.com/litrature/%d9%be%da%be%d9%84-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b2%d8%ae%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%d9%be%da%a9%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba%d8%8c-%d9%be%da%be%d9%b9-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92/): پھل بھی زخموں کی طرح پکتے ہیں، پھٹ جاتے ہیں۔۔۔۔غزل (ادریس آزاد) 24 مئی 2020 پھل بھی زخموں کی طرح پکتے ہیں، پھٹ جاتے ہیں ہم یہی سوچ کے پیڑوں سے لپٹ جاتے ہیں تم توسچائی پہ تھے، کیوں نہ ٹھہرپائے تم اتنی سی دیر تو کذّاب بھی ڈٹ جاتے ہیں نیچے اُتروں تو زمیں روکتی ہے، نیچے نہ جاؤ اُوپر اُٹھوں تو فلک رستے سے ہٹ جاتے ہیں یہ توپھر وقت ہے ہرطورگزرجائےگا ریت کی دھار سے تو آئینے کٹ جاتے ہیں دِل کو میں اِس لیے رکھتا ہوں سدا پہلو میں کتنے غم چھوٹی سی تھیلی میں سمٹ جاتے - [کیا شادی بیاہ کی رونقیں پرانے دور کی فضولیات ہیں۔۔۔۔۔۔فواد چوہدری پر تبصرہ](https://idrisazad.com/blog/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%a7%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%88%d9%86%d9%82%db%8c%da%ba-%d9%be%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b6%d9%88/): کیا شادی بیاہ کی رونقیں پرانے دور کی فضولیات ہیں؟؟ 25 مئی 2020 ’’شادی بیاہ کی رونقیں پرانے دور کی فضولیات ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ عورت اور مرد کا ملاپ بغیرنکاح اور رسموں کے بھی ویسا ہی درست ہے جیسے رسموں اور نکاح کے ساتھ درست ہے اِس لیے جدید علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھرپورفائدہ اُٹھانا چاہیے اور اِن فضولیات سے بچنا چاہیے‘‘یہ مفتی فواد چودھری صاحب نے نہیں کہا۔ یہ میں کہہ رہا ہوں، طنزاً سائنس اور ٹیکنالوجی کو خدا بنالیا ہے ہم نے۔ ہمارے بعض جدت پسند اورلبرل دوستوں کو یوں تو اسلام سے چِڑ ہے، لیکن - [الفا اور بِیٹا ’’ڈِی کے‘‘ اور کاربن ڈیٹِنگ کا تعارف۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%a7%d9%84%d9%81%d8%a7-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%90%db%8c%d9%b9%d8%a7-%da%88%d9%90%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d9%86-%da%88/): الفا اور بِیٹا ’’ڈِی کے‘‘ اور کاربن ڈیٹِنگ کا تعارف 26 مئی 2020 بات یہ ہے کہ کبھی کبھار دو پروٹانوں اور دونیوٹرانوں پر مشتمل ایک ٹیم کو باہر خلا میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جاتاہے تو پورے نیوکلیس میں انتہائی پرتجسس ماحول ہوتاہے۔ کیونکہ چارلوگوں کی اِس ٹیم کے چلے جانے کے بعد پیچھے موجود نیوکلیس پہلے والا نیوکلیس نہیں رہتا۔ یہ اس کی زندگی بدل دینے والا موقع ہوتاہے اس لیے بڑے اہتمام سے منایا جاتاہے۔ اس موقعے کو کیمسٹری کی زبان میں ’’الفا ڈِیکے‘‘ کہتے ہیں۔الفاڈِیکے یہ ہے کہ کسی ایٹم کے نیوکلیس سے دو پروٹان اور دو - [اَدُھورا اعمالنامہ۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%a7%d9%8e%d8%af%d9%8f%da%be%d9%88%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7/): اَدُھورا اعمالنامہ۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 26 مئی 2020 میں اپنی فکری حیات کے ارتقأ کی آدھی صدی کے یوم الحساب میں ہوں مرے عمل کا ورق مرے دائیں ہاتھ میں ہے لکھاہے، میں عنفوانِ بچپن میں سوچتا تھا میں سوچتاتھا تو خود کو منظر سے کھینچ لیتا نکال لیتا اور اپنا منظر بنا کے اُس میں میں اپنی مرضی کے رنگ بھرتا میں دن بناتا تو روزِ روشن، مَیں شب بناتا تو چودھویں رات ہی بناتا نہ میری شب کالی رات ہوتی نہ میرے خورشید کی حرارت شدید ہوتی شجراگاتا، ہوا چلاتا پرندے شاخوں پہ گیت گاتے وہ میری جنت تھی میں نے - [اُسے کہو کہ مجھے اور مختصر نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%a7%d9%8f%d8%b3%db%92-%da%a9%db%81%d9%88-%da%a9%db%81-%d9%85%d8%ac%da%be%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%b5%d8%b1-%d9%86%db%81-%da%a9%d8%b1%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): اُسے کہو کہ مجھے اور مختصر نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27 مئی 2020 اگر انسان کے سامنے کائنات کے تمام راز کھل گئے اور وہ کائنات کے ہر پست وبلند سے واقف ہوگیا تو کیا کائنات ویسی ہوگی جیسا انسان نے اُسے سمجھ لیا؟ بالکل بھی نہیں۔ وہ کائنات کی فقط ایک تشریح ہوگی، یعنی انسان کی نگاہ سے دیکھی گئی کائنات۔ کسی اور طرح کے ناظر یا شاہد کی دیکھی ہوئی کائنات بالکل کسی اور شکل کی ہوگی بایں ہمہ یہ کہنا کہ انسان کبھی کائنات کا تمام علم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ حقیقی کائنات کو بھی جان جائیگا - [یہ دریا چل کے آیا ہے جہاں سے(نظم)۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%db%8c%db%81-%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%86%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a2%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92-%d8%ac%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%b3%db%92%d9%86%d8%b8%d9%85%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): یہ دریا چل کے آیا ہے جہاں سے(نظم)۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 27 مئی 2020 یہ دریا چل کے آیا ہے جہاں سے وہاں پربت کھڑے ہیں برف بردوش انہیں چھوتی ہیں جب سورج کی کرنیں تو بھرجاتی ہے دریاچے کی آغوش پگھلتی برف، بِلّوری سلاخیں جواں جھرنوں کا سرگم چھن چھنا چھن پہاڑی راگ بج اُٹھتا ہے گویا کوئی اُستاد کرتا ہے دھنادھن یہ جھرنے ہیں کہ چاندی کے کٹورے پریشاں ندّی ندّی گھومتے ہیں ندی پہ سر بہ سر سایہ فگن پیڑ اِسی بربط کی دھن پر جھومتے ہیں یہ وادی ہے جہاں سانپوں کے جوڑے چمکتی دھوپ میں آ بیٹھتے ہیں - [کنیز یا لونڈی دراصل کیا ہے؟](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%da%a9%d9%86%db%8c%d8%b2-%db%8c%d8%a7-%d9%84%d9%88%d9%86%da%88%db%8c-%d8%af%d8%b1%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/): کنیز یا لونڈی دراصل کیا ہے؟ 28 مئی 2020 طاہر بشارت صاحب کی پوسٹ، ’’کنیز یا لونڈی دراصل کیا ہے؟‘‘ پر سانول عباسی صاحب کا کمنٹ۔ حیران کُن اور چشم کُشا۔ ’’ قبلہ خاکسار کی رائے میں اسلام میں لونڈی سماجی خدمتگار کے علاوہ کچھ بھی نہیں اسلام نے لونڈیوں کو وہ تمام انسانی و سماجی حقوق دئے ہیں جو ایک انسان کا حق اس کی عزت نفس اس کا سماجی مقام بلند سے بلند کرنا اور اسے ایک بہترین انسان بنانے کے لئے بہت سے احکام ہیں جیسے ان پہ خدا نہ بن جاو ان سے بدکاری نہ کرواو انکے - [ایک دو دن کا بچہ سوتے میں ہنستا کیوں ہے؟۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d9%88-%d8%af%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%da%86%db%81-%d8%b3%d9%88%d8%aa%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%db%92%d8%9f/): ایک دو دن کا بچہ سوتے میں ہنستا کیوں ہے؟ 28 مئی 2020 کل ارشد بھائی نے ایک موضوع چھیڑدیا کہ نومولود یعنی ایک دو دن کا بچہ سوتے میں ہنستا کیوں ہے؟ مُسکراتا یا روتا کیوں ہے؟ کیا ایک آدھ دن کا بچہ بھی کوئی یاداشتیں رکھتاہے، جو اس کے خواب بن سکیں؟ اور اگر اس کی یاداشتیں اِس جہان کی نہیں ہیں تو پھر کس جہان کی ہیں؟ کیا پیدائش سے پہلے وہ کسی اور جہان میں تھا؟ کیا جب ایک آدھ دن کا بچہ روتا ہے، مُسکراتا ہے، یا ہنستا ہے تو اُس کی یاداشتیں کسی گزرے ہوئے - [یہ عارض ،یہ لب و رخسار (نظم)](https://idrisazad.com/litrature/%db%8c%db%81-%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d8%b6-%d8%8c%db%8c%db%81-%d9%84%d8%a8-%d9%88-%d8%b1%d8%ae%d8%b3%d8%a7%d8%b1-%d9%86%d8%b8%d9%85/): یہ عارض ،یہ لب و رخسار 27 مئی 2020   یہ عارض، یہ لب و رخسار یہ خُوشُبو یہ دے جا وُو ہے تم محسوس کرتے ہو کہ تم نے یہ سماں پہلے بھی دیکھا ہے کسی کا خواب سچا ہو تو مطلب ہے کہ مستقبل میں ایسا واقعہ ہوگا اور ایسا واقعہ جو اِک جہاں یعنی ہمارے اِس جہاں میں ہونہیں پاتا وہ جھوٹا خواب ہوتاہے مگر مغرب میں کچھ اہل ِ ریاضی یوں بتاتے ہیں کہ ہم جیسی کئی دنیائیں ہیں اس سرزمیں جیسی زمینیں ہیں جہاں ہم ہیں ہمارے ان گنت بہروپ ہیں ہرروپ، ہر امکان میں ہم - [Haji Ismail (member) Rest in Peace](https://idrisazad.com/blog/haji-ismail-member-rest-in-peace/): حاجی اسماعیلؒ، آخری صدی کے لوگ ۔۔۔۔ کل حاجی اسماعیل ممبر، خوشاب میں وفات پاگئے۔ حکومت نے کہا اُنہیں ’’کورونا‘‘ تھا اور اُن کی وفات کورونا سے ہوئی، اِس لیے اُنہیں کورونا کے پروٹوکول کے ساتھ دفنایا گیا۔ لیکن میرا دِل گواہی دیتا ہے کہ اُنہیں کورونا نہیں تھا اوراُن کے ساتھ حکومت نے صریحاً زیادتی کی ہے۔ آپ چاہیں تو حاجی اسماعیل کو میرے ماموں یا چچا کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمارے ’’خونی رشتہ دار‘‘ نہیں تھے بلکہ حقیقی رشتہ دار تھے۔ میں جس محلے میں پیدا ہوا اور جہاں میں نے اپنا بچپن اور جوانی گزاری، اُس محلے - [Teri yaadon](https://idrisazad.com/litrature/poetry/teri-yaadon/): ﺗﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﻣﺤﻔﻞ ﮐﻮ ﮔﺮﻣﺎ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮩﯽ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﺍﻧﮕﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺩﮨﮑﺎ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺯﻕ ﺳﮯ، ﺣﺼّﮯ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮭﺎ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﺎﮨﻮﮞ ﺗﺮﯼ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﺗﮏ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﺎﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﺣﺴﻦِ ﺧﻠﻖ ﮐﺎ ﭘﺮﭼﮧ ﺑﮩﺖ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺒﻖ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﺍِﮎ ﺑﺎﺭ ﺩﮨﺮﺍ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﺎﮨﻮﮞ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ، ﺳﻔﺮﺩﺷﻮﺍﺭ، ﺭﺳﺘﮯ ﻧﺎﺗﺮﺍﺷﯿﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﺘﺎﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﮨﮯ، ﺭُﮐﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻤﮑﻦ ﺑﺲ ﺍِﮎ ﺩﻭ ﺻﻔﺤﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻧﻤﭩﺎ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﺎﮨﻮﮞ ﺗﺮﮮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺞ ﺩﮬﺞ ﮐﮯ ﺁﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ - [وجدان، علت و معلول سے ماوراہے](https://idrisazad.com/philosophy/intuition-is-beyond-causality/): برگسان اور پھر برگسان کےتتع ،لیکن اسلامی روایت میں اقبال، اس خیال کے مبلغ ہیں کہ وجدان علت و معلول سے ماورا ہے۔ جہاں تک میں اس بات کو سمجھ سکا ہوں۔ یوں ہے کہ وجدان جسے انگریزی میں اِنٹیوشن کہتے ہیں ایک کُلیتِ فہم ہے۔ ایک پرندہ اپنے گھر کا راستہ کیسے یاد رکھتا ہے؟ بقول برگسان ہم انسان اپنے گھر کا راستہ تو یوں یاد رکھتے ہیں کہ راستے کی تمام ترتصاویر بالترتیب یعنی علت و معلول کے حساب سے ہماری یاداشت میں محفوظ ہوتی ہیں۔ ہماری یاداشت میں ان کا ترتیب سے محفوظ ہونا اِس بات کا ثبوت - [مذہب کے خلاف الحاد کا بلند بانگ مقدمہ، ایک رواں تبصرہ](https://idrisazad.com/philosophy/atheist-argument-against-religion-a-lively-comment/): سچ تو یہ ہے کہ جتنا آرگومنٹ تھا عیسائیت کے خلاف، سارے کا سارا اُٹھا کر اسلام کے خلاف جڑدیاگیا۔ مذہبِ اسلام کے خلاف آرگومنٹ کی ضرورت تھی تو نیا آرگومنٹ ڈیولپ کیا جاتا۔ پرانا آرگومنٹ کیوں استعمال کیا گیا اور وہ بھی جُوں کا تُوں؟ پھر اسلام اورعیسائیت میں بہت کچھ فرق تھا۔ مذہب ِ عیسائیت کے خلاف جو آرگومنٹ یورپ کے مذہب مخالفوں نے صدیوں کی محنت سے تیار کیاتھا، وہ فقط مذہبِ عیسائیت کی مخالفت کا کام ہی ٹھیک سے انجام دے سکتا تھا، نہ کہ مذہبِ اسلام کی مخالفت کا۔ دورحاضر سے پہلے اسلام کے خلاف کسی - [اقبال کے ’’تصورروحانی جمہوریت‘‘ کی تفہیم سے پہلے کچھ تیاری](https://idrisazad.com/philosophy/iqbal-spiritual-democracy/): جمہوریت کا پہلا اورآخری دعویٰ عوام کی حکومت کا ہے۔ مزید تشریح پوچھی جائے تو کہا جاتاہے، عوامی نمائندوں کی حکومت۔ اس کے بعد پھر تشریح پوچھی جائےتو بتایا جاتاہے کہ وہ نمائندے جنہیں عوام خود منتخب کرے۔ لیکن عوام اُن نمائندوں کو منتخب کرتےہیں جو عوام کے سامنے بطور آپشن پیش کیے جاتے ہیں نہ کہ عوام کا انتخاب آزادانہ ہوتاہے۔ یہاں سے، یعنی شروع میں ہی بنیادی اور پہلا اُصول فسخ کردیا جاتاہے۔ اب ایسی کوئی صورت کہ عوام کے سامنے بزعم خود نمائندگی کے اُمیدواروں کے آپشنز نہ ہوں اور پھر بھی وہ نمائندے منتخب کریں، کیسے ممکن - [والعصر](https://idrisazad.com/litrature/%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b5%d8%b1/): اور والعصر کہ ہم شیشۂ ساعت میں نہیں ہیں کہ گریں اور والعصر کہ ہم کون و مکاں میں نہیں رہتے کہ اُٹھیں اور والعصر کہ بددل ہیں زمانے سے مگر ہم بھی اِک دور میں دل والے تھے اور والعصر کہ کہ ہروقت کھڑا رہتا ہوں صبح میں شام میں دوپہر میں سہ پہر میں ، مَیں پیر مٹی بھی نہیں چھوڑتے ہرلمحہ رُکا رہتا ہے ہرروز وہیں اور والعصر کہ تسلیم و رضا کافی نہیں ورنہ بادل نہ گرجتے نہ عیاں صورتِ ہم دوش ِ جہاں ہوپاتی یعنی وہ یار عزازیل، حلیفِ فطرت اور والعصر کہ یہ سارا خسارہ - [قصورواروالدین کے بے قصور بچے](https://idrisazad.com/philosophy/guilty-parents-and-not-guilty-children/): ہم بچے پیدا کرتے ہیں تو عین حیاتیاتی طریقےپر، جیسے تمام کے تمام جاندارکرتےہیں۔ انسانوں کے لیے کوئی خاص اخلاقی ضابطہ، فطرت نے وضع کیا اور نہ ہی کسی مذہب نے کہ اِس طریقے سے بچے پیدا کرو! مردعورت کا جوڑا بنتاہے، یاہماری زبان میں کہیں تو شادی ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد آنے والے شب و روز میں اُن دونوں کے درمیان جسمانی و ذہنی قربت کے مختلف مواقع آتے رہتے ہیں۔ ان مواقع میں وہ عین حیاتیاتی طریقے پر، وقت کے کسی لمحے میں اچانک، والدین بن جاتے ہیں۔ بالکل عام جانداروں کی طرح۔ کچھ بھی مختلف نہیں - [حیوانی خواہش کی اضافی تسکین](https://idrisazad.com/mysticism/extra-satisfaction-of-animal-desire/): اپنی عزت کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ جس انسانی کی اپنی نظروں میں کوئی عزت نہیں، اُس کی دوسرے انسانوں کی نظروں میں عزت کیسے ہوسکتی ہے؟ اور اگر دوسرے انسانوں کی نظروں میں عزت نہیں تو پھر خدا کی نظروں میں کیسے ہوسکتی ہے؟ اپنی نظروں میں عزت ہونے کا مطلب ہے کہ آپ اکیلے میں اپنے آپ سے آنکھ ملا سکیں۔ میں ضمیر نامی کسی عنصر سے واقف نہیں، لیکن ایک کیفیت سے واقف ضرور ہوں، جو ہر کیفیت سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یہ کیفیت عموماً حیوانی خواہشات یعنی شہوت اور اشتہأ کی نامکمل یا اضافی تسکین - [ویلنٹائن ڈے](https://idrisazad.com/litrature/prose/velentine-day/): اس بات میں ذرّہ بھر شک نہیں کہ ویلنٹائن ڈے ایک خالص کرسچین تہوار ہے۔اس دن کا اصل نام ہے سینٹ ویلنٹائن ڈے۔ عیسائی مذہب میں سینٹ کا مطلب ہوتا ہے بزرگ۔ انگلش کا سینٹ اور ہندی کا ”سنت“ ایک ہی معنی کے الفاظ ہیں۔ سینٹ ویلنٹائن نام کے کئی عیسائی بزرگ اور باخدا لوگ گزرے ہیں۔اسی طرح ویلنٹائن ڈے کے ساتھ بھی متعددکہانیاں منسوب ہیں، لیکن ان میں جس کہانی کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے وہ اُس پادری کی ہے جسے رومة الکبریٰ کی بت پرست حکومت نے سزائے موت دی تھی۔وکی پیڈیا کے مطابق……. روایتی طور پریہ وہ دن ہے - [کوانٹم بیالوجی کے عجائبات](https://idrisazad.com/physics/the-wonders-of-quantum-biology/): جِم الخلیلی برطانیہ کے ایک معروف سائنسدان ہیں۔ جِم کے والد عراق سے برطانیہ منتقل ہوئے اور وہیں بس گئے۔ جِم الخلیلی بی بی سی  اور دیگر میڈیا پہ خاصے متحرک ہیں اور انہوں نے سائنس،   بطور خاص فزکس اوربیالوجی  کے موضوعات پر بے شمار ڈاکومنٹریز بنائی ہیں۔اُن کا خاص میدان کوانٹم بیالوجی ہے۔ وہ اور ان کے ساتھی محققین اِس  کوشش میں ہمہ وقت مصروف ہیں کہ کوانٹم بیالوجی کو ایک علحیدہ ڈسپلن یعنی شعبۂ علم کا درجہ دلوایا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک مشہور کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے، ’’لائف آن دی ایج، دی - [وہ ایک اشک جو دنیا کو اشک بار کرے](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/one-tear-that-could-make-the-entire-world-cry/): انسانیت کو کسی عقلی نکتے پر اکھٹا کرنا ناممکن ہے جبکہ کسی جذباتی نکتے پر جمع کرنا نہایت آسان ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب جو بنیادی طور پر انسانیت میں اتحاد اور عالمگیر محبت کا داعی ہے، انسانوں کو جذباتی سطح پر متحد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس عقل کے تحت پرورش پانے والے ایسے نظام ہائے حیات جن کا منتہائے مقصود کسی عقلی نکتے یا نکات پر معاشرے کی تدوین ہے، منطقی طور پر ناممکن الحصول ہیں۔ مثال کے طور پر ’’فریڈم آف سپیچ‘‘ یعنی ہر ’’انسان کو بولنے کی آزادی ہے‘‘، ایک ایسا عقلی نکتہ ہے جس - [بدنصیب پرویز](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/unfortunate-parves/): ۸۲ سے تو میں بھی دیکھتا اور سنتا آرہاہوں ۔ لوگ پرویز کا نام لیے بغیر اُن کے افکار و خیالات بیان کرتے اور محفل در محفل اپنی علمی دھاک بٹھاتے چلے آرہے ہیں۔ ایک مرتبہ 25 بی گلبرک ، دفتر طلوع اِسلام میں مینجیر طلوع ِ اسلام جناب حسین قیصرانی (جو خیر سے اب میرے فیس بک فرینڈ بھی ہیں) اُن کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے مجھے ایک رجسٹر دکھایا ۔ یہ وہ رجسٹر تھا جس میں آؤٹ گوئنگ کتابوں کے اندراجات تھے۔ انہوں نے مجھے دکھایا کہ زیادہ تر کتب مسجدوں کے خطیبوں نے منگوائی ہوئی تھیں۔ - [معرکۂ جُزو و کُل](https://idrisazad.com/physics/controversy-between-einstein-and-neils-bohr/): کائنات کی ساخت سے متعلق آئن سٹائن اور نیل بوھر Niels Bohr کے درمیان ہونے والے، نہایت اہم اور بنیادی۔۔۔۔۔۔ طویل علمی مباحثہ کی داستان ۔۔ جدید فزکس اور جدید فلسفہ کے طلبہ کے لیے آئن سٹائن اور بوہر کے درمیان برپا ہونے والے معرکہ سے زیادہ کوئی شئے دلچسپ نہیں۔ علمی لوگوں کے اختلاف بھی علمی ہوتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بالکل برعکس سوچ رہے تھے۔ لیکن دونوں ایک دوسرے سے بے حد پیار کرتے تھے۔ کیونکہ بظاہر اگر بوھر کی entanglement درست تھی تو آئن سٹائن کی اضافیت relativity غلط تھی اور اگر آئن سٹائن کی اضافیت درست - [میرا عین الیقیں، حق الیقیں ہے](https://idrisazad.com/philosophy/instinct-intuition-belief/): فہم کی تین اقسام ہیں۔ ۱۔ فہم ِ غیر شعوری ۲۔ فہم ِ شعوری ۳۔ فہمِ حقیقی فہم ِ غیرشعوری، جیسا کہ ترکیب سے ظاہر ہے دراصل جبلت کے تحت سرزد ہونے والے اعمال و افعال کا دوسرا نام ہے۔ یہ فہم جانوروں کو بھی حاصل ہوتاہے۔ وہ غیر شعوری طور پر بہت سی باتیں جانتے ہیں۔ بطخ کا بچہ پہلے دِن جانتاہے کہ اُسے پانی کے تالاب میں کُود جاناہے۔ چُوزہ جانتاہے کہ چیل کی آواز سنتےہی ماں کے پروں تلے چھپ جاناہے۔ چوپائیوں کے بچے گھنٹے کے اندر اندر ماں کے تھنوں کو خود ہی ڈھونڈ کر دودھ پینا - [رینے گینوں کا قبولِ اسلام اور جلیل عالی صاحب کا نہایت اہم سوال](https://idrisazad.com/philosophy/rene-guenon-and-islam/): یہ غالباً 2006  کی بات ہے۔ ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے، عبدالقادر ناظر۔ فوج سے خطیبِ اعلیٰ ریٹائرڈ تھے۔ غضب کے منطقی تھی۔شطرنج  کھیلنا اور علمی موضوعات پر بحث کرنا اُن کا خاص مشغلہ تھا۔شطرنج اور بحث دونوں میں اپنے منفرد منطقی و عقلی  طرزِ فکر کی وجہ سے اکثر جیتتے بھی وہی تھے۔ ہاں تو میں عرض کررہاتھا کہ یہ غالباً 2006  کی بات ہے جب ایک  بار میں انہیں ملنے ملتان گیا۔ میں چونکہ 1997 کے بعد اُنہیں اب مل رہا تھا یعنی 2006 میں، سو مجھے معلوم نہ تھا کہ اس عرصہ میں کیا کیا تبدیلیاں اُن - [چاہت، مری مٹی میں عجب چھوڑ گیا ہے](https://idrisazad.com/litrature/chahat-meri-mitti-main-ajab-chhor-gaya-hay/): چاہت، مری مٹی میں عجب چھوڑ گیا ہے دل جل کے بھی خاشاک ِ طلب چھوڑ گیا ہے جب چھوڑ گیا تھا تو کہاں چھوڑ گیا تھا لوٹا ہے تو لگتا ہے کہ اب چھوڑ گیا ہے میں تیرا پجاری تھا مگر اے مرے خورشید! تو ڈھل کے مرے شہر میں شب چھوڑ گیا ہے پہنچا ہے مسیحائی کو اِس رہ سے گزر کر اس رہ کو مگر جان بلب چھوڑ گیا ہے ہم لذتِ آشوب کے رسیا ،ترے غمدار تو سینے میں جینے کا سبب چھوڑ گیا ہے غم اُس کی جدائی کاتجھے مار نہ ڈالے اب تو بھی اُسے - [مقاصد حیات اور اقدار کا ارتقأ](https://idrisazad.com/philosophy/evolution-of-purpose-in-life/): عملی زندگی میں مقصد کی عدم موجودگی فرد کو کس قسم کے نفسیاتی تجربے سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس کا احساس مجھے دو قسم کے مواقع پر ہوتارہا۔ نمبر۱۔ جب مقصد پورا ہوجائے اور کرنے کو کچھ نہ بچے۔ نمبر۲۔ جب کوئی عزم فسخ ہوجائے اور ایک عارضی کیفیتِ قنوطیت دِل کو گھیر لے۔ یہ ایک کرب ناک حالت ہے۔ بہت ہی کربناک۔ اگرکوئی ریسرچ کرے تو مجھے یقین ہے کہ نناوے فیصد خودکشی کے واقعات کے پیچھے یہی نفسیاتی کیفیت کارفرماہوتی ہے۔ اس معاملے کو ’’دلیل ِ غائی‘‘ سے ہٹ کر دیکھنا چاہیے۔ دلیل ِ غائی فلسفے کا سامان ہے۔ - [ذریعۂ علم، وجدان یا عقل؟](https://idrisazad.com/philosophy/source-of-knowledge/): جذبات جو بظاہر سطحی سی چیز ہیں کہ زندگی کی ابتدائی ارتقائی منزلوں میں پہلے جذبات پیدا ہوئے اور اِس لیے یہ جانوروں میں بھی پائے جاتےہیں جبکہ عقل و شعور فقط انسانی خاصہ ہے فلہذا جذبات یقیناً کوئی کم تر چیز ہیں۔ کم تر نہیں تو عقل کے مقابلے میں ضرور کم تر ہیں۔ عقلی فیصلوں کے مقابلے میں جذباتی فیصلے بچگانہ ہوتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ پورا مؤقف مبہم ہے۔ جذبات خود ایک مبہم اصطلاح ہیں۔ ایسی ہراصطلاح جس میں قطبین کا تعیّن ممکن نہ ہو ہمیشہ مبہم ہوتی ہے۔ مثلاً شخص کہتاہے، ’’پٹرول مہنگا ہوگیا‘‘۔ اس - [وہ ضبط جو اِس درد کے مارے میں نہیں تھا](https://idrisazad.com/litrature/%d9%88%db%81-%d8%b6%d8%a8%d8%b7-%d8%ac%d9%88-%d8%a7%d9%90%d8%b3-%d8%af%d8%b1%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%aa%da%be%d8%a7/): وہ ضبط جو اِس درد کے مارے میں نہیں تھا وہ آپ کے اَبرُو کے اشارے میں نہیں تھا ہر لفظ میں اُس کے, مری باتوں کی جھلک تھی اِک لفظ بھی اُس کا مرے بارے میں نہیں تھا میں نے تری دنیا کی ہرایک چیز خریدی پَر پیار کا سودا مرے وارے میں نہیں تھا وہ لُوٹ کے سب لے گیا اموال ِ محبت حیرت ہے کہ میں پھر بھی خسارے میں نہیں تھا میں نے اُسے چاہا تھا چکوری کی طرح سے وہ چاند مگر میرے ستارے میں نہیں تھا ادریس آزاد - [کچھ اور نہایت غیر سائنسی باتیں](https://idrisazad.com/philosophy/unscientific-talk/): میرا ذاتی خیال ہے کہ، ہرانسان کے بچپن میں ایک مخصوص سال ایسا آتاہے جس کے بعد سے وہ سوچنے لگتاہے کہ، ’’میں ایک خواب دیکھ رہاہوں اور کسی بھی وقت میری آنکھ کھل جائے گی تو میں واپس وہیں سے جاگ جاؤنگا، جہاں سویا تھا‘‘۔ وہ کئی سال تک ایسا سوچتا رہتاہے۔ پھر ایک مخصوص مدت کے بعد وہ ایسا سوچنا ترک کردیتاہے اور یہ سمجھنے لگتاہے کہ نہیں، وہ خواب نہیں دیکھ رہا بلکہ یہی حقیقت ہے اور اب سب کچھ بدل چکاہے۔ اگر میرا یہ ذاتی خیال درست ہے تو پھر ایک بات کی سمجھ آتی ہے کہ - [دولت کا ارتکاز اور ایک بار پھر ’’چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘ کی یاد](https://idrisazad.com/blog/capitalism-and-internet/): فیس بک کا سوشل نیٹ ورک، گوگل کا سرچ انجن، وکی پیڈیا کا انسائیکلوپیڈیا، یوٹیوب کا ویڈیو پورٹل، ٹوئٹر کا مختصربیانیہ اور پھُس پھُس پھُس۔ یہ آخری تین الفاظ طنزیہ نہیں لکھے، بلکہ یہاں پہنچ کر انجن میں تیل ختم ہوگیا تھا سو گاڑی بند ہوگئی۔ انٹرنیٹ اب فقط چند ویب سائیٹس کا ہی نام رہ گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا۔ الگ الگ ویب سائیٹس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ ہر چیز کی ویب سائیٹس ہوا کرتی تھیں۔ اب تو فیس بک پیج ہوتاہے۔ تب لوگ انٹرنیٹ کو انٹرنیٹ سمجھ کر استعمال کرتے تھے۔ اب لوگ انٹرنیٹ کو فیس بک - [جرمِ ضعیفی کی سزاکب تک؟](https://idrisazad.com/blog/the-crime-of-being-weak/): اس بارتوحکمران بھی طعنے مارتے ہوئے اُترے۔ہماری آنکھوں کے پانی زندہ ہوتے توذہنوں کو  سیراب کرتے۔ یہاں تو نہ آنکھوں میں پانی بچا ہے نہ لہُو میں وہ برقِ تپاں  جس کی وجہ سے اقبال اپنی کشتِ ویراں سے کبھی نااُمید نہ ہوسکا۔ گویا نہ پانی ہے نہ بجلی۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ سُورج سوا نیزے پر ہے لیکن سردیِ خونِ غزل سرا کا یہ عالم ہے کہ سانس درسانس  برفیں جمی ہیں۔کوئی تحریرنہیں، کوئی تقریر نہیں جوہمیں ہمارا کھویا ہوا اعتماد واپس دلاسکے۔جوہمیں اُس احساسِ کمتری سے باہر لاسکے جس نےہماری ہڈیوں کا گودہ تک سُکھارکھاہے۔ہرکوئی - [تیسری بارش](https://idrisazad.com/litrature/third-rain/): اب تک بارش برس رہی ہے یہ بارش بھی یاد رہیگی اس سے پہلے عمر کے اِن سارے سالوں میں تین ایسی برساتیں ہیں جو ہر بارش پر یاد آتی ہیں پہلی بارش سب سے اچھی بارش تھی وہ تب ہم دونوں ٹین ایجر تھے تم کھڑکی میں بیٹھی بظاہر اپنی اُن قاتل آنکھوں سے باہر کے اُس بھیگے منظر میں گُم صم تھیں لیکن چُپکے چُپکے اور وقفے وقفے سے میری جانب دیکھ رہی تھیں اورمیں نے ’’آداب عرض‘‘ کی اوٹ سے تم کو پکڑ لیا تھا جیسے آنکھوں میں وہ منظر وادی بن کر ٹھہر گیا ہو اُس دن - [ایک میں ساعت بدست](https://idrisazad.com/litrature/moment-in-hand/): دائرے میں گھومتے دن رات آتاوقت، جاتا وقت استمرار کے آثار سے آراستہ شئے کا زمانے سے گزر یہ واقعے، یہ حادثے ہرہرگھڑی، ہرپل کی ٹِک ٹِک اورسب معلول جن کی علّتیں ناقص دلیلِ کائناتی ہیں زمانہ، وہ زمانہ کون سا ہوگا؟ جہاں لمحات  کےجامد تراشے تہ بہ تہ رکھے نہ ہوں بلکہ جہاں سے چوکھٹہ درچوکھٹہ سب چوکھٹے اِک ساتھ دِکھتے ہوں وہ بُعدِ خامسہ جس  میں تسلسل کاتصور ختم ہوجاتاہے جس میں، رنگ کو تصویر کی حاجت نہیں رہتی جہاں سے ہرجہاں   پہلا جنم لے کر نکلتاہے اور اس کے بعد جنموں کے جنم لیتاہوا، دیتاہوا راہِ تسلسل کھول - [ہومواِریکٹس، گمشدہ کڑی](https://idrisazad.com/evolution/homo-erectus-missing-link/): اس میں دوسری رائے نہیں کہ انسان ہی زمین پر تمام مخلوقات سے زیادہ ہوشیار نوع ہے۔اس سے زیادہ دلچسپ امریہ ہے کہ ’’انسان زمین پر واحد انسان ہے‘‘۔یہ بات ذرا مبہم سی ہے۔ اس لیے اِسے دوسری طرح سے کرتے ہیں۔ زمین پر کُتے موجود ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ کُتے کئی ذیلی انواع میں منقسم ہیں۔شکاری کُتے، رُوسی کُتے، جرمن شیفرڈ، گلٹریا وغیرہ وغیرہ۔ اِسی طرح ہم جانتے ہیں کہ زمین پر بندر موجود ہیں لیکن بندر بھی کئی دیگر ذیلی انواع میں منقسم ہیں جیسا کہ ’’پرانی دنیا کا بندر‘‘ جوہمارے پاکستان میں پایا جاتاہے، اِسی طرح - [اسلام، ایک مذہب مخالف تحریک](https://idrisazad.com/iqbal/islam-anti-religion-movement/): رسول ِ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک بنیادی طور پر ’’مذہب مخالف‘‘ تحریک تھی۔ ابراھیمؑ سے لے کر عیسیٰؑ تک تمام نہیں تو زیادہ تر انبیأ کی جنگ اپنے وقت کے فراعین و نمارید کے ساتھ رہی یعنی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف۔لیکن اسلام اپنے وقت کی مذہبی پیشوائیت کے خلاف آیا اور کلمہ اسلام کا آغاز تمام خداؤں کے انکار سے کیا گیا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ انسانیت کے خلاف ہمیشہ تین بڑی قوتیں برسرپیکار رہی ہیں۔ ۱۔ جاگیردار ۲۔ سرمایہ دار ۳۔ مذہبی پیشوأ قران نے اپنے انداز میں ان قوتوں کو سمبولائز - [نیّت اور نفسیات](https://idrisazad.com/philosophy/intention-and-psychology/): انسانی نفسیات کو دنیا کا سب سے گہرا اور پیچیدہ علم سمجھا جاتاہے۔ زبان ابھی اِس قابل نہیں ہوئی کہ کسی کا حال ِ دِل بیان کرسکے۔ دنیا کی تمام تر تہذیبی ترقی کا دارومدار عمل پراور عمل کا دارومدار نیّت پر ہے، جبکہ نیّت تک رسائی کا کوئی معلوم طریقہ موجود نہیں۔ ایک انسان، بطور انسان صرف اپنی نیّت سے خود ہی واقف ہوسکتاہے۔ اگرچہ منطق کے پاس ایسے آلات ہیں جن کے استعمال سے موٹے موٹے معاملات میں نیّت کا کھوج لگایا جاسکتاہے۔ جیسا کہ بعض انفارمل مغالطوں کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے۔ لیکن زیادہ تر انسانی، نفسیاتی اعمال - [یادوں کے جھروکے سے](https://idrisazad.com/litrature/prose/yadon-k-jharokay-se/): بارہ بجے پی ٹی وی پرفلم آیاکرتی تھی۔ پڑوسیوں کا بلیک اینڈوائی ٹی وی تھا لیکن اباجی کی طرف سے ٹی وی دیکھنے کی شدید ممانعت تھی۔ اس لیے سردیوں کی کوئی فلم یاد نہیں لیکن گرمیوں کی ساری فلمیں یاد ہیں جو ہم نے اپنی چھت سے دیکھی تھیں۔چھت سے پڑوسیوں کا صحن صاف دِکھتاتھا۔وہ ہمارے لیے مناسب زاویے پر ٹی وی رکھ دیتے تھے، ایک سادہ سے میزپر۔ جس پر سندھی کڑاھی والا سفید رنگ کا میز پوش ہوتا اور اس پر ٹی وی۔’’پھول اور شعلے‘‘ میں نے اُسی دورمیں دیکھی۔ اس کے سارے گانے آج بھی مجھے ازبر - [تم جو روٹھے تو قیامت نے کہانی کردی](https://idrisazad.com/litrature/tum-jo-roothay-to-qayamat/): تم جو رُوٹھے تو قیامت نے کہانی کردی لازوالی مری اِک آن میں فانی کردی راز کا رشتہ بجُز درد نہیں، محرم ِ راز! تُو نے ہر ہر رَگِ بے تاب سیانی کردی کتنا روشن تھا وہ مَن موہنا لہجہ تیرا وقت کی دُھول نے تصویر پرانی کردی تُو نے تنہائی اُچھالی کہ کِیا بزم کو دَشت چشم ِ جاں ہم نے جَلائی ہے کہ پانی کردی میں تو خوش بخت بنا پھرتا تھا لیکن تُونے ایک ناخن سے مری زائچہ خوانی کردی اِس تری بے خبری نے مری خوشیوں کی بجائے مری تقدیر فقط آئینہ دانی کردی اتنی لمبی تو - [ڈِیلیڈ چوائس کوانٹم ایریزر](https://idrisazad.com/physics/delayed-choice-quantum-eraser/):   کوانٹم فزکس نے جس قدر عجیب الخلقت تصورات کو متعارف کروایا ہے اتنے تو کبھی مذہب نے بھی نہ کہے تھے ! مثلاً صرف ایک مثال، “Measurement in future causes particle to act differently in the past” Delayed choice quantum eraser یعنی، جب ڈبل سلٹ کے اِس پار پیمائش کرنے والا آلہ رکھا جائے تو رزلٹ ڈفرنٹ آتاہے۔ سائنسدانوں نے الیکٹران کو دھوکا دیا اور ڈبل سلٹ کے اُس پار یعنی دوسری طرف پیمائش کرنے والا آلہ لگا دیا۔ تب کیا ہوا کہ رزلٹ وہی تھا یعنی الیکٹران کا رویّہ ایسا تھا جیسے اُسے معلوم ہو کہ اُسے دیکھا جارہاہے۔ - [میوآنز اور ٹائم ڈائیلیشن](https://idrisazad.com/physics/muons-and-time-dilation/): سپیشل تھیوری آف ریلیٹوٹی میں ٹائم ڈائیلیشن کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت میوآنز کی زمین تک رسائی کا معاملہ ہے۔ میوآنز توانائی کے وہ ذرات ہیں جو خلا سے زمین پر آتے ہیں۔ ان ذرات کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ ایک میوآن ذرہ اپنی پیدائش کے 1.56 مائیکروسیکنڈز تک زندہ رہ سکتاہے۔ یہ اتنا مختصروقت ہے کہ میوآنز کے لیے کوئی سابھی لمباسفر طےکرنا ممکن نہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ میوآنز جب خلا میں پیدا ہوں تو وہیں مر بھی جائیں کیونکہ اُن کی کل عمر 1.56 مائیکروسیکنڈز ہوتی ہے، اور اس لیے یہ ناممکن ہے کہ کوئی میوآنز زمین - [وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/expanding-universe/): بات یہ ہے کہ سائنسدان پہلے یہ بات نہیں مانتے تھے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ البتہ قران نے چھٹی صدی عیسوی میں بتادیا تھا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ اور آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم اِسے مزید وسعت دے رہے ہیں‘‘۔ سائنسدان پہلے یہ مانتے تھے کہ کائنات پھیل نہیں رہی۔ خلا (سپیس) مطلق ہے۔ ٹائم مطلق ہے۔ یہ سب نیوٹن کی بتائی ہوئی سائنس تھی۔ اس سے ہٹ کر سوچنا پاگل پن سمجھا جاتا تھا ۔سائنسدان پہلے اس نکتۂ نظر کو اتنا بُرا سمجھتے تھے کہ آئن - [اُٹھو کہ وقتِ قیام آیا](https://idrisazad.com/blog/utho-keh-waqt-e-qayam-aaya/): میری نئی کتاب،   ’’اُٹھو کہ وقتِ قیام آیا‘‘ چھپ کر مارکیٹ میں آچکی ہے۔ ملنے کا پتہ : خزینۂ علم و ادب ، الکریم مارکیٹ اردو بازار لاہور فون: 04237211468 فون: 04237314169   - [ایک دریا تو مرے سامنے رکھاہواہے](https://idrisazad.com/litrature/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d9%88-%d9%85%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d9%85%d9%86%db%92-%d8%b1%da%a9%da%be%d8%a7%db%81%d9%88%d8%a7%db%81%db%92/): ایک دریا تو مرے سامنے رکھا ہوا ہے ایک دریا مرے اندر سے گزرتا ہوا ہے تم ہوئے جب سے زمانے کے، ہمیں چھوڑ گئے تم سے بچھڑے ہوئے اب ہم کو زمانہ ہوا ہے میں تو خوش تھاکہ ترے غم میں گزارونگا حیات! غم یہی ہے کہ ترا غم ہی تو بھولا ہوا ہے دل کے آئینے کا ہرعکس مری آنکھ میں ہے اشک بھی شیشہ ہے بس یہ ہے کہ بہتا ہوا ہے طنزکا، آنکھ کا، لفظوں کا، ادا کا اے دل! اُس نے ہر تیر ترے واسطے رکھا ہوا ہے کچھ وفا، کوئی مروّت، کوئی احساس نہیں ہم - [نئے عہد کی زبان کیا ہوگی؟](https://idrisazad.com/linguistics/the-language-of-new-age/): جب ہم سمائیلیز کے ذریعے اپنی کیفیاتِ ذہنی و قلبی اپنا میسج یا کمنٹ پڑھنے والے کو منتقل کرتے ہیں تو ہمیں اپنے کلیجے کے اندر ہی کہیں پتہ چل جاتاہے کہ اگر اِس کی جگہ لفظ لکھتا تو اپنی کیفیت کا ٹھیک اظہار نہ کرپاتا۔ صدیوں سے انسانوں کی تمنّا رہی ہے کہ کاش انسان اپنی کیفیات بھی دوسروں تک پہنچا سکتا۔ ہماری زبانیں تو جھوٹ کی تفصیل، سننے والے تک پہنچاتی ہیں اور پہنچاتی رہی ہیں۔ وہ بات جو دل میں ہوتی ہے وہ کوئی کیسے جان سکتاہے۔ میں اکثر کوٹ کرتاہوں، اپنے لڑکپن کے ایک گمشدہ دوست شفیق - [لمحۂ تخلیق ](https://idrisazad.com/philosophy/moment-of-creation/): لمحۂ تخلیق زمانِ خالص سے زمانِ متسلسل میں وارد ہوتاہے۔ یا یوں کہیے کہ عالمِ امرسے عالمِ خلق میں تبدیل ہوکر مشہود ہوجانے والی تخلیق کا عین وہ لمحہ کہ جب وہ اپنے خالق کے فعل میں درآئے یا وجدان سے چھلک اُٹھے لمحۂ تخلیق کہلاتاہے۔ یہ اپنی تاثیر میں یکتا ہے۔ خوشی تو خوشی ہے۔ مُسرت اُس سے قدرے لطیف ہے لیکن سرشاری کی کیفیت ایک سعادت ہے۔ یہ مئے جیسی تاثیر کی حامل ہے۔ جیسے کوئی نشہ سا ہو۔ لیکن لفظ نشہ اِس کی احاطہ بندی کے لیے اتنا حقیر ہے کہ لمحۂ تخلیق کی اصلیت ہی دھندلانے لگتی - [](https://idrisazad.com/litrature/poetry/539/): گردن تہجدوں سے اُٹھائی نہ جاسکی سُورج کے ساتھ آنکھ ملائی نہ جاسکی میں رو دیا تھا اپنا سمجھ کے، تمہارے ساتھ تم سے بس اتنی بات چھپائی نہ جاسکی دل میں کوئی ملال مسلسل مقیم تھا کتنا ملا وصال، جدائی نہ جاسکی اُس آئینہ مثال کی آنکھوں میں اشک تھے اب تک وہ شکل مجھ سے بھلائی نہ جاسکی پھر، راہ سے بھٹکنے کے اتنے مقام تھے اپنی ہی داستان سنائی نہ جاسکی بس درمیان ایک وہ باقی تھا ’’فاصلہ‘‘ دیوار ِ اعتبار گرائی نہ جاسکے ٹوٹی نشستِ دِل تو محبت کی آبرو واپس اُسی مقام پہ لائی نہ جاسکی - [](https://idrisazad.com/litrature/poetry/559/): گردن تہجدوں سے اُٹھائی نہ جاسکی سُورج کے ساتھ آنکھ ملائی نہ جاسکی میں رو دیا تھا اپنا سمجھ کے، تمہارے ساتھ تم سے بس اتنی بات چھپائی نہ جاسکی دل میں کوئی ملال مسلسل مقیم تھا کتنا ملا وصال، جدائی نہ جاسکی اُس آئینہ مثال کی آنکھوں میں اشک تھے اب تک وہ شکل مجھ سے بھلائی نہ جاسکی پھر، راہ سے بھٹکنے کے اتنے مقام تھے اپنی ہی داستان سنائی نہ جاسکی بس درمیان ایک وہ باقی تھا ’’فاصلہ‘‘ دیوار ِ اعتبار گرائی نہ جاسکے ٹوٹی نشستِ دِل تو محبت کی آبرو واپس اُسی مقام پہ لائی نہ جاسکی - [کوانٹم ٹنلنگ (tunneling)ایفکٹ، عجائباتِ کوانٹم میں سے ایک ثابت شدہ حقیقت](https://idrisazad.com/physics/quantumn-tunneling-effect-ajaibaat-e-quantumn-main-se-aik-sabit-shuda-haqeeqat/): اگر آپ سے کوئی کہے کہ اُس نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو دیواروں سے آر پار ہوجاتاہے جیسے کوئی بھوت۔ تو ظاہر ہے آپ اُس کی بات کا یقین نہیں کریں گے کیونکہ ایسی مافوق الفطرت باتوں کے لیے عقل میں کوئی گنجائش نہیں۔لیکن کوانٹم میکانکس ، جو بہت ہی باریک ذرّات کی سائنس ہے، میں ایسا ہونا ممکن ہے۔ مادے کا ایک باریک ذرّہ کسی دیوار کے پار بھی جاسکتاہے۔اسے کوانٹم ٹنلنگ کہتے ہیں۔ کسی باریک ذرّے کے لیے دیواروں سے پار چلا جانا کئی قسم کا ہوسکتاہے۔ چونکہ ہمیں کوانٹم ٹنلنگ کے طریقے پر ذرّات کے آر - [تنقدِ عقلِ محض کا یہ دعویٰ کہ مابعدالطبیات کا کوئی امکان نہیں، مشکوک بھی ہوسکتاہے](https://idrisazad.com/philosophy/tanqeed-e-akal-e-mehaz-ka-ye-daawa-ke-ma-bad-atteibat-ka-koi-emkan-nahe-mashqook-bhi-ho-sakta-he/): جن جن جانوروں اور پرندوں کی آنکھیں ہیں، ظاہر ہے وہ بھی کائنات کو دیکھ سکتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک کُتا کائنات کو کیسے دیکھتاہوگا؟ یا ایک بلی، یا چڑیا، چوہا، شکرا، عقاب، سانپ، شیر چیتا یا ہاتھی کائنات کا کیسا مشاہدہ کرتے ہونگے؟ کیا انہیں بھی یہ کائنات اور اس میں موجود اشیأ ہماری طرح نظر آتی ہونگی؟ کیا انہیں بھی سیب کا رنگ اور خوشبُو بعینہ وہی محسوس ہوتی ہوگی جو ہمیں ہوتی ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ ہر شاہد کائنات کو اپنے قویٰ اور اعضأ کی حد تک دیکھنے کا اہل ہے۔ فرض کریں ایک - [شہوت اور خوف کی جبلت، اور مذہب کی ضرورت](https://idrisazad.com/philosophy/shehwat-aur-khoof-ki-jabillat-aur-mazhab-ki-zroorat/): مذہب کے مبدأ پر اکثر بات ہوتی رہتی ہے۔ روشن خیال تحقیق اس تھیسز کو لاجکل گراؤنڈز پر تسلیم کرتی ہے کہ یہ قبل از تاریخ کے توھم پرست دور کی یادگار ہے جو خوف اور شہوت کی جبلتوں کی بنیاد پر استوار ہوا ہے۔ ازرُوئے منطق مذہب کی ضرورت انسان کو اُس وقت تک رہیگی جب تک وہ اِن جبلتوں کے چنگل سے رہا نہیں ہوجاتا۔ جبکہ خوف اور شہوت اپنی کنہ میں ایک ہی خمیر سے پروان چڑھتے ہیں۔ شہوت کی شدت دراصل خوف کی شدت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ حشرات الارض لاکھوں کی تعداد میں بچے پیدا کرتے - [مذہب ِ سائنس کی شدت پسندانہ روش کا جائزہ](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/mazhab-e-science-ki-shiddat-pasandana-rawish-ka-jaaiza/): سائنس کو یہ وہم ہے کہ وہ فطرت کو سمجھتی ہے۔ فی زمانہ سائنس کی حیثیت کسی مضبوط مذہب کے جیسی ہے۔ کوئی مضبوط مذہب اپنے عہد میں یوں پہچانا جاسکتاہے کہ اُس کے ماننے والے کھلم کھلا اپنے عقائد کا اظہارکرسکیں اور باقی لوگ اُن سے فی الواقعہ مرعوب ہوں۔ دور ِ حاضر میں مذہبِ سائنس کے ماننے والے عام طور پر کہہ دیتے ہیں، ’’آئی ڈونٹ بیلیو اِن گاڈ، آئی بیلیو اِن سائنس‘‘۔ اور یوں سائنس ایک مذہب ہے۔ یہ مقدمہ خاصا طویل ہے اور تمام قضیات یہی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ سائنس فی الواقعہ - [آئن سٹائن کا تصورِ زماں](https://idrisazad.com/physics/einstein-ka-tasawwur-e-zama/): آئن سٹائن کا تصور ِ زماں یہ ہے کہ ’’وقت‘‘ مکان کی بُعدِ رابع یعنی چوتھی ڈائمینشن ہے۔وقت ، مکان کی تین ابعاد میں سے ہرایک کےساتھ اس طرح جُڑا ہوا ہے جیسے کسی جولاہے نے اِن دھاگوں کی بُنائی کرکے ایک جال بنادیاہو۔ہم جانتے ہیں کہ مکان کے تین ابعاد ہیں، جنہیں ہم ’’ایکس ، وائی، زیڈ‘‘ سے ظاہر کرنے کے عادی ہیں۔ان میں سے ہرایک خط اردو میں ’’محور‘‘ اور انگریزی میں ’’ایکسز‘‘ کہلاتاہے۔ اِن تین خطوط سے چھ جہات کا ظہورہوتاہے، جنہیں فارسی میں ’’شش جہات‘‘ کہا جاتاہے۔یہ چھ جہات ایسے ہیں، دائیں بائیں اُوپر نیچے آگے پیچھے - [بیچارہ الحاد](https://idrisazad.com/philosophy/becharah-alhaad/): اکیسویں صدی الحاد کے لیے نامساعد ترین صدی ہے۔ اگر یہ لوگ یہی باتیں نیوٹن کے فوراً بعد کرتے تو بہت مناسب وقت تھا۔ فی زمانہ تو الحاد کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ کوئی ایک بھی چیز۔ مثال کے طور پر اگر آج کوئی شخص یہ دعویٰ کرتاہے کہ وہ مستقبل سے آیاہے تو خود فزکس کے پاس اس کی بات پر یقین کرنے کی ایک سو ایک وجوہات ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ فزکس کے ماہرین اس سے کہینگے ثابت کرو! اس پر وہ جواب دے سکتاہے کہ میں ثابت تو کرسکتاہوں لیکن آپ کی ذہنی - [شب معراج، فزکس اور سامی مذاہب کا تصور ِ زماں](https://idrisazad.com/physics/shab-e-meraaj-physics-aur-same-mzaheb-ka-tsawwur-e-zma/): آئن سٹائن سے بہت پہلے کی بات ہے جب سائنس یہ مانتی تھی کہ کائنات قدیم ہے۔ ٹائم ایبسولیوٹ (مطلق) ہے۔ سپیس (مطلق) ایبسولیوٹ ہے۔ اُس وقت سامی مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کے ماننے والے سائنس کی اِس بات سے انکاری تھے اور کبھی کسی مذہبی نے یہ کوشش نہیں کی تھی کہ سائنس کا کائنات کے بارے میں یہ ماننا کہ ’’کائنات قدیم ہے، ازل سے ہے، زمانہ مطلق ہے، مکان مطلق ہے‘‘ وغیرہ کو محض اس لیے تسلیم کر لیا جائے کہ یہ سائنس کہہ رہی ہے۔ اس موضوع پر،فلسفی لائبنز اور بابائے سائنس نیوٹن کے درمیان کتنے - [نثری نظم یا مہمل نگاری](https://idrisazad.com/litrature/nasri-nazm-ya-muhmal-nigari/) - [The Orginal Return](https://idrisazad.com/litrature/prose/afsana/the-orginal-return/): The Orginal Return The night he finally spoke to God began like all the others, with a broken meter and a half tank of gas. Sajjad drove a battered yellow taxi through the city’s veins, past wedding halls and hospitals, neon signs and slums. The rich had started calling rides through apps; what reached him were the leftovers: late-night workers, drunks, and men who still carried cash. His back ached. His fingers smelled of sweat and cheap steering-wheel covers. On the passenger seat lay a crumpled school fee notice for his younger daughter. In the glove compartment, under torn registration papers, - [کامل صداقت کی جستجو](https://idrisazad.com/philosophy/kamil-sadaqat-ki-justujoo/): ایک طرح سے دیکھاجائے تو سائنس کا علم ، حقیقی علم سے فرار کا ایک راستہ ہے۔وہ اس طرح کہ سائنس کو چھوڑ کر علم کی باقی تمام شاخوں میں آپ کامل صداقت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ دراصل ہمارے جذبات کامل صداقت کے مظاہرے میں رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں۔ جذبات سے بچ کر چلنا چاہیں تو کام بہت مشکل ہوجاتاہے۔ جذبات سے بچنے کے لیے باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے بچوں کو تربیت کے ذریعے سکھادیاجاتاہے کہ کہاں کہاں اپنے اموشنز کو قابومیں رکھناہے، تب وہ جوں جوں بڑے ہوتے جاتے ہیں تو مہذب ہوتے جاتے ہیں۔ بالکل اسی - [شاعری کسے کہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%92-%da%a9%db%81%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): کافی عرصہ پرانی  بات ہے جب میں صوبہ سرحد(موجودہ پختونخوا) کے سرحدی شہر ٹانک میں نانا کے گھر مقیم تھا اور میرے ماموں محمد منیر صاحب جو الحمدللہ بقیدِ حیات ہیں شاعری کا زبردست ذوق رکھتے تھے۔ ’’عاجز‘‘ تخلص کرتے تھے اور خود بھی نظمیں اور غزلیں کہا کرتےتھے۔نانا کے گھر میں بڑی رونق رہتی۔ تب سب ماموں وہیں رہتے تھے اور خالائیں بھی ۔خاص طور پر رات کو محفل جمتی اور ہم سب مل کرکبھی قصے کہانیاں تو کبھی بیت بازی، کبھی انتاکشری تو کبھی مصرعوں پر گِرہیں لگانے یا پہیلیاں بُوجھنے کا کھیل کھیلتے تھے۔سردیاں ہوتیں تو اکثر نانی - [ہیت اشیاء کا سبب، الیکٹرانی مداروں کی ساکن موج (Standing Wave)۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%db%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%a1-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%a8%d8%a8%d8%8c-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b3/): میکس(Max Planck) پلانک اور آئن سٹائن کے کام سے جب یہ طے ہوگیا کہ توانائی کی مقدار طے شدہ (کوانٹائزڈ) ہے اور روشنی کا طرزِ عمل موجی (Wave like)ہونے کے ساتھ ساتھ ذرّاتی(Particle like) بھی ہے، تو ڈی برائے(De Broglie) نے اِس دُہریت(duality) کو فقط روشنی تک محدود نہ رکھا اور آگے بڑھ کر یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ آیا مادے کا طرزِ عمل فقط ذرّاتی ہے، یا مادہ بھی روشنی کی طرح دُہریت (duality) کا حامل ہے۔ڈی برائے نے ثابت کردیا کہ تمام مادہ بھی دہریت کا حامل ہے۔ وہ نہ صرف ذرّاتی طرزِ عمل(Particle like) کا مظاہرہ کرتاہے - [متوازی کائناتوں کا نظریہ اور موت۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%85%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d8%aa%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): متوازی کائناتوں کا نظریہ اور موت۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 16 اگست 2020 ہیوایورٹ کی تشریح کو جس قدر شہرت ملی کسی اور کو نہ ملی۔ شہرت میں دوسرے نمبر پر کوپن ہیگن تشریح ہے۔ ہیوایورٹ نے فقط ایک سوال سے ہی سارا کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس نے پوچھا تھا، ’’وٹ اِف ویو فنکشن نیور کولیپسز؟‘‘ ہیوایورٹ کی تھیوری پر ان گنت فلمیں بن چکی ہیں۔ ہزاروں کہانیاں لکھی جاچکی ہیں اور مزید کئی فلسفی اور ماہرینِ طبیعات ایسے پیدا ہوچکے ہیں جو اِس تشریح میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید سے مزید رنگ بھرتے چلے جارہے ہیں۔ اگرچہ سٹرنگ - [مقاصد حیات اور اقدار کا ارتقا۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%b5%d8%af-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%82%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%82%d8%a7%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/):   (یہ مضمون 25 مارچ 2018 کو مضامین ڈاٹ کام پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مضامین ڈاٹ کام کے شکریہ کے ساتھ یہا ں شائع کیا جا رہا ہے) عملی زندگی میں مقصد کی عدم موجودگی فرد کو کس قسم کے نفسیاتی تجربے سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس کا احساس مجھے دو قسم کے مواقع پر ہوتارہا۔ نمبر۱۔ جب مقصد پورا ہوجائے اور کرنے کو کچھ نہ بچے۔ نمبر۲۔ جب کوئی عزم فسخ ہوجائے اور ایک عارضی کیفیتِ قنوطیت دِل کو گھیر لے۔ یہ ایک کرب ناک حالت ہے۔ بہت ہی کربناک۔ اگرکوئی ریسرچ کرے تو مجھے یقین ہے کہ - [نفسیات اور فزکس کے مشترکہ مسائل۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%81%d8%b2%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%81-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): (یہ مضمون 12 اپریل 2018 کو مضامین ڈاٹ کام پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مضامین ڈاٹ کام کے شکریہ کے ساتھ یہا ں شائع کیا جا رہا ہے) سقراط کے نزدیک مطالعہ کا موضوع صرف انسان ہے۔ یہ کس قدر برعکس ہے اُس فکر کے جو قران میں بیان ہوئی۔ قران کے مطابق انسانی مطالعہ کے موضوعات میں چاند، سورج، ستاروں کی گردش، پھل ، پھول، درخت، دریا، پہاڑ، سمندر۔بالفاظ دگر فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، جیالوجی، نفسیات وغیرھم وکلھم شامل ہیں۔ سقراط کی طرح اس کے شاگرد افلاطون کو بھی کائنات کی حقیقت سے انکار ہی رہا۔ اسے نفرت تھی اس - [دلیلِ وجودی پر اعتراضات ہمیشہ مغالطہ آمیز رہے ہیں۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%af%d9%84%db%8c%d9%84%d9%90-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa-%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d9%85%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%b7%db%81-%d8%a7/): (یہ مضمون 14 مئی 2018 کو مضامین ڈاٹ کام پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مضامین ڈاٹ کام کے شکریہ کے ساتھ یہا ں شائع کیا جا رہا ہے) دلیلِ وجودی پر اقبالؒ سمیت سب فلسفیوں کے اعتراضات میں واضح منطقی مغالطے موجود ہیں۔ دلیل ِ وجودی کا سب سے پرانا ورژن 1078 عیسوی میں کنٹربری کے ایک بشپ ’’اینزلم آف کنٹربری‘‘ (Anselm of Canterbury) کا ہے۔ آرگومنٹ یہ ہے، ’’تصورِ خدا انسانی تصورات میں کامل ترین تصورہے، جس سے کامل تر تصور ممکن نہیں۔‘‘ ’’یہ تصور لازمی طور پر ہرذہن میں موجود ہے۔ اُس ذہن میں بھی جو خدا کے - [ڈاکٹر جاوید اقبال کا جنازہ: ایک تاریخی واقعہ۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%81-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d9%88/): (یہ مضمون 14 مئی 2018 کو مضامین ڈاٹ کام پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مضامین ڈاٹ کام کے شکریہ کے ساتھ یہا ں شائع کیا جا رہا ہے) ڈاکٹرجاوید اقبال کا جنازہ جناب معین نظامی نے پڑھایا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت معین نظامی نہایت صالح انسان، درویش مسلمان اور صاحب دل، عمل و نظر ہیں لیکن بظاہر آپ کے چہرہ مبارک پر داڑھی اور مونچھیں نہیں ہیں۔ اور یوں یہ جنازہ ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت اختیار کرجاتاہے۔ ڈاکٹرجاوید اقبال پر ہمیشہ لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ آپ اپنے والد یعنی علامہ اقبال کی اس طرح - [ارتقا کا مطلب ہرگز ترقی نہیں۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/evolution/%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%82%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b7%d9%84%d8%a8-%db%81%d8%b1%da%af%d8%b2-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3/): (یہ مضمون 22 مئی 2018 کو مضامین ڈاٹ کام پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مضامین ڈاٹ کام کے شکریہ کے ساتھ یہا ں شائع کیا جا رہا ہے) یہ بات ہی غلط ہے کہ دنیا نے کوئی ترقی کی۔ سکندراعظم ہو یا ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ کے ہردور میں صرف طاقتور نے اندھا دُھند اپنی منوائی ہے۔ دیکھنے کو یہ جو آئن سٹائن جیسے سائنسدان اور بڑے بڑے فلسفی ماضی کے علوم اور ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ترقی کرگئے ہیں، یہ سب بیکار کی باتیں ہیں۔ انسان چھ ارب ہیں۔ زمین پر انسان جیتے ہیں۔ یہ فلسفی اور سائنسدان اُس وقت - [غزالی اور کانٹ: مشرق و مغرب میں عقلیتِ محض کے یکساں قاتل۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%ba%d8%b2%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%b9-%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88-%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d9%82%d9%84%db%8c%d8%aa%d9%90-%d9%85/): (یہ مضمون 31 مئی 2018 کو مضامین ڈاٹ کام پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مضامین ڈاٹ کام کے شکریہ کے ساتھ یہا ں شائع کیا جا رہا ہے)   غزالیؒ اور کانٹ نے تقریباً ایک جیسا کام کیا۔ جیسا کہ علامہ اقبالؒ اپنے خطبات میں بجاطور پر لکھا کہ، “بہرحال یہ کچھ اس بغاوت اور کچھ غزالیؒ کے ذاتی حالات کا تقاضا تھا کہ امام موصوف نے مذہب کی بنا فلسفیانہ تشکک پر رکھی حالانکہ یہ مذہب کی کوئی محکم اساس ہے نہ تعلیماتِ قرانی کے مطابق۔ کچھ یہی حیثیت اَٹھارویں صدی میں کانٹ کو جرمنی میں حاصل ہوئی۔ جرمنی - [فزکس کی ٹائم تھیوریز کی مذہبیت، سائنس کے لیے لمحہ فکریہ](https://idrisazad.com/physics/%d9%81%d8%b2%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8%db%8c%d8%aa%d8%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%da%a9/): آئن سٹائن سے بہت پہلے کی بات ہے جب سائنس یہ مانتی تھی کہ کائنات قدیم ہے۔ ٹائم ایبسولیوٹ (مطلق) ہے۔ سپیس (مطلق) ایبسولیوٹ ہے۔ اُس وقت سامی مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کے ماننے والے سائنس کی اِس بات سے انکاری تھے اور کبھی کسی مذہبی نے یہ کوشش نہیں کی تھی کہ سائنس کا کائنات کے بارے میں یہ ماننا کہ ’’کائنات قدیم ہے، ازل سے ہے، زمانہ مطلق ہے، مکان مطلق ہے‘‘ وغیرہ کو محض اس لیے تسلیم کر لیا جائے کہ یہ سائنس کہہ رہی ہے۔ اس موضوع پر،فلسفی لائبنز اور بابائے سائنس نیوٹن کے درمیان کتنے - [خودی کی ہر سطح اپنے ماحول سے مزاحمت کی حالت میں ہے۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%ae%d9%88%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b1-%d8%b3%d8%b7%d8%ad-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%ad-2/): اقبال کے نظام فکر میں خدا، انسان اور کائنات کا ربط و تعلق ’’مذہبی واردات‘‘ کا مرہون ِ منت ہے۔ کیونکہ شاعرانہ واردات قابل ِ اعتماد نہیں اور ’’فلسفہ نام نہیں کسی مسئلے کا حل دینے کا‘‘۔ فلسفہ کا مطمع نظر جیسا کہ اقبال نے بھی بتایا فقط سوال اُٹھانا ہے۔ فلہذا یہ مذہب ہی ہے جو خدا، انسان اورکائنات کے درمیان تعلق کی قابل ِ فہم وضاحت کرتاہے اور یہ قابل ِ فہم وضاحت یہ ہے کہ مذہب کسی بھی شاہد کو حقیقت کے براہِ راست مشاہدہ کا راستہ دکھاتا اور حقیقت کے ساتھ من حیث الکل بغلگیر ہونے کا - [معنی کہاں واقع ہے؟۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%85%d8%b9%d9%86%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%da%ba-%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9-%db%81%db%92%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): (ڈی کنسٹرکشنزم یعنی ردِّ تشکیلیت کے مفہوم تک پہنچنے کی کوشش) کسی لفظ یا فقرے میں ’’معنی‘‘ فی الحقیقت کہاں واقع ہے؟ یہ مختلف مقامات پر ہوسکتاہے۔ ۱۔ لکھاری کے ذہن میں ۲۔ لکھی ہوئی تحریر میں ۳۔ یا پڑھنے والے کے ذہن میں ’’نیو کرٹسِزم‘‘ بھی ادبی تنقید میں ایک تحریک کا نام ہے۔ یہ تحریک پرانی طرز کی تنقید کے برخلاف یہ کہتی ہے کہ تحریر کو مصنف سے الگ کرکے دیکھا جانا چاہیے۔ جبکہ پرانی طرز کی تنقید اپنی تمام تر توجہ مصنف پر مرکوز رکھتی تھی۔ چنانچہ نیوکرٹی سِزم کی تحریک سے وابستہ نقاد فقط تحریر پر - [انسانی آزادی کا تصور، فلسفہ و تاریخ یورپ کی روشنی میں۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%93%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%8c-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%db%8c%d9%88/): سارتر کا یہ کہنا کہ ’’ہمیں اگزسٹینس میں پھینک دیا گیاہے اور ہم آزاد ہوجانے پر مجبور کردیے گئے ہیں‘‘ میرے نزدیک منطقی اعتبار سے باطل ہے۔ بات اِس کے عین برعکس ہے یعنی یوں ہے کہ، ’’ہم مجبور ہوجانے کےلیے آزاد کردیے گئے ہیں‘‘۔ ریحان نقوی نے ایک بار سوال کیا تھا کہ ’’ہماری آزادی کی حُدود کہاں تک ہیں؟‘‘، میں نے لکھا تھا کہ ’’ہم خود پر قابوپانے کے لیے کُلی طور پر آزاد ہیں‘‘۔ جس قسم کا جوہر سارتر کو نظر آیا وہ جانوروں سے انسان کو الگ کرنے کے لیے ناکافی ہے، اگرچہ سارتر نے بنیادی طور - [فطرت ہدایت یافتہ ہے یا بے ہدایت ؟۔۔۔۔ادریس آزد](https://idrisazad.com/physics/%d9%81%d8%b7%d8%b1%d8%aa-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%db%8c%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%81-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%a8%db%92-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7-2/): ابتدائی درجے کی حیات یعنی درخت اور کیڑے مکوڑے اپنے بچوں کو کسی قسم کی تربیت نہیں دیتے۔ جبکہ جانور اپنے بچوں کو تربیت دیتے ہیں۔ ۔ زندگی کا بنیادی مقصد چونکہ باقی رہناہے۔ سو ہرکوئی اپنے اپنے طریقے سے باقی رہنے کی کوشش کرتاہے۔ پودوں نے اربوں کی تعداد میں بیج پھیلانا سیکھا تو کیڑے مکوڑوں نے کروڑوں کی تعداد میں اپنی اولادیں بکھیر دیں۔ لیکن بڑے جانوروں نے پودوں اور کیڑے مکوڑوں کی طرح کثرتِ اولاد کی بجائے تربیت کے عمل کے ذریعے بقا کا راستہ چنا۔ زیادہ تر جانور اپنے بچوں کو جہدللبقأ خود سکھاتے ہیں۔ مرغی اپنے - [طبقۂ مفکرین اقلیت کا نمائندہ ہے۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%b7%d8%a8%d9%82%db%81%d9%94-%d9%85%d9%81%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%82%d9%84%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%af%db%81-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): انسانیت کو کسی عقلی نکتے پر اکھٹا کرنا ناممکن ہے جبکہ کسی جذباتی نکتے پر جمع کرنا نہایت آسان۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب جو بنیادی طور پر انسانیت میں اتحاد اور عالمگیر محبت کا داعی ہے، انسانوں کو جذباتی سطح پر متحد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس عقل کے تحت پرورش پانے والے ایسے نظام ہائے حیات جن کا منتہائے مقصود کسی عقلی نکتے یا نکات پر معاشرے کی تدوین ہے، منطقی طور پر ناممکن الحصول ہیں۔ مثال کے طور پر ’’فریڈم آف سپیچ‘‘ یعنی ہر ’’انسان کو بولنے کی آزادی ہے‘‘، ایک ایسا عقلی نکتہ ہے جس پر - [فہم کی اقسام ۔۔ ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%81%db%81%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%82%d8%b3%d8%a7%d9%85-%db%94%db%94-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): (یہ مضمون 27 2017 کو “ہم سب” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ “ہم سب” کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) فہم کی تین اقسام ہیں، ۱۔ فہم ِ غیر شعوری ۲۔ فہم ِ شعوری ۳۔ فہمِ حقیقی فہم ِ غیرشعوری، جیسا کہ ترکیب سے ظاہر ہے دراصل جبلت کے تحت سرزد ہونے والے اعمال و افعال کا دوسرا نام ہے۔ یہ فہم جانوروں کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ وہ غیر شعوری طور پر بہت سی باتیں جانتے ہیں۔ بطخ کا بچہ پہلے دِن جانتا ہے کہ اُسے پانی کے تالاب میں کُود جانا ہے۔ چُوزہ جانتا - [کریٹیکل ڈسکورس اینالسس کیا ہے؟ ۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9%db%8c%da%a9%d9%84-%da%88%d8%b3%da%a9%d9%88%d8%b1%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%86%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%b3-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f-%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): (یہ مضمون 24 مئی 2017 کو “دانش” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دانش کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) جدید لسانیات فی زمانہ  وہ واحد مضمون ہے جس کے ماہرین کی تعداد کسی قوم کے پاس جتنی زیادہ ہوگی وہ قوم اپنے سروائیول کی جنگ میں اُتنی زیادہ طاقتور ہوگی۔یہ زمانہ ایٹم بم بنا کر ترقی کرنے کا نہیں بلکہ باتیں بنا کر ترقی کرنے کا ہے۔ وہ اِس لیے کہ جدید لسانیات کے مغربی ماہرین نے علم لسانیات کا مطالعہ صرف ونحو کے قدیمی دائرہ سے باہر نکل کر کیا تو انہیں ادراک ہوا کہ - [یاداشت کے معاملے میں فرائیڈ غلط تھا۔ ۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d8%aa%da%be%d8%a7%db%94-%db%94%db%94/): 16 جون2017  (یہ مضمون “دانش” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دانش کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) نیوروسائنس نے خاطرخواہ تجربات کے بعد یہ ثابت کردیا ہے کہ یاداشت کے معاملے میں سگھمنڈ فرائیڈ غلط تھا۔ فرائیڈ ہی نہیں نیوروسائنس نے یہ بھی ثابت کردیا کہ یاداشت کے معاملے میں اب تک پائےجانے والے انسان کے تمام ترخیالات ہی غیر درست تھے۔ یاداشت کوئی محفوظ چیز نہیں ہے۔ یہ پل پل بدلتی رہتی ہے۔ جب کوئی واقعہ آپ کے ساتھ پیش آتاہے تو جب وہ گزرجاتاہے اور اس کے بعد پہلی مرتبہ آپ اسے یاد کرتے - [مذہب ِسائنس کی شدت پسندانہ روش کا جائزہ - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%d9%90%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%af%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%b1%d9%88%d8%b4-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%d8%b2%db%81/): مذہب ِسائنس کی شدت پسندانہ روش کا جائزہ – ادریس آزاد 6جنوری  2017(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) سائنس کو یہ وہم ہے کہ وہ فطرت کو سمجھتی ہے۔ فی زمانہ سائنس کی حیثیت کسی مضبوط مذہب کے جیسی ہے۔ کوئی مضبوط مذہب اپنے عہد میں یوں پہچانا جاسکتاہے کہ اُس کے ماننے والے کھلم کھلا اپنے عقائد کا اظہارکرسکیں اور باقی لوگ اُن سے فی الواقعہ مرعوب ہوں۔ دور ِ حاضر میں مذہبِ سائنس کے ماننے والے عام طور پر کہہ دیتے ہیں، ’’آئی ڈونٹ - [غیر یقینیت کا قانون - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%ba%db%8c%d8%b1-%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): غیر یقینیت کا قانون – ادریس آزاد 8فروری  2017(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) قدیم و جدید فزکس کی پوری تاریخ میں اس جیسا حیران کر دینے والا کوئی ایک قانون بھی موجود نہیں۔ کیمسٹری میں البتہ پانی کی فطرت، نقطۂ کھولاؤ اور انجماد پر اس کے مختلف رویے کچھ عرصہ پہلے تک مجھے یوں لگتا تھا، جیسے پانی کوئی جاندار مخلوق ہے۔ بالکل اِسی طرح کبھی کبھی لگتاہے کہ الیکٹران بھی شاید سیانے ہیں۔ کم از کم ہم سے تو سیانے ہیں۔ بظاہر یہ کہا - [بہت سی کائناتوں کا نظریہ - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%a8%db%81%d8%aa-%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): بہت سی کائناتوں کا نظریہ – ادریس آزاد 3جولائی 2016(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) \nجب قدیم انسان رات کے آسمان کو دیکھتے تھے تو سوچتے تھے کہ ساری کائنات صرف انہی کے گِرد گھوم رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خیال ایک لطیفہ محسوس ہونے لگا۔ اور ہم انسانوں نے جان لیا کہ ہم ایک سیّارے پر آباد ہیں جو ایک ستارے یعنی سُورج کے گرد گھوم رہا ہے۔ آج ہمیں یہ پتہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم، ہماری کہکشاں کے بہت دور دراز کے - [اسلامی نظریاتی کونسل، اُمّید کی آخری کرن - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%84%d8%8c-%d8%a7%d9%8f%d9%85%d9%91%db%8c%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%93%d8%ae%d8%b1%db%8c/): اسلامی نظریاتی کونسل، اُمّید کی آخری کرن – ادریس آزاد 3جولائی 2016(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) \nمیں آج بھی’’ اسلامی نظریاتی کونسل ‘‘ کو مسلم نشاۃِ ثانیہ کے لیے اُمّید کی کرن تصور کرتاہوں۔کیونکہ پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں یہ واحد ایسا ادارہ ہے جو فقط اپنی آئینی ساخت کی وجہ سے آج بھی فی الواقعہ اجتہاد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتاہے۔ایران میں اگرچہ روحانی پیشوأ موجود ہیں جو ظاہر ہے اپنی کسی خاص مجلسِ شوریٰ سے رائے بھی لیتے ہونگے اور حکومت کو - [دہریت کا آخری دور - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%af%db%81%d8%b1%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%93%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): دہریت کا آخری دور – ادریس آزاد 22جولائی 2016(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) رچرڈ ڈاکنز کی ایک ویڈیو پچھلے دنوں مشہورہوئی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا، ’’ایک سیل سے‘‘۔ اُن سے مکرر پوچھا گیا کہ وہ سیل کہاں سے آیا ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا، ’’ممکن ہے کسی اور نظام ِ شمسی کے کسی اور سیارے پر زندگی کی ترقی ہماری ترقی سے لاکھوں سال - [دینداری کا مسئلہ اور احمد جاوید صاحب کے انٹرویو سے استفادہ - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%d8%af%db%8c%d9%86%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8-%da%a9%db%92/): دینداری کا مسئلہ اور احمد جاوید صاحب کے انٹرویو سے استفادہ – ادریس آزاد 4اکتوبر 2016(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) روزنامہ دنیا کے سنڈے میگزین میں گزشتہ اتوار ، ملک کے معروف دینی سکالر جناب احمد جاوید صاحب کا انٹرویوشائع ہوا۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے انٹرویو سے پہلے نہایت لطیف پیرائے میں احمد جاوید صاحب کے ساتھ اپنی عقیدت اور پھر ان کی شخصیت اور علمی و روحانی سفر کا اجمالی جائزہ پیش کرنے کے بعد چند نہایت اہم سوالات پر اُن کی رائے قارئین - [تھری ڈی کی دنیا محض ہماری مینٹل فیکلٹی ہے - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%aa%da%be%d8%b1%db%8c-%da%88%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d9%85%d8%ad%d8%b6-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%db%8c%d9%86%d9%b9%d9%84-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%84%d9%b9%db%8c-%db%81/): تھری ڈی کی دنیا محض ہماری مینٹل فیکلٹی ہے – ادریس آزاد 8اکتوبر 2016(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) مادہ ہمیں کیسے نظر آتاہے؟ ہمارے حواس مادے کے ساتھ انٹرایکشن کی صورت میں ہمارے دماغ کو جو معلومات بہم پہنچاتے ہیں۔ ان سے ہمارا دماغ اپنی سمجھ کے لیے مختلف تصورات ترتیب دے لیتاہے۔ مثال کے طور پر کوئی بھی چیز جس کو ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں اُس کی شبیہہ ہمارے پردۂ چشم (Retina) پر ہمیشہ اُلٹی بنتی ہے۔ لیکن ہمارا دماغ اُسے ہمیشہ سیدھا کرکے - [انسان کے ہاتھوں برپا ہونے والا ارتقاء، جہانِ حیرت - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/evolution/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%d8%aa%da%be%d9%88%da%ba-%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%a7-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%82%d8%a7%d8%a1%d8%8c/): انسان کے ہاتھوں برپا ہونے والا ارتقاء، جہانِ حیرت – ادریس آزاد 10اکتوبر 2016(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) اس بات میں اب شک کی کچھ بھی گنجائش نہیں رہی کہ انسان نے ارتقاء کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ابھی سیلیکٹو بریڈنگ کی حیرانیاں کم نہ ہوئی تھیں کہ ٹرانس جینک ریسرچ نے حیاتیات کی دنیا میں ہنگامہ برپا کردیا۔ ٹرانس جینک ریسرچ نہایت سستی، آسان اور تیزی سے نتائج دینے والی ریسرچ ہے۔ اس لیے یہ گمان کیا جا رہا - [کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%da%a9%d8%b3%db%92-%d8%ae%d8%a8%d8%b1-%da%a9%db%81-%d8%ac%d9%86%d9%88%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%db%81%db%92-%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8-%d8%a7%d8%af%d8%b1%d8%a7%da%a9-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3/): کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک – ادریس آزاد 9اکتوبر 2016(یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) فطرت کا یہ بھی ایک عجیب کرشمہ ہے کہ ’’عمل‘‘ کبھی فلسفے کا موضوع نہیں بن سکا اور نہ ہی بن سکتاہے۔ کہنے کو تو تصوف، مذہب، کلام یہ سب فلسفے کے موضوعات بن سکتے ہیں اور اِن سب کا معاملہ صرف عمل کے ساتھ ہے چنانچہ بالواسطہ عمل بھی فلسفے کا موضوع بن سکتاہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فلسفے نے بلاشبہ تصوف، مذہب اور کلام - [پرویز ہود بھائی، ماہرِ فزکس یا ڈاکنزم کے پرچارک - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%be%d8%b1%d9%88%db%8c%d8%b2-%db%81%d9%88%d8%af-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%8c-%d9%85%d8%a7%db%81%d8%b1%d9%90-%d9%81%d8%b2%da%a9%d8%b3-%db%8c%d8%a7-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%86%d8%b2%d9%85-%da%a9/): پرویز ہود بھائی، ماہرِ فزکس یا ڈاکنزم کے پرچارک – ادریس آزاد 15 مئی 2017  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) گزشتہ برس میں نے پرویز ہود بھائی کا ایک انٹرویو پڑھا جو انگریزی میں شائع ہوا تھا۔ انٹرویو کے بعض مقامات پر مجھے حیرت کے جھٹکے لگے۔ شاک اتنا زیادہ تھا کہ اُسی وقت اُس مضمون کو ترجمہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جھٹکے اگرچہ بہت سے تھے، لیکن اُن میں تین ایسے تھےجنہوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر پرویز ہود - [زمان و مکاں اپنا اپنا - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%88-%d9%85%da%a9%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a7%d9%93%d8%b2%d8%a7%d8%af/): زمان و مکاں اپنا اپنا – ادریس آزاد 2 جنوری 2018  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) ناؤ سلائس اور لائٹ کون پر دو مختصر پوسٹس لکھنے پر بہت سے دوستوں نےکمنٹس میں لکھا کہ ’’کچھ سمجھ نہیں آئی۔ اِس مضمون کے ذریعے میں نے کوشش کی ہے کہ پہلے لائٹ کون اور پھر ناؤسلائس کی وضاحت کردوں۔ یہ چونکہ کاغذ پر گراف کی شکل میں بنا کر سمجھنے والی چیزیں ہیں اس لیے تحریر کی شکل میں لکھنا خاصا دشوار ہے۔ پھر بھی میں نے - [انسان میں رُوحِ حیوانی کا تصور - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%8f%d9%88%d8%ad%d9%90-%d8%ad%db%8c%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a7/): انسان میں رُوحِ حیوانی کا تصور – ادریس آزاد 23 فروری 2018  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) دنیا کے مختلف مذاہب میں پائے جانے والے متصوفانہ نظریات بھی مختلف ہیں۔ لیکن جس طرح مذاہب کی اساسی اخلاقیات ایک جیسی ہے، اسی طرح اِن مختلف قسموں کے تصوّف کی اساسی اخلاقیات بھی ایک جیسی ہے۔ بعینہ اِسی طرح، جیسے مختلف مذاہب میں عقائد کا اچھا خاصا اختلاف ہے، مختلف قسم کے تصوف میں بھی متصوفانہ عقائد کا اچھا خاصا اختلاف ہے۔ لیکن تصوف کا ایک عقیدہ - [علامہ اقبال ؒ کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/iqbal/%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d8%92-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d9%86%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c/): علامہ اقبال ؒ کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ – ادریس آزاد 13 اکتوبر2016  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) ایک دوست نے سوال کیا کہ،\n’’ایک جگہ پڑھا تھا کہ علامہ اقبال حیات بعد الممات میں جنت یا دوزخ کے قائل نہیں تھے۔ وہ اِسے رُوحانی معنوں میں لیتے ہیں۔ مجھے اِس کا تسلی بخش جواب چاہیے، حوالوں کے ساتھ‘‘\n\n میں نے اُنہیں جواب دینے کے لیے لکھنا شروع کیا تو لکھتا ہی چلا گیا۔ جب جواب ختم ہوا تو اندازہ ہوا کہ میں قاری کی - [دلیلِ وجودی پر مغالطہ آمیز اعتراضات - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%af%d9%84%db%8c%d9%84%d9%90-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%b7%db%81-%d8%a7%d9%93%d9%85%db%8c%d8%b2-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa-%d8%a7/): دلیلِ وجودی پر مغالطہ آمیز اعتراضات – ادریس آزاد 19 مارچ 2018  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) دلیلِ وجودی پر اقبالؒ سمیت سب فلسفیوں کے اعتراضات میں واضح منطقی مغالطے موجود ہیں۔ دلیل ِوجودی کا سب سے پرانا ورژن 1078 عیسوی میں کنٹربری کے ایک بشپ ’’اینزلم آف کنٹربری‘‘ (Anselm of Canterbury) کا ہے۔ آرگومنٹ یہ ہے، ’’تصورِ خدا انسانی تصورات میں کامل ترین تصور ہے، جس سے کامل تر تصور ممکن نہیں‘‘ ’’یہ تصور لازمی طور پر ہرذہن میں موجود ہے۔ اُس ذہن میں بھی جو - [علامہ اقبال کا تصوف - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/iqbal/%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): علامہ اقبال کا تصوف – ادریس آزاد 2 اکتوبر 2017  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) یہ جو ہم عموماً کہتے ہیں کہ اقبال نے عجمی تصوف کو اسلامی تصوف سے الگ کیا اور دونوں کی الگ الگ تشریحات پیش کرکے اوّل الذکر کو قوم اور فرد کے لیے یکساں قاتل اور ثانی الذکر کو حیات بخش قوت قرار دیا تو اس بات کا اصل مفہوم کیا ہے؟ ہم، جو عام لوگ ہیں اور تصوف کی گہری باتوں کو مطلقاً نہیں سمجھ پاتے، ہمارے لیے اقبال - [معاصر اردو نظم میں مہمل نگاری کا رجحان – ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d9%86%d8%b8%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%85%d9%84-%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%ac%d8%ad%d8%a7%d9%86/): معاصر اردو نظم میں مہمل نگاری کا رجحان – ادریس آزاد 2 مئی 2017  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) ضروری ہے کہ پہلے ہم اہمال کا تعین کرلیں۔ اہمال اہلِ زبان میں ’’بغیر چرواہے کے چرتے ہوئے اونٹوں‘‘ کے لیے بولا جاتاہے۔ البتہ اصطلاحاً لفظ مہمل، بے معنی صوت یا علامت کے لیے بولا جاتا ہے۔ یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ ابہام، اہمال کا مترادف نہیں ہے۔ ابہام اور اہمال دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہرانسان میں پہیلیاں بوجھنے کا کسی نہ کسی درجہ کا - [غلامی کا خاتمہ کس نے کیا؟ اسلام یا مغرب؟ ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%ba%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%81-%da%a9%d8%b3-%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d8%a7%d8%9f-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%db%8c%d8%a7-%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%9f/): غلامی کا خاتمہ کس نے کیا؟ اسلام یا مغرب؟ ادریس آزاد 2 مئی 2017  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) کل میں نے چند جملے پوسٹ کیے جن میں لکھا تھا کہ: ’’اسلام نے جب حکم دیا کہ غلاموں کو اپنے جیسی غذا اور لباس دو اور شرعاً غلاموں کا جائیدادا میں حصہ رکھ دیا تو کیا قیامت خیز قسم کا انقلاب برپا ہونا شروع ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ انسان جن کی گردنوں میں لوہے کا کڑا ڈالنا مالک نسل کے انسانوں کا - [بے چارہ الحاد - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a8%db%92-%da%86%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d8%a7%d8%af-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): بے چارہ الحاد – ادریس آزاد 2 مئی 2017  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) اکیسویں صدی الحاد کے لیے نامساعد ترین صدی ہے۔ اگر یہ لوگ یہی باتیں نیوٹن کے فوراً بعد کرتے تو بہت مناسب وقت تھا۔ فی زمانہ تو الحاد کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ کوئی ایک بھی چیز۔ مثال کے طور پر اگر آج کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مستقبل سے آیا ہے تو خود فزکس کے پاس اس کی بات پر یقین کرنے کی ایک سو ایک - [سپر پوزیشن اور کوانٹم کمپیوٹرز - ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%b3%d9%be%d8%b1-%d9%be%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%b9%d9%85-%da%a9%d9%85%d9%be%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2/): سپر پوزیشن اور کوانٹم کمپیوٹرز – ادریس آزاد 12 مارچ 2017  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) سُپر پوزیشن کا یہ بنیادی نکتہ کہ ایک سنگل آبجیکٹ (مثلاً الیکٹران) بیک وقت کئی جگہوں پر موجود ہوتا ہے. کوانٹم فزکس کا وہ مظہر ہے جس کا ٹھیک ٹھیک تصور قائم کرنا انسانی عقل سے خاصا بعید ہے۔ سپر پوزیشن کا یہ مظہر کائنات میں ہروقت، ہر کہیں، ہر آبجیکٹ کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ آج تک سائنس نے جتنی ترقی کی، اس میں قدیم ریاضی کا - [کیا خدا کا وجود ہے؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%ae%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%db%81%db%92%d8%9f%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2/): کیا خدا کا وجود ہے؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 7 مارچ 2017  (یہ مضمون “دلیل ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ دلیل کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) ’کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟‘‘ یہ ایک ایسا پُرانا سوال ہے جو ہمیشہ تروتازہ رہا۔ ’’کیا خدا ہے؟‘‘۔ اِس موضوع کو لے کر صدیوں پر محیط سوالات اور ان کے جوابات کے سلاسل سے کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں۔ لیکن عموماً دیکھا گیا ہے کہ خدا کو ماننے اور نہ ماننے کا تعلق کتابوں اور عقلی دلائل سے نہیں بلکہ جذبات سے ہے۔ ہم اگر ایک - [تحقیق کی تعلیم۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): تحقیق کی تعلیم۔۔۔ادریس آزاد 27 مارچ 2019 (یہ مضمون “مکالمہ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) ایک بات پر مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے۔ میں انگریزی میں اس پر ایک مضمون بھی لکھ چکاہوں اور وہ یہ بات ہے کہ دنیا بھر میں ’’علم التحقیق‘‘ کو ہرکس و ناکس کا کام سمجھا جاتاہے جبکہ ’’علم التحقیق‘‘ کسی بھی دیگر شعبۂ تعلیم سے کہیں زیادہ اہم، مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ بطور معلم میں نے اب تک یہ جانا کہ جہاں کہیں بھی تحقیق ہورہی ہے اس کی نگرانی کرنے - [کُوگل بلِٹزیا مصنوعی بلیک ہول۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%da%a9%d9%8f%d9%88%da%af%d9%84-%d8%a8%d9%84%d9%90%d9%b9%d8%b2%db%8c%d8%a7-%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%a8%d9%84%db%8c%da%a9-%db%81%d9%88%d9%84%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): کُوگل بلِٹزیا مصنوعی بلیک ہول۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 3 دسمبر 2019 (یہ مضمون “مکالمہ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) نظری طور پر ایک بلیک ہول تخلیق کرنا ممکن ہے۔یاد رہے کہ جب ہم اُردو میں ’’نظری طور پرایسا ممکن ہے‘‘ کہتےہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے، ’’یہ تھیوریٹکلی پاسبل ہے‘‘۔ ماہرینِ فزکس کا کہنا ہے کہ ہم فقط روشنی کی شعاعوں سے ایک بلیک ہول کو اُصولی طورپر خودبناسکتے ہیں۔چنانچہ ایسے بلیک ہول کے لیے ایک لفظ استعمال کیا جاتاہے، ’’کُوگل بلِٹز‘‘ (Kugelblitz)۔ کُوگل بلِٹز جرمن زبان کا لفظ ہے جس - [خودی کی ہر سطح اپنے ماحول سے مزاحمت کی حالت میں ہے۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%ae%d9%88%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b1-%d8%b3%d8%b7%d8%ad-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%ad/): خودی کی ہر سطح اپنے ماحول سے مزاحمت کی حالت میں ہے۔۔۔ادریس آزاد 20 ستمبر 2018 (یہ مضمون “مکالمہ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) اقبال کے نظام فکر میں خدا، انسان اور کائنات کا ربط و تعلق ’’مذہبی واردات‘‘ کا مرہون ِ منت ہے۔ کیونکہ شاعرانہ واردات قابل ِ اعتماد نہیں اور ’’فلسفہ نام نہیں کسی مسئلے کا حل دینے کا‘‘۔ فلسفہ کا مطمع نظر جیسا کہ اقبال نے بھی بتایا فقط سوال اُٹھانا ہے۔ فلہذا یہ مذہب ہی ہے جو خدا، انسان اورکائنات کے درمیان تعلق کی قابل - [فطرت ہدایت یافتہ ہے یا بے ہدایت ؟۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/evolution/%d9%81%d8%b7%d8%b1%d8%aa-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%db%8c%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%81-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%a8%db%92-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): فطرت ہدایت یافتہ ہے یا بے ہدایت ؟۔۔۔۔ادریس آزاد 30اگست2018 (یہ مضمون “مکالمہ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) ابتدائی درجے کی حیات یعنی درخت اور کیڑے مکوڑے اپنے بچوں کو کسی قسم کی تربیت نہیں دیتے۔ جبکہ جانور اپنے بچوں کو تربیت دیتے ہیں۔ ۔ زندگی کا بنیادی مقصد چونکہ باقی رہناہے۔ سو ہرکوئی اپنے اپنے طریقے سے باقی رہنے کی کوشش کرتاہے۔ پودوں نے اربوں کی تعداد میں بیج پھیلانا سیکھا تو کیڑے مکوڑوں نے کروڑوں کی تعداد میں اپنی اولادیں بکھیر دیں۔ لیکن بڑے جانوروں نے پودوں - [بطور انسان یہ ہماری آخری صدی ہے؟۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%a8%d8%b7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%db%8c%db%81-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d8%b5%d8%af%db%8c-%db%81%db%92%d8%9f%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): بطور انسان یہ ہماری آخری صدی ہے؟۔۔۔ادریس آزاد 9 اپریل 2019 (یہ مضمون “مکالمہ” پرپانچ قسطوں مٰن شائع ہو چکا ہے، ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں مکمل مضمون شائع کیا جا رہا ہے) سن 2115 میں انسان نہیں ہونگے۔ اگر ہوئے بھی تو بہت کم ہونگے اور شاید افریقہ کے دور دراز صحراؤں کے کسی اکّا دُکّا گاؤں میں پائے جائیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اِس عجیب و غریب دعوے کو سمجھنے کی کوشش کریں ضروری ہے کہ ہم پہلے یہ جان لیں کہ ’’ٹرانس ہیومن اِزم‘‘ کیا ہے۔ لیکن ٹرانس ہیومن اِزم سے بھی پہلے ہمیں - [عقیدے کا جنون اورجبلت۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%d8%b9%d9%82%db%8c%d8%af%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%86%d9%88%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): عقیدے کا جنون اورجبلت۔۔۔ادریس آزاد 25 اپریل 2019 (یہ مضمون “مکالمہ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) ’’عقیدے کا جنون جبلی امرہے۔ اگر آپ کے ہاں کسی مذہبی عقیدے کا جنون موجود نہیں تو قدرے دھیان سےدیکھنے پر آپ کو اپنے ہاں کسی اور طرح کے عقیدے کا جنون ضرور لاحق ہوا نظرآسکتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں مذہبی عقائد کے جنون کا دور تمام ہوچکا وہاں ہیومین رائٹس سے متعلق عقائد کا جنون پروان چڑھ چکاہے‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو میں نے اُس وقت لکھے تھے جب پاکستان میں - [میکس ویل کی میتھ ، ایک اینالوجی برائے سٹرنگ تھیوری۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%85%db%8c%da%a9%d8%b3-%d9%88%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%aa%da%be-%d8%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%db%8c%d9%86%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%b9/): میکس ویل کی میتھ ، ایک اینالوجی برائے سٹرنگ تھیوری۔۔ادریس آزاد 8 مئی 2019 (یہ مضمون “مکالمہ” پر شائع ہو چکا ہے، ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے)   آج میں اپنے ایک نوجوان مہمان، حسن (بی ایس فزکس، سینئر سمسٹر، فیڈرل اردو یونیورسٹی) سے باتیں کررہا تھا کہ میں نے کہا، ’’دیکھوحسن! سٹرنگ تھیوری کی میتھ ڈیولپ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تاریخ ِ فزکس میں سب سے ایلیگینٹ اور پرفیکٹ میتھ ہے۔ لیکن چونکہ سٹرنگ تھیوری کی تصدیق کے لیے ابھی تک ہمارے پاس کوئی سامان نہیں اور نہ ہی مستقبل - [اب پاکستان میں مزاحمت نگار کیوں پیدا نہیں ہوتے؟۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%aa-%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%be%db%8c%d8%af%d8%a7-%d9%86%db%81/): اب پاکستان میں مزاحمت نگار کیوں پیدا نہیں ہوتے؟۔۔۔۔۔ادریس آزاد 8 جولائی 2019(یہ مضمون “مکالمہ “پر شائع ہو چکا ہے۔ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے ) کَل، زندہ لوگ کے اجلاس میں یہ موضوع زیربحث تھا کہ ’’آج کل مزاحمتی ادب کیوں نہیں لکھا جارہا؟‘‘مجھےایک خیال آیا کہ ’’مزاحمتی ادب دورِ مزاحمت میں ہی لکھاجائےگانا؟‘‘ ہم لوگ نہ تنگ ہیں اور نہ ہی ابھی آمادۂ جنگ ہیں۔ مشرف نے کہاتھا، ’’یہ کیسی غربت ہے، لوگ اپنے موبائیلوں میں سوروپے کا بیلنس روز ڈال رہے ہیں اور شورمچاتے ہیں کہ غربت ہے، غربت ہے‘‘۔ میں تواکثرکہا - [موت کیاچیز ہے؟۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%85%d9%88%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%a7%da%86%db%8c%d8%b2-%db%81%db%92%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): موت کیاچیز ہے؟۔۔۔۔ادریس آزاد 15 جولائی 2019(یہ مضمون “مکالمہ “پر شائع ہو چکا ہے۔ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے ) موت کو اس لیے خوفناک رکھاگیاہے کہ اگر اِس کی دلکشی حیاتِ ارضی پر عیاں ہوتی تو حیات کی  بقا ناممکن تھی ۔ ہرکوئی خوشی سے مرنا چاہتا اور یوں سب ہی مرجاتے۔ میں اکثر کہا کرتاہوں کہ خودکشی کو بھی اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ اگر بفرضِ محال اِس کے برعکس کہہ دیا جاتا کہ ’’خودکشی ثواب ہے یا اس کا اجر ہے یا یہی کہ یہ بہادری ہے اور اچھی - [انسانی ذہن، ایک عضو ِ معطل۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86%d8%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%b6%d9%88-%d9%90-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): انسانی ذہن، ایک عضو ِ معطل۔۔ادریس آزاد 20دسمبر 2019(یہ مضمون “مکالمہ “پر شائع ہو چکا ہے۔ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے ) یونانی مِتھ کے مطابق ایک مرتبہ تھیوٹ دیوتا نے زیوس کو بتایا کہ، “میں نے انسانوں کے لیے لکھنے کا فن ایجاد کیا ہے۔ میں انہیں لکھنا پڑھنا سکھادونگا”۔ اس پر زیوس نے کہا کہ، “یہ تم نے کیا کیا؟ اب انسانوں کا حافظہ اور یاد رکھنے کی صلاحیت کو زنگ لگ جائیگا اور وہ سب کچھ ہمیشہ لکھ کر محفوظ کیا کرینگے”۔سکول میں ٹیچرز کیلکولیٹر کے استعمال سے منع کیا کرتے تھے - [وجدان کیا کہتا ہے؟۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%81%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): وجدان کیا کہتا ہے؟۔۔۔۔ادریس آزاد 8جون 2020(یہ مضمون “مکالمہ “پر  تین قسطوں میں شائع ہو چکا ہے۔ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں  مکمل مضمون شائع کیا جا رہا ہے ) عقل نائنٹی نائن پوائنٹ نائن نائن نائن نائن اور بہت سارے نائن تک تو درست علم فراہم کرنے کی اہل ہے لیکن ہنڈرڈ پرسنٹ علم فراہم کرنے کی اہل نہیں ہے۔ یہ ایک اُصولی بات ہے۔ اس کے برعکس جب ہم اپنی ناک کو چھونا چاہتے ہیں تو ہماری جبلت (وجدان) ہمیں سوفیصد علم فراہم کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ ہماری ناک کہاں واقع ہے۔ قرآن کے بقول، شہد کی - [فریڈم آف سپیچ یا برداشت کا امتحان۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%81%d8%b1%db%8c%da%88%d9%85-%d8%a7%d9%93%d9%81-%d8%b3%d9%be%db%8c%da%86-%db%8c%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%a7%d9%86%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): فریڈم آف سپیچ یا برداشت کا امتحان۔۔ادریس آزاد 8جون 2020(یہ مضمون “مکالمہ “پر شائع ہو چکا ہے۔ادارہ مکالمہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے ) فریڈم آف سپیچ یہ ہے کہ آپ کھُل کر بولو! اور جب آپ کے ’’کھل کر بولے ہوئے‘‘ پر کوئی اور ’’کھل کر بولے‘‘ تو پھر آپ اُسے سہہ سکو تو ٹھیک، ورنہ پھر کھل کر بولو! دوبارہ جب آپ کے ’’کھل کے کر بولنے‘‘ پر کوئی آپ کے خلاف ’’کھل کر بولے‘‘ تو سہہ سکو تو ٹھیک، ورنہ پھر کھل کر بولو! علی ھٰذالقیاس خیر! جب یہ سلسلہ اِسی طرح چلتا - [آپ نے دیکھ لیا، پھر بھی مروّت نہیں کی۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%a7%d9%93%d9%be-%d9%86%db%92-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be-%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%8c-%d9%be%da%be%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d9%85%d8%b1%d9%88%d9%91%d8%aa-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%db%94%db%94/): آپ نے دیکھ لیا، پھر بھی مروّت نہیں کی۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 23 نومبر 2019 آپ نے دیکھ لیا، پھر بھی مروّت نہیں کی اِس لیے چُپ رہے ہم، آپ کی مِنّت نہیں کی جس کو، بدلے میں، طلب ہے کہ اسے چاہا جائے اُس نے دھندا کیا ہے، اُس نے محبّت نہیں کی چیخ نکلی کہ مجھے چھوڑ گیا ہے غمِ دِل درد کے مارے نے بے وجہ شکایت نہیں کی ورنہ ہم غم کی سہولت کو ترس ہی جاتے ہم نے صد شُکر سپرد آپ کے فرصت نہیں کی اپنے ہونے کے سبق سے یہ سبق اُس نے لیا دار دُہرانے - [صبر سے ٹُوٹا ہوا، ضبط سے ہارا ہوا میں۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b5%d8%a8%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%b9%d9%8f%d9%88%d9%b9%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7%d8%8c-%d8%b6%d8%a8%d8%b7-%d8%b3%db%92-%db%81%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba%db%94%db%94%db%94/): صبر سے ٹُوٹا ہوا، ضبط سے ہارا ہوا میں۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد صبر سے ٹُوٹا ہوا، ضبط سے ہارا ہوا میں جتنا باقی بچا ہوں اُتنا تمہارا ہوا میں پھول کھلتے گئے، بنتا گیا تن گُل دستہ دیکھتے دیکھتے زخموں سے نظارہ ہوا میں عمربھردنیاکے ایندھن میں پکایا گیاہوں آپ کے چاک سے ناپختہ اُتارا ہوا میں اب زمیں زاد مجھے دیکھ کے رہ دیکھتے ہیں اُونچا اُڑتا گیا اِتنا کہ ستارا ہوا میں چننے والوں کا بھلا ہو جو مجھے ڈھونڈ کے لائے ٹکڑے ٹکڑے کو مِلا کر ہی تو سارا ہوا میں زندگی ایک جواری کا گزارا ہوا پل اوراُس پل - [وجدان، اَندھی بصارت یا دماغ کی آنکھیں؟۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d9%8e%d9%86%d8%af%da%be%db%8c-%d8%a8%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%d8%af%d9%85%d8%a7%d8%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%93%d9%86%da%a9%da%be%db%8c%da%ba/): وجدان، اَندھی بصارت یا دماغ کی آنکھیں؟۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 1 دسمبر 2019 بلائینڈ سائیٹ (Blindsight) جس کا ترجمہ میں نے ’’اندھی بصارت‘‘ کیا ہے، ایک عجیب و غریب مظہر ِ فطرت ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک بیماری ہے اور اِس کے مریضوں کو نابینا ہی سمجھا جاتاہے لیکن اِس کے مریض نابینا ہوکر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ آنکھوں سے نہیں دیکھتے، وہ بیرونی دنیا کو فقط اپنے دماغ سے دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق، ’’بلائیڈ سائیٹ ایک قابلیت ہے جو اُن میں سے بعض مریضوں کے پاس خود بخود آجاتی ہے جن کا ’’پرائمری وژول کورٹیکس‘‘ خراب ہوجاتاہے۔ پرائمری - [ہم ترے دہر میں رہتے تھے عیاں ہوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%db%81%d9%85-%d8%aa%d8%b1%db%92-%d8%af%db%81%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%d8%aa%db%92-%d8%aa%da%be%db%92-%d8%b9%db%8c%d8%a7%da%ba-%db%81%d9%88%d8%aa%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92%db%94%db%94/): ہم ترے دہر میں رہتے تھے عیاں ہوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 دسمبر 2019 ہم ترے دہر میں رہتے تھے عیاں ہوتے ہوئے ہرطرف تیغ و تبر تیر و سناں ہوتے ہوئے اے خدا تیری ہراِک شئے تھی کھلونوں جیسی ہم جھگڑتے ہوئے بچے تھے جواں ہوتے ہوئے فرق یہ ہے کہ خداوند کے ہونے کا خیال وسوسہ خیز نہ تھا، شاخ ِ گماں ہوتے ہوئے ہم کہ آثار ِ مرُور، آج بھی لکھے ہوئے ہیں وقت نے خرچ کیا ہم کو زماں ہوتے ہوئے میں وفا اور جفا دونوں سے انجان رہا دہر میں مخمصۂ سودو زیاں ہوتے ہوئے میں تو - [لمحۂ موجود۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d9%84%d9%85%d8%ad%db%81%d9%94-%d9%85%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): لمحۂ موجود۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 دسمبر 2019 وہ ایک لمحہ جو آئینہ تھا بدل گیا ہے وہ ڈھل گیا ہے مَیں اپنے عکاس سے نہ پوچھوں، تو کس سے پوچھوں؟ کہاں گیا وہ خزانۂ زندگی جسے وقت کہہ سکیں ہم؟ کہاں گیا وہ زمانہ ٔ عارضی جسے آج سہہ سکیں ہم جو سہہ لیا وہ گزر گیا ہے جو آرہا ہے وہ آنے والا کبھی نہ آئے تو کیا کرینگے؟ بس ایک صورت بچی ہے یعنی یہ لمحۂ وقت جو ابھی بھی گزررہا ہے یہ مرررہا ہے اِسے بچا لیں یہ ایک پَل جو عظیم تر ہے زمانِ ماضی کی کلفتوں سے - [مدرسے کی کہانی۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%d9%85%d8%af%d8%b1%d8%b3%db%92-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): مدرسے کی کہانی۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 5 جنوری 2020 دنیا میں پہلے تعلیم وتدریس آزاد ہوا کرتے تھے، یعنی حکومتیں اپنے تعلیمی اداروں کو اپنے قابُو میں نہیں رکھتی تھیں بلکہ اُنہیں آزادانہ علمی سرگرمیوں کا موقع دیتی تھیں۔ لیکن نوآبادیاتی عہد میں استعمار نے اپنی ضرورتوں کے تحت دنیا میں رائج اِس خوبصورت نظامِ تعلیم کا خاتمہ کردیا۔ مثلاً ہندوستان میں مدارس کا ایک آزادانہ نظام موجود تھا جو مغلوں کے عہد میں کامیابی کے ساتھ جاری تھا لیکن انگریزوں نے ہندوستانیوں کو اپنی ضروریات کے تحت ڈھالنا چاہا تو اُنہیں سب سے زیادہ رکاوٹ اسی آزادانہ تعلیمی سرگرمی کی طرف سے - [یہ دِل روشن خیالی سے کہیں کالا نہ ہوجائے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%db%8c%db%81-%d8%af%d9%90%d9%84-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d8%ae%db%8c%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%b3%db%92-%da%a9%db%81%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d9%86%db%81-%db%81%d9%88%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%92/): یہ دِل روشن خیالی سے کہیں کالا نہ ہوجائے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 جنوری 2020 یہ دِل روشن خیالی سے کہیں کالا نہ ہوجائے یہ سُورج کی طرف تکتا ہے نا بینا نہ ہوجائے بھروسہ کس قدر مشکل ہے بازارمحبت میں مسافر ڈرتا رہتا ہے کہیں دھوکا نہ ہوجائے رگوں میں شور کرتا ہے لہو، محسوس ہوتا ہے نگہ پربت نہ بن جائے یہ دل دریا نہ ہوجائے تُو پاس آئے تو خوشبُو یوں کرے رنگوں میں ڈھل جائے تجھے دیکھوں تو دِل ایسے کرے دیوانہ ہوجائے مجھے تم سے کہیں سچ مچ محبت ہی نہ ہوجائے نہیں ایسا نہ ہو! ایسا نہ - [زمانہ بدستِ اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d8%af%d8%b3%d8%aa%d9%90-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): زمانہ بدستِ اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 2 فروری 2020 زمانہ، ذہن کی جھاڑی میں اٹکا ریشمی دھاگے کا کپڑا ہے کوئی خلّاق جولاہا، وہ جس نے ریشہ در ریشہ زمانے کو بُنا ہے، ذہن سے باہر نہیں بستا یہ میرے اپنے بے خوابی کے خوابوں کا کرشمہ ہے یہ سارے دائروں میں گھومتے دن رات آتا وقت، جاتا وقت استمرار کے آثار سے آراستہ شئے کا زمانے سے گزر یہ واقعے، یہ حادثے ہر ہر گھڑی، ہر پل کی ٹِک ٹِک اور سب معلول جن کی علّتیں ناقص دلیلِ کائناتی ہیں یہ سب ناظر نے سوچے ہیں یہ سب، ناظر نے سوچے ہیں - [فلیش بیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d9%81%d9%84%db%8c%d8%b4-%d8%a8%db%8c%da%a9%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): فلیش بیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 28 جنوری 2020 اتنی مدت کے بعد لوٹا ہوں لوگ اپنی گلی کے یاد نہیں حافظے پر بھی اعتماد نہیں کون رہتا تھا اِس محلے میں کس کی خاطر میں روز بن ٹھن کر گھر سے سہ پہر میں نکلتا تھا کون خوش ہوتا، کون جلتا تھا نام کس کا لہُو میں چلتا تھا اتنی مدت کے بعد لوٹا ہوں سارے دیوارو در بدل گئے ہیں رستے بدلے ہیں گھر بدل گئے ہیں سب پرانے نشان جل گئے ہیں یہ جو دروازہ، جس پہ تالہ ہے یہ کبھی بند ہی نہ ہوتا تھا صاف سُتھری تھیں اِس کی - [اینٹیگونسٹوں (خاریوں) کو پہچانیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%db%8c%d9%86%d9%b9%db%8c%da%af%d9%88%d9%86%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d9%be%db%81%da%86%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): اینٹیگونسٹوں (خاریوں) کو پہچانیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 11 فروری 2020 مذاہب و مسالک میں یوں ہوتاہے کہ اگر آپ کسی اور مذہب یا مسلک سے کنورٹ ہو کر کوئی نیا مسلک اختیار کرنا چاہتے ہیں تو آپ پر لازم ہوتاہے کہ آپ پرانے مذہب یا مسلک کو پہلے ترک کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو نئے مذہب میں آپ کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ فی زمانہ سائنس کی دنیا میں، مشرق و مغرب میں، ایک چھوٹا سا کَلٹ (Cult) اب ایسا موجود ہے جو طلبہ پر پابندی عائد کرتاہے کہ سائنس پڑھنے کے لیے پہلے اپنے تمام ترسابقہ عقائد و مذہب ترک - [یہ گنبدِ مینائی یہ عالمِ تنہائ۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%db%8c%db%81-%da%af%d9%86%d8%a8%d8%af%d9%90-%d9%85%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%db%8c%db%81-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%d9%90-%d8%aa%d9%86%db%81%d8%a7%d8%a6%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): یہ گنبدِ مینائی یہ عالمِ تنہائ۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 12 فروری 2020 اُس کے والدین پلین کریش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ جہاز جہاں گرا تھا وہاں دور دور تک جنگل تھا۔ جہاز میں موجود سب لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ صرف وہ بچ گیا تھا۔ تب اس کی عمر صرف ایک ماہ تھی۔ لیکن نہ جانے کیسے معجزاتی طور پر وہ زندہ رہا اور بڑا ہوتا گیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس نے کسی بکری کا دودھ پیا ہوگا۔ اُسے اپنے بچپن کے بارے میں کچھ یاد نہیں تھا۔ جہاز کا ملبہ تک اس نے نہیں دیکھا تھا۔ سب کچھ - [ایسا اُلجھا کہ کھو گیا ہم سے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%a7%db%8c%d8%b3%d8%a7-%d8%a7%d9%8f%d9%84%d8%ac%da%be%d8%a7-%da%a9%db%81-%da%a9%da%be%d9%88-%da%af%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d8%b3%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): ایسا اُلجھا کہ کھو گیا ہم سے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 14 فروری 2020 ایسا اُلجھا کہ کھو گیا ہم سے تاگۂ عمر کا سِرا ہم سے ہم جو قصداً خطا نہیں کرتے دل نہ کوئی کرے بُرا ہم سے ہاتھ اُلجھے ہوئے ہیں کاموں میں مانگی جاتی نہیں دعا ہم سے ایسی خیرات کون دیتاہے؟ اُس نے کشکول لے لیا ہم سے جس کو نوکِ زباں سے چکھا تھا بھولتا کیوں وہ ذائقہ ہم سے ہم نے اِک بار پھول توڑا تھا بات کرتی نہیں ہوا ہم سے گریہ کرتے ہیں ، گریہ کرتے ہیں اب نہ دیوار ہو جُدا ہم سے روز - [ہم نے اظہار ِ فن کیا کہ نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%db%81%d9%85-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d9%90-%d9%81%d9%86-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%81-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): ہم نے اظہار ِ فن کیا کہ نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 14 فروری 2020 ہم نے اظہار ِ فن کیا کہ نہیں؟ کاروبار ِ سخن کیا کہ نہیں؟ بیڑیوں کی صدا نے پیروں میں چھن چھنن چھن چھنن کیا کہ نہیں؟ رات دن تیری یاد میں ہم نے جان ِ من جان ِ من کیا کہ نہیں؟ سارا عالم تری تلاش میں ہے عام مشک ِ ختن کیا کہ نہیں؟ اب تو ہم بھی نہیں ہیں، دنیا میں دل لگانے کو من کیا کہ نہیں؟ ایسے دیوار و در نہیں بنتے ختم دیوانہ پن کیا کہ نہیں؟ سر نہیں ہے اگرتو پھر کیا - [بے وزن شاعر کو کیسے سمجھایا جائے؟۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%a8%db%92-%d9%88%d8%b2%d9%86-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1-%da%a9%d9%88-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%d8%a7%db%8c%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%db%92%d8%9f%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): بے وزن شاعر کو کیسے سمجھایا جائے؟۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 17 فروری 2020 رحمان بھائی جینیئس ہیں اور یہ بات میں کئی سال سے مانتاہوں۔ خاص طور پر رحمان بھائی کی تخلیقی صلاحتیں جن میں ایک انجنئر اور ایک شاعر گھل مِل جاتاہے، بڑی عجب ہیں۔ رحمان بھائی کی اکثر باتوں سے کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتاہے۔ گزشتہ دنوں ہم ایک افطاری میں اِکھٹے ہوئے تو رحمان بھائی نے اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ واقعہ تو دلچسپ ہے ہی اور میں آپ کو سناتا بھی ہوں، لیکن آپ یہ دیکھیے! کہ رحمان بھائی نے نابغۃ زبیانی کے زمانے سے - [عُسرو یُسر۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b9%d9%8f%d8%b3%d8%b1%d9%88-%db%8c%d9%8f%d8%b3%d8%b1%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): عُسرو یُسر۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 17 فروری 2020 زہر کا جام دیے جانے سے قبل بیڑیاں کھولی گئی تھیں اُس کی اُس کو آزاد کردیا گیا تھا زہر کا جام بھر دیا گیا تھا اُس نےہولے سے پنڈلیاں سہلائیں بیڑیوں کے نشان پڑ گئے تھے وہ ہنسا اور یونہی ہنستے ہوئے اِک ادائے عجیب سے بولا بیڑیاں بھی کمال ہوتی ہیں اب جو اُتری ہیں تو مزہ آیا اِیک بے ساختہ نشہ آیا سچ تو یہ ہے کہ اِس جہاں میں کہیں لطف کوئی بھی بےعذاب نہیں کوئی بھی درد بے ثواب نہیں ادریس آزاد   - [اللہ تعالیٰ کے ناموں کی صفات۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/contemporary-scholasticism/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): اللہ تعالیٰ کے ناموں کی صفات۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 26 فروری 2020 اللہ کے ناموں میں سے کسی بھی نام کی صفت کا عملی طورپر خود میں پیدا کرلینا ایک خاص قسم کا لطف عطاکرتاہے۔ یہ لطف ، لذت سے سرشاری تک ایک صعودی تدریج کے ساتھ موجود ہے۔ صفتِ ربوبیت، صفتِ رحیمیت اوراس نوع کی چند اورصفات کا عملی حصول ’’خدمت‘‘ سے ممکن ہے۔ خدمت سےسرشاری ملتی ہے۔ صفتِ خلّاقیت کا حصول تخلیق (آرٹ، شاعری، مصوری) سے ممکن ہے اورعلیمیت یعنی صفتِ علم کا، حصولِ علم (سائنس وفلسفہ) سے۔ ان اعمال سے بھی لطف اورسرشاری ملتی ہے۔ لیکن یہ صفات کسی نہ - [اگریہ سچ ہے کہ تم چاہتے ہو جی سے مجھے۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%a7%da%af%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%b3%da%86-%db%81%db%92-%da%a9%db%81-%d8%aa%d9%85-%da%86%d8%a7%db%81%d8%aa%db%92-%db%81%d9%88-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%ac%da%be%db%92%db%94%db%94%db%94/): اگریہ سچ ہے کہ تم چاہتے ہو جی سے مجھے۔۔۔۔ادریس آزاد 2 مارچ 2020 اگریہ سچ ہے کہ تم چاہتے ہو جی سے مجھے تو کیوں نکال رکھا ہے برادری سے مجھے میں اپنے کمرے کی بتّی جلا کے سوتا ہوں بڑی شدید محبت ہے روشنی سے مجھے ذرا سا پاؤں پھسلنے پہ گر گیا تھا میں اجل نکال کے لائی ہے زندگی سے مجھے نہ سنگ زَن، نہ کوئی سنگ، دشت چھوڑآیا جُنوں میں عشق ہوا ہے گلی گلی سے مجھے تو پھر دماغ میں وہ مستقل ہی رہنےلگے لگے تھے پہلی نظر میں جو سرسری سے مجھے میں منطقی - [عورت کی جسمانی نزاکت و لطافت مذہب کی دین ہے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%b3%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%86%d8%b2%d8%a7%da%a9%d8%aa-%d9%88-%d9%84%d8%b7%d8%a7%d9%81%d8%aa-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%af%db%8c%d9%86/): عورت کی جسمانی نزاکت و لطافت مذہب کی دین ہے۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد عورت کی جسمانی نزاکت و لطافت مذہب کی دین ہے۔ ارتقأ کا اصول ہے کہ چاہے کچھ ہوجائے انواع کے افزائشِ نسل کا نظام ہر حال میں جاری و ساری رہنا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے کسی نوع میں افزائشِ نسل کا نظام رُک گیا تو وہ نوع فنا ہوجائےگی۔ قبل ازتاریخ میں جب انسان نے جنسی عمل میں لبھاؤ کی قدرتی حسّیں کھودِیں تو مردوں کے لیے چودہ سال کے لڑکے اور لڑکی میں فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ جس سے فقط مردوں میں ہم جنس پرستی کا آغاز ہوا - [خوشی یاد کرنے سے دوبارہ محسوس کیوں نہیں ہوتی اور غم یاد کرنے سے دوبارہ محسوس کیوں ہوتاہے؟۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%ae%d9%88%d8%b4%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d8%af%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%81-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%88%d8%b3-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/): خوشی یاد کرنے سے دوبارہ محسوس کیوں نہیں ہوتی اور غم یاد کرنے سے دوبارہ محسوس کیوں ہوتاہے؟۔۔۔ادریس آزاد 6 مارچ 2020 فرض کریں آپ کو اچانک بہت سی خوشی ملی ہے اور آپ اُسے پوری طرح محسوس کرتے اور اُس سے پورا پورا لطف کشید کرتے ہیں۔اور پھر وقت گزر جاتاہے۔ تو کیا کافی مدت بعد اُس خوشی کو یاد کرکے آپ دوبارہ ویسی ہی محسوسات میں جاسکتے ہیں؟ ویسا ہی لطف محض اُس خوشی کی یاد سے حاصل کرسکتے ہیں؟ آپ ابھی تجربہ کرکے دیکھ لیں، یعنی اپنی کسی اچانک ملنے والی پرانی خوشی کو یاد کریں۔ اور محسوس - [عشق را اندیشه نبود زانک اندیشه عصاست۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d9%86%d8%af%db%8c%d8%b4%d9%87-%d9%86%d8%a8%d9%88%d8%af-%d8%b2%d8%a7%d9%86%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%af%db%8c%d8%b4%d9%87-%d8%b9%d8%b5%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%94%db%94/): عشق را اندیشه نبود زانک اندیشه عصاست۔۔۔۔۔ادریس آزاد 7 مارچ 2020 انسان کا بھی عجیب حال ہے اس کے اندر جب کسی خیال تصور یا شے کے بارے میں تشکیک پیدا ہونے لگتی ہے تو بالعموم اس کا فوری و ابتدائی سبب کوئ عقلی استدلال نہیں ہوتا بلکہ حسی ارتسامات ہوتے ہیں۔ اس کے کچھ تجربات، کچھ احوال اس پر بیتنے والی کچھ واردات کچھ محرومیوں کے احساسات اس کے مزعومات میں دراڑیں ڈالنے لگتے ہیں۔ یہی حال تشکیک کی برعکس صورتحال یعنی ایقان کا بھی ہے۔ انسان جب کسی شے کو “ماننا” چاہتا ہے تو یہ بھی عموما عقلی دلائل - [ایک کڑوا گھونٹ۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%a7%db%8c%da%a9-%da%a9%da%91%d9%88%d8%a7-%da%af%da%be%d9%88%d9%86%d9%b9%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): ایک کڑوا گھونٹ۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 8 مارچ 2020 بات یہ ہے کہ ہم، یعنی میرے جیسے لوگ جو مذہب میں یقین رکھتے ہیں، سائنس اوردیگرعلوم سے زیادہ، اور وحی کو عقل سے برترسمجھتے ہیں، وہ بھی تو اِس بات کو نظرانداز کررہے ہیں نا کہ ماوری سرمد کے مزاج کی حامل چند عورتوں کی وجہ سے اُن کروڑوں عورتوں کے خاموش مطالبے کو بھی سامنے نہیں آنے دے رہے جو فی الاصل اس نعرے کے حقیقی معانی کے اعتبار سے اِس بات کی مستحق ہیں کہ انہیں بھی برابری کی سطح کا انسان سمجھاجائے۔ ہمارے کچھ دوستوں کا یہ کہناہے کہ اس - [جس زمانے میں تُو خیرات دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%ac%d8%b3-%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%8f%d9%88-%d8%ae%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%af%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%b1%d8%aa%d8%a7-%d8%aa%da%be%d8%a7%db%94%db%94%db%94%db%94/): جس زمانے میں تُو خیرات دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 9 مارچ 2020 جس زمانے میں تُو خیرات دیا کرتا تھا میں ترے شہر کی گلیوں میں گدا کرتا تھا جو بھی کرتا تھا مرے ساتھ وہ تُو کرتا تھا پھر جو کرتا تھا ترے ساتھ ، خدا کرتا تھا ایک دھاگے سے بندھا تھا مرا سب اوج ِ کمال اُس کی چٹکی کے اِشارے پہ کٹا کرتا تھا تُو تو غفّار تھا ہرروز ہی کرتا تھا معاف میں ترا بندہ تھا ہر روز خطا کرتا تھا تُو مرے ساتھ زمیں پر جو چلا کرتی تھی میں ترے ساتھ ہواؤں میں اُڑا - [ابھی تک انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%db%81%d8%aa-%d8%a8%da%91%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d9%88/): ابھی تک انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔۔۔ادریس آزاد 10 مارچ 2020 سچ تو یہ ہے کہ ابھی تک انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یہ میں استعارۃً نہیں کہہ رہا بلکہ معنوی طور پر میری مراد ہی یہی ہے۔ یعنی مُصلّیوں، چُوڑھوں، بستی والوں، موروں، کیہَلوں، پکھی واسوں، مسلم شیخوں، فقیروں، فٹ پاتھ پر سونے والوں، شہرکےمضافات میں چھولداریوں تلے سونے والوں، کے قبائل پاکستان میں بھی ان گنت ہیں۔ یہ قبائل دنیا کے ہرملک میں ایسی آبادیاں بلکہ مورثوں کے کُنڈ یعنی جِین پول ہیں، جنہیں ابھی - [تری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%aa%d8%b1%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%af%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d9%be%da%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%84-%da%a9%d9%88-%da%af%d8%b1%d9%85%d8%a7-%d9%84%d9%88%da%ba-%d8%aa%d9%88-%d8%a2%d8%aa%d8%a7/): تری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 12 مارچ 2020 تری یادوں سے پھر محفل کو گرما لوں تو آتا ہوں یہی دوچار انگارے ہیں دہکا لوں تو آتا ہوں میں اپنے رزق سے، حصّے کا غم کھا لوں تو آتاہوں تری دہلیز تک دامن کو پھیلا لوں تو آتاہوں یہ حسنِ خلق کا پرچہ بہت کمزور ہے میرا سبق پھر سے ذرا اِک بار دہرا لوں تو آتاہوں کنویں کھاری، سفردشوار، رستے ناتراشیدہ میں پیچھے آنے والوں کو یہ سمجھا لوں تو آتا ہوں کتابِ زندگی دلچسپ ہے، رُکنا نہیں ممکن بس اِک دو صفحہ - [کرونا وائرس "فما فوقھا" ………..ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%d9%81%d9%85%d8%a7-%d9%81%d9%88%d9%82%da%be%d8%a7-%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7/): کرونا وائرس  “فما فوقھا” ………..ادریس آزاد 12 مارچ 2020 جراثیم کی کئی اقسام ہماری دشمن ہیں اور روزِازل سے ہمارے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔ آج تک زمین پر پائی جانے والی بلاؤں میں سب سے بڑی بَلا مچھر کو تسلیم کیا گیاہے۔ یہ اعدادوشمار کی بات ہے، محض استعارۃً استعمال کیا گیا نام نہیں۔ مچھر نے اعدادوشمار کے لحاظ سے اب تک زمین پر پائی جانے والی ہر بُری، موذی اورخوفناک بَلا سے بڑھ کر انسان دشمنی کی ہے۔ جب کبھی مجھے اس بات کا خیال آتا ہے تو مجھے قرانِ پاک کی ایک آیت یونہی بس یاد آجاتی ہے، حالانکہ - [ہرلفظ ہے ابہام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ ………..ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%db%81%d8%b1%d9%84%d9%81%d8%b8-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%a8%db%81%d8%a7%d9%85-%d9%86%db%81-%da%86%d9%90%db%8c%d8%af%db%81-%d9%86%db%81-%da%86%d9%8f%d9%86%db%8c%d8%af%db%81/): ہرلفظ ہے ابہام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ ………..ادریس آزاد 14 مارچ 2020 ہرلفظ ہے ابہام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ کوئی نہیں پیغام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ جو ماہ ترے غم میں گزرجائے مبارک ہے صورتِ ایّام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ گاہے یہ نہ گہنائے تو مرجائے قسم سے سُورج کی کوئی شام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ بس ایک تری راہ کو تکنے کے سوا اور دنیا میں کوئی کام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ تُو آئے کہ میں جاؤں خداؤں کی بلاسے ہے تیرا مرا نام نہ چِیدہ نہ چُنیدہ ہم یار کے اغیار کے ہونٹوں پہ دھرے ہیں تم پر کوئی - [زمام ِ لمحۂ موجود بس میں رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%85-%d9%90-%d9%84%d9%85%d8%ad%db%81%d9%94-%d9%85%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%a8%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): زمام ِ لمحۂ موجود بس میں رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 14 مارچ 2020 زمام ِ لمحۂ موجود بس میں رہتی ہے یہ کائنات مری دسترس میں رہتی ہے حصار ِ جسم سے نکلے تو خودکوپہچانے خدا کی رُوح ابھی خاروخس میں رہتی ہے عروس ِ دہر کے اُترے ہوئے لباس سے عقل حواس میں نہیں رہتی ہوس میں رہتی ہے تمام عمر زباں سے نکل نہیں پاتی وہ دل کی بات جو سولہ برس میں رہتی ہے کھُلا یہ راز دھڑکتے، پھڑکتے دل کی طرح یہ کائنات کی چڑیا قفس میں رہتی ہے ہرایک سانس سفر کی نقیب ہے جیسے صدائے کُوچ - [عیاں اُتنی ہی اُس پر ذات ہوگی۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%b9%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a7%d9%8f%d8%aa%d9%86%db%8c-%db%81%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b3-%d9%be%d8%b1-%d8%b0%d8%a7%d8%aa-%db%81%d9%88%da%af%db%8c%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): عیاں اُتنی ہی اُس پر ذات ہوگی۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 17 مارچ 2020 عیاں اُتنی ہی اُس پر ذات ہوگی کسی کی جس قدر اوقات ہوگی دھڑکتے دِل کی رُکنے تک ہمیشہ دِگرگوُں صورت ِ حالات ہوگی حقیت میں جو ہوگا حشر کا دن وہ اِک نصف النّہاری رات ہوگی مسلسل خواب کی تعبیر کیا ہو؟ تمہارے جاگنے پر بات ہوگی یونہی بھوکا پڑا مرجاؤنگا میں نہیں لونگا اگر خیرات ہوگی یہ آنسو بھاپ ہوتی ہے لہوکی جہاں گرمی بڑھی برسات ہوگی وزیروں، شہسواروں، کاہنوں کی پیادہ چل پڑا تو مات ہوگی ادریس آزاد   - [دوستی اوردشمنی۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86%db%8c%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): دوستی اوردشمنی۔۔۔۔۔ادریس آزاد 18 مارچ 2020 دوستی جس کے طریقے نہیں آتے مجھ کو دشمنی جس کے تقاضے مری اوقات نہیں دونوں پلّے سے بندھے ہیں مرے ساماں کی طرح جو تعلق مجھے رکھنا ہے بچاؤں کیسے؟ ترک کرنا ہے جسے اُس کو نبھاؤں کیسے؟ گومگو میں ہوں کہاں جاؤں ؟ کوئی راہ سجھائی دیتی کوئی سُلجھی ہوئی آواز سنائی دیتی اے مرے دوست! مری جان کے دشمن مرے دوست! اے عدُو! میرے طرف دار! مرے یار! عدُو! کاش تم دونوں کسی روزسرراہ ملو! کاش تم دونوں کسی ٹوٹی ہوئی شاخ پہ اِک پھول اور اک کانٹے کی مانند کھِلو! اے - [ایک وہم کا ازالہ۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/litrature/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%88%db%81%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b2%d8%a7%d9%84%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): ایک وہم کا ازالہ۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد تم بُرا نہ مانو تو ایک بات کہتا ہوں یہ جو وہم ہے تم کو سب خرید سکتے ہو جسم، زلف، آنکھیں اور لب خرید سکتے ہو بُت پرست لوگوں کے رَب خرید سکتے ہو تم عروسہ ٔ نَو کی شب خرید سکتے ہو جب خریدنا چاہو تب خرید سکتے ہو شعر،لفظ اور شاعر سب خرید سکتے ہو پَر سوال اُٹھتا ہے سب خرید کربھی تم یہ جو اپنی نظروں میں آبرُو سی ہوتی ہے کب خرید سکتے ہو ؟ ادریس آزاد   - [کوانٹم فزکس میں کرنسی کا تصور۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%da%a9%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%b9%d9%85-%d9%81%d8%b2%da%a9%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af/): کوانٹم فزکس میں کرنسی کا تصور۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 20 مارچ 2020 پارٹیکل فزکس میں جب بھی کوئی سے دو پارٹیکلز ایک دوسرے کے نزدیک آتے ہیں تو ان کے درمیان انرجی کا تبادلہ ہوتاہے۔ اس قسم کی فزکس کو کوانٹم الیکٹروڈائنامکس کہاجاتاہے۔ جو پارٹیکلز ایک دوسرے کے نزدیک آتے ہیں، وہ مادے کے پارٹیکلز ہوتے ہیں لیکن جب وہ آپس میں انرجی کا تبادلہ کرتے ہیں تو انرجی کے پارٹیکلز کے ذریعے کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے اُن مادی پارٹیکلز کے لیے انرجی کے پارٹیکلز گویا کوئی کرنسی ہوں۔ فرض کریں دو الیکٹران ایک دوسرے کے نزدیک آئے ہیں تو - [قاری کے بغیر لکھاری کا تصور محال ہے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d9%82%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%84%da%a9%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d9%84-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94/): قاری کے بغیر لکھاری کا تصور محال ہے۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 24 اپریل 2015 لکھاری قاری کے لیے لکھتاہے۔ قاری کے بغیر لکھاری کا تصور محال ہے۔ ممکن ہے کوئی لکھنے والا کسی کے لیے نہ لکھتاہو۔ بعض لوگوں کو کہتے سناہے کہ وہ کسی کے لیے نہیں لکھتے صرف اپنے لیے لکھتے ہیں۔ اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔ صرف اپنے لیے کس طرح لکھا جاتاہے۔ ہاں ایک صورت ہے۔ ہم جیسے ریمائنڈر لگاتے ہیں۔۔۔ تو اپنے لیے ہی لکھتے ہیں۔ گویا ڈائری لکھنا بھی اپنے لیے لکھنا ہوسکتاہے اور اگر اتنا ممکن ہے تو پھر مضمون اور کتابیں بھی اپنے لیے - [سائنس کا تخلیقی مطالعہ، ہماری اہم ضرورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%b9%db%81%d8%8c-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%db%81%d9%85-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1/): سائنس کا تخلیقی مطالعہ، ہماری اہم ضرورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 12 جنوری 2020 یہ ترکیب یعنی ’’تخلیقی مطالعہ‘‘، یہ مجھے اپنے استادِ محترم جناب جلیل عالی کے اسباق کے دوران سیکھنے کو ملی۔ تخلیقی مطالعہ اُس مطالعے کو کہتے ہیں جس میں آپ کا ذہن سیکھنے کے ساتھ ساتھ تخلیقی عمل سے بھی گزررہا ہو۔ سیکھنے کے دوران کوئی طالب علم تخلیقی عمل سے کیسے گزرتاہے؟ یعنی وہ جب کوئی نکتۂ علمی جانتاہے تو اس کے اپنے ذہن میں اُس نکتۂ علمی سے نئے نئے نکات اور نئے نئے خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایسے خیالات کو اگر وہ مطالعہ کے بعد بھی - [چند ہزار سال قبل، تمام انسان زومبیز تھے‘‘ جولیَن جینز"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%da%86%d9%86%d8%af-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%82%d8%a8%d9%84%d8%8c-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%b2%d9%88%d9%85%d8%a8%db%8c%d8%b2-%d8%aa%da%be%db%92/): ’’چند ہزار سال قبل، تمام انسان زومبیز تھے‘‘ جولیَن جینز”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 16 جنوری 2020 بائی کیمرل مائینڈ کا معنی ہے، دو چیمبروں والا دماغ۔بائی کیمرل، بنیادی طور پر سیاسی اصطلاح ہے۔جب کسی ملک کے دستورسازنمائندے دو مختلف چیمبرز یا ہاؤسز میں بیٹھتے ہوں تو اُس ملک کا سیاسی نظام ’’بائی کیمرل‘‘ کہلاتاہے۔ مثلاً اگر کسی ملک میں اسمبلی اور سینٹ دو الگ الگ ہاؤسز ہیں جہاں دستورسازنمائندے بیٹھتے ہیں تو اس ملک کا سیاسی نظام بائی کیمرل ہے۔لیکن جب ’’ہم بائی کیمرل مائینڈ ‘‘کی اصطلاح استعمال کرینگے تو اس سے ہماری مراد ’’جولیَن جینز‘‘(Julian Jaynes)کی ’’تھیوری آف کانشسنیس‘‘ ہوگی۔جولین جینز بیسویں - [اسراع، ایک عجوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%ac%d9%88%d8%a8%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): اسراع، ایک عجوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد اسراع (یعنی ایکسیلیریشن) کائنات کے عجب مظاہر میں سب سے بڑھ کر ہے۔ جہاں اِس مظہر نے آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹِوٹی جیسی عظیم ترین تھیوری کی بنیاد رکھی، وہاں اس کے دیگر بے شمار اثرات بھی کچھ کم حیران کُن نہیں ہیں۔ مثلاً فرض کریں ایک چارجڈ پارٹیکل (مثلاً پروٹان) یونیفارم ولاسٹی سے سفر کررہاہے۔ ظاہر ہے اس کے آس پاس ایک الیکٹرومیگانیٹک فیلڈ بھی ہے جو اُسی یونیفارم ولاسٹی سے اس کے ساتھ ساتھ بھاگ رہی ہے۔ اگر یہ چارجڈ پارٹیکل فقط ایک نینوسیکنڈ کے لیے ہی اچانک حالتِ اسراع میں آجائے یعنی ایکسیلیریٹ ہوجائےاورپھر - [اشعری فلسفیوں کا نظریہ جواہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d8%b4%d8%b9%d8%b1%db%8c-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%ac%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b1%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): اشعری فلسفیوں کا نظریہ جواہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 21 جنوری 2020 اشیا فقط ایک لمحۂ زمانی میں ایک نقطۂ مکانی پر وجود میں آتی اور پھر فنا ہوجاتی ہیں۔ جب ہم کسی شئے کو ایک دورانیے (Time Duration) میں دیکھتے ہیں تو دراصل اس دورانیے کے ہرلمحے میں اس شئے کی نئی نقل وارد ہوئی ہوتی ہے نہ کہ پچھلے لمحے والی نقل۔ جیسے مکان کے نقطوں کی بہت سی نقلیں ایک ساتھ جوڑنے سے لائن بنتی ہے اور بہت سی لائنیں ایک دوسرے کے ساتھ متوازی جوڑدینے سے سطح بنتی اور بہت سی سطحیں ایک دوسرے کے ساتھ متوازی جوڑدینے سے تھری - [اقبال اورنظریہ ارتقا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/evolution/%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%82%d8%a7%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1/): اقبال اورنظریہ ارتقا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 22 جنوری 2020 (26 سال کی عمر سے 61 سال کی عمر تک) ۔۔ ’’محقق واکر کے نزدیک انسانی قبائل کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ وبا اور قحط کے وسائل کسی قوم کی آبادی کو مستقل طورپر کم نہیں کرسکتے۔ وسیع معنون میں زندگی کا قیام ایک کلیہ، قانون کے تابع ہے جس کو فلسفی ’’قانون بقائے افراد قویّہ(Survival of the fittest)‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔‘‘ اقبال، ۱۹۰۳ ، ڈارون کی وفات کے اکیس(۲۱)سال بعد، اقبال کی کتاب ’’علم الاقتصادسے ۔۔ ’’ ’’تقریباً تمام حکمائے حال اس امر پر متفق ہیں کہ - [مینڈک کا ’’میٹامارفسس اور کوانٹم ٹنلنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%85%db%8c%d9%86%da%88%da%a9-%da%a9%d8%a7-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%81%d8%b3%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%b9%d9%85-%d9%b9%d9%86%d9%84/): مینڈک کا ’’میٹامارفسس اور کوانٹم ٹنلنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 25 جنوری 2020 میٹامارفسس یعنی ایک شکل سے تیزی کے ساتھ دوسری شکل میں چلے جانا۔مینڈک یعنی فراگ جب پیدا ہوتاہے تو اس کی شکل بالکل الگ سی ہوتی ہے۔ یوں لمبوترا جیسے کسی مچھلی کا چھوٹا سا بچہ۔ اُس کی ٹانگیں تک نہیں ہوتیں۔ اس کی دُم کسی مچھلی کی دُم جیسی ہوتی ہے۔ جیسے پنکھ۔ لیکن صرف چھ ہفتوں کے اندر اندر وہ اپنی اِس شکل سے بدل کر ایک بالکل نئی اور مختلف شکل میں آجاتاہے جسے ہم مینڈک کہتے ہیں۔فراگ کی یہ ٹرانسفارمیشن ماہرینِ بیالوجی کے لیے ہمیشہ معمہ رہی - [یونیورس کانٹی نیووَس ہےلیکن کسی اور ڈائمینشن میں۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%86%db%8c%d9%88%d9%88%d9%8e%d8%b3-%db%81%db%92%d9%84%db%8c%da%a9%d9%86-%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%88%d8%a7/): یونیورس کانٹی نیووَس ہےلیکن کسی اور ڈائمینشن میں۔۔۔۔۔ادریس آزاد 26 جنوری 2020 یونیورس کانٹی نیووَس ہےلیکن کسی اور ڈائمینشن میں۔ ہماری تین ابعادِ مکانی اورایک بُعدِ زمانی میں کائنات ڈِسکریٹ ہی دکھائی دے گی۔ کائنٹی نیووَس کا مطلب ہے کہ کائنات اپنی کُنہ میں ایک کُل ہے جبکہ ڈِسکریٹ کا مطلب ہے کہ کائنات اپنی کُنہ میں اجزائے کثیر پر مشتمل ہے۔ ہماری آنکھیں کائنات کی حقیقت جاننے کے لیے بھی ناکافی ہیں کیونکہ ہم اِس کی اصلیت کا مشاہدہ کرنے کے اَبھی اہل نہیں ہیں۔ ظاہری رئیلٹی ایمرجنٹ رئیلٹی ہے۔ اس کی تہہ میں کوانٹم ریئلٹی کا وجود ہے۔ لیکن - [وجدان, علت و معلول سے ماوراہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%b9%d9%84%d8%aa-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): وجدان, علت و معلول سے ماوراہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 2 فروری 2020 ’’ اس بیان پر آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ محترم حمید نیازی صاحب کے سوال پر اُن سے وعدہ کیا تھا کہ لاہور سے واپسی پر اس سوال کا جواب اپنی استطاعت کے مطابق لکھونگا، درج ذیل سطور کی صورت پورا کررہاہوں۔ فی الحال کے لیے قبول فرمایے حمید بھائی! لیکن ابھی بہت کچھ ہے لکھنے کو اور انشااللہ لکھونگا۔ برگسان اور پھر برگسان کےتتبع ،لیکن اسلامی روایت میں اقبال، اس خیال کے مبلغ ہیں کہ وجدان علت و معلول سے ماورا ہے۔ جہاں تک میں اس بات کو سمجھ سکا - [آئیڈیالسٹس اور میٹیریالسٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%a7%d9%93%d8%a6%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d9%b9%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a7%d9%84%d8%b3%d9%b9%d8%b3%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94/): آئیڈیالسٹس اور میٹیریالسٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 2 فروری 2020 برٹرینڈ رَسل نے آؤٹ لائن آف فلاسفی میں لکھا ہے کہ فلسفہ میں دو طرح کے مکاتب ِ فکر کا ہمیشہ غلبہ رہا ہے۔ ایک وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ حواس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا بایں ہمہ عقل پر بھی نہیں کیا جاسکتا فلہذا یہ دنیا دامِ خیالِ محض ہے۔ دوسرے وہ جو حواس پر اعتبار کو زیادہ اہمیت دیتے اور مشہود دنیا کو حقیقی بایں ہمہ عقل و شعور کی واردات کو قطعی سمجھتے ہیں۔ انہی دو مکاتبِ فکر کو علی الترتیب آئیڈیالسٹس اور میٹیریالسٹس کہا جاتاہے۔ دونوں کے پاس دلائل - [دے جاوُو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d8%af%db%92-%d8%ac%d8%a7%d9%88%d9%8f%d9%88%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af/): دے جاوُو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد تقریباً ہرانسان ‘دیجا و ُو ‘ کے تجربہ سے گزرتاہے۔ لیکن علم کی پوری تاریخ میں آج تک اس مظہر کو سمجھنے کے لیے جس قدر بھی مفروضے قائم کیے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک پر بھی سچے دل سے ایمان لانے کو جی نہیں چاہتا۔ صرف میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں، کسی انسان کو بھی اُن توجیہات پر یقین نہیں آتا جو آج تک کسی بھی زبان، مذہب یا علم کی شاخ کی طرف سے پیش کی گئی ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم “دیجاو ُو” کو سمجھنے کی ناکام کوششیں کریں۔ قبل ازیں جو - [نیّت اور جذبات کا تعلق۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/philosophy/%d9%86%db%8c%d9%91%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ac%d8%b0%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%b2/): نیّت اور جذبات کا تعلق۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد انسانی نفسیات کو دنیا کا سب سے گہرا اور پیچیدہ علم سمجھا جاتاہے، لیکن بدقسمتی سے اس علم میں اضافے کی رفتار بہت سست ہے۔ اس پر مستزاد زبان ابھی بالکل اِس قابل نہیں ہوئی کہ کسی کا حال ِ دِل بیان کرسکے۔ دنیا کی تمام تر تہذیبی ترقی کا دارومدار عمل پراور عمل کا دارومدار نیّت پر ہے، جبکہ نیّت تک رسائی کا کوئی معلوم طریقہ موجود نہیں۔ ایک انسان، بطور انسان صرف اپنی نیّت سے خود ہی واقف ہوسکتاہے۔ اگرچہ منطق کے پاس ایسے آلات ہیں جن کے استعمال سے موٹے موٹے معاملات - [آج کا "جامِ جمشید"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/blog/%d8%a2%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%85%d9%90-%d8%ac%d9%85%d8%b4%db%8c%d8%af%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%b3-%d8%a2/): آج کا “جامِ جمشید”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 5 مارچ 2020 آج جب کائنات، سیّارۂ زمین یا انسانیت سے متعلق کوئی بھی سوال ذہن میں اُٹھتاہے تو ہم فوراً اُسے گوگل میں ڈالتے ہیں۔ ہرطرح کے آرٹیکلزنِکل آتے ہیں۔ آرٹیکلز سے بات سمجھ نہ آئے تو گوگل امِجز کو کلک کرتے ہیں اور اپنے متعلقہ موضوع پر ہم ہزارہا قسم کی تصاویر دیکھ لیتے ہیں۔ گوگل امیجز سے بھی سمجھ نہ آئے تو یوٹیوب پر جاکر ڈھونڈتے ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک ویڈیو مل جاتی ہے جو متعلقہ سوال یا مسئلے کو لے کر اتنی تفصیل سے حل بتاتی ہے کہ عقل - [پین سپرمیا کے مطابق یہ کائنات حیات سے چھلک رہی ہے۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%d9%be%db%8c%d9%86-%d8%b3%d9%be%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d8%a8%d9%82-%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%da%86%da%be/): پین سپرمیا کے مطابق یہ کائنات حیات سے چھلک رہی ہے۔۔۔۔۔ادریس آزاد 6 مارچ 2020 پین سپرمیا کے مطابق یہ کائنات حیات سے چھلک رہی ہے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ زمین سے صرف تیس کلومیٹر کی دوری پر خلا یعنی سپیس ہے۔ اس لیے قرین ِ قیاس ہے کہ زندگی کے ابتدائی جرثومے خلا سے زمین پر وارد ہوئے ہوں۔ اس نظریہ کے نزدیک زندگی سیارہ در سیارہ بارش کی طرح برستی رہتی ہے۔ جب کوئی بڑا شہابیہ کسی ایسے سیارے پر گرتاہے جہاں زندگی کے جرثومے پہلے سے موجود ہوں تو وہاں سے اُٹھنے والی دھول، مٹی، - [کیا کبھی وقت میں سفر ممکن ہوپائےگا؟۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/physics/%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86-%db%81%d9%88%d9%be%d8%a7%d8%a6%db%92%da%af%d8%a7%d8%9f%db%94%db%94%db%94/): کیا کبھی وقت میں سفر ممکن ہوپائےگا؟۔۔۔۔۔۔ادریس آزاد 15 جنوری 2020 ایک حقیقت جس کا بیان بہت ضروری ہے یہ ہے کہ کوپن ہیگن انٹرپریٹیشنز اور ہیوایورٹ کی انٹرپریٹیشن کو آپس میں کوئی علاقہ نہیں۔ ہیوایورٹ کی انٹرپریٹیشن تو شروع ہی اس جملے سے ہوتی ہے، ’’وٹ اِف ویوفنکشن نیورکولیپسز؟‘‘۔ یوں گویا ہیوایورٹ نے تو اپنے تھیسز کا آغاز ہی کوپن ہیگن انٹرپریٹیشن کے انکارسے کیا۔ کیونکہ کوپن ہیگن انٹرپریٹیشن میں آخر کو یہی نتیجہ اخذکیا گیا تھا کہ ’’اِٹ سِیمز دیٹ دہ ایکٹ آف میژرمینٹ کولیپسز دہ ویوفنکشن‘‘۔ اب آپ خود فرق دیکھ لیں! اُوپر میں نے ہیوایورٹ کا جملہ - [ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﻧﻮﻉ ﮨﮯ۔۔۔۔ادریس آزاد](https://idrisazad.com/evolution/%ef%ba%8d%ef%bb%a7%ef%ba%b4%ef%ba%8e%ef%bb%a5-%ef%ae%a8%ef%af%bd-%ef%ba%af%ef%bb%a3%ef%af%bf%ef%bb%a6-%ef%ad%98%ef%ba%ae-%ef%ba%97%ef%bb%a4%ef%ba%8e%ef%bb%a1-%ef%bb%a3%ef%ba%a8%ef%bb%a0%ef%bb%ae/): ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﻧﻮﻉ ﮨﮯ۔۔۔۔ادریس آزاد 15 اپریل2018 ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﺍﺋﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﻧﻮﻉ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺍﻣﺮﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ’’ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻭﺍﺣﺪ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ‘‘ ۔ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺫﺭﺍ ﻣﺒﮩﻢ ﺳﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍِﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮐُﺘﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐُﺘﮯ ﮐﺌﯽ ﺫﯾﻠﯽ ﺍﻧﻮﺍﻉ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻘﺴﻢ ﮨﯿﮟ۔ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐُﺘﮯ، ﺭُﻭﺳﯽ ﮐُﺘﮯ، ﺟﺮﻣﻦ ﺷﯿﻔﺮﮈ، ﮔﻠﭩﺮﯾﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔ ﺍِﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﻨﺪﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻨﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﯾﮕﺮ ﺫﯾﻠﯽ ﺍﻧﻮﺍﻉ ﻣﯿﮟ ## Pages - [About](https://idrisazad.com/about/): Remarkable & memorable events Rebuttal to Hoodbhoy on Iqbal’s Scientific Consciousness In 2019, a debate emerged at the Pakistan Academy of Letters concerning Allama Iqbal’s references to science and his understanding of scientific concepts. The discussion was sparked by Professor Pervez Hoodbhoy — a well-known Pakistani critic and social activist — who accused Iqbal of misleading the Muslims of India through what he termed a deceptive use of scientific ideas. Idrees Azad asked a question to Hoodbhoy during the Q&A session — a question for which Hoodbhoy had no answer. A few days later, at the same venue and under the - [تصورملامت کا فلسفہ اور وجودیت](https://idrisazad.com/tasawwur-mulamat-ka-falsfa-aur-wjoodiyyat/): تصوف کے بعض مکاتبِ فکر میں’’ ملامت‘‘ نامی ایک عُنصر کاتصورپایاجاتاہے۔جبکہ بعض دیگر مکاتبِ فکر کے نزدیک یہ کوئی اچھا عُنصر نہیں ہے۔ملامت کیا ہے؟ اِس تصورکی موجودگی کے اسباب کیا ہیں؟ اور بعض سالِکین ملامت کا راستہ کیوں اختیارکرتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ تصوف کا میدان جو ’’میدانِ خیال‘‘ سے بھی بڑا میدان ہے بنیادی طور پر دوقسم کے انسانی کرداروں کاسٹیج ہے۔اگرکوئی سالک، اکیلا ہی راہِ سلوک کی دشوار گزار گھاٹیوں میں چلتا چلا جارہاہے تو وہ انفرادی کاوش کو پسند کرتاہےلیکن اس کے برعکس تصوف میں سلاسل کا ایک نظام بھی موجود ہے۔ جیسا کہ سُنی مسلمانوں - [Home](https://idrisazad.com/) - [Sample Page](https://idrisazad.com/sample-page/): This is an example page. It’s different from a blog post because it will stay in one place and will show up in your site navigation (in most themes). Most people start with an About page that introduces them to potential site visitors. It might say something like this: Hi there! I’m a bike messenger by day, aspiring actor by night, and this is my website. I live in Los Angeles, have a great dog named Jack, and I like piña coladas. (And gettin’ caught in the rain.) …or something like this: The XYZ Doohickey Company was founded in 1971, and ## Optional - [Agent (MCP protocol)](websites-agents.hostinger.com/idrisazad.com/mcp) [comment]: # (Generated by Hostinger Tools Plugin)