اسلم چشتی۔(سلسلہ: ایک عام آدمی کا تعارف: قسط نمبر2)

(سلسلہ: ایک عام آدمی کا تعارف: قسط نمبر2) اسلم چشتی۔

12 اپریل 2020

اللہ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ہمارے اسلم چشتیؒ کو۔ غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والا ہمارا ایک شاعر دوست جو بنیادی طور پرجلالی فقیر تھا۔ پورے شہر خوشاب میں ’’کوّے‘‘ کی طرح مشہور تھا۔ گرمیوں میں مکئی کی بھُنی ہوئی چھلیوں کی ریڑھی لگایا کرتا اور ساتھ ہی اپنی شاعری بآوازِ بلند گاتا تھا، جو چھلیّوں کے ذائقے اور خستگی کا قصیدہ ہوا کرتی تھی۔ سردیوں میں کوئلے کی مائین میں کام کرتا تھا۔ کوئلہ نکالنے والے مزدور کی حیثیت سے اُس نے مائینز کے اندر جو کچھ محسوس کیا اور بے پناہ محنت کرنے والے افغانی پٹھانوں کو آرام پسند پنجابی مزدوروں کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کرتا دیکھ کر اُس نے ایک نئے طرز کے انقلابی اشعار بھی بہت کہے۔ تین چار ناموں سے شاعری کرتا تھا۔ اور یہ ناموں کا بدلنا محض بہروپ کے بدلنے کی غرض سے نہ تھا۔ بلکہ تین چار قسم کی شاعری کی وجہ سے تھا۔ مثلاً چشتی ہندوستانی مہاجر تھا اور جب اپنی اُسی مادری بولی میں شعر کہتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ کشمش جنجالوی کے نام سے کہتا۔ اسی طرح متصوفانہ خیالات کا اظہار سید ساغر چشتی کے نام سے کرتا اور پنجابی شاعری اسلم چشتی کے نام سے کرتا تھا۔ مثالیں درج کردیتاہوں،

مثلاً سید ساغر چشتیؒ یہ کہتاہے،

وہاں میرے سوا سب کچھ ملے گا

یہاں اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔

یا علامہ کشمش جنجالوی کا یہ کلام مجھے یاد رہ گیا

ہربخت نہ مَنّوں چھیڑے کر!

تَیں اپڑیں گڈی ریڑھے کر!

میں کروں بکھیڑے گَیل ترے

تَیں میرے گَیل بکھیڑے کر!

تَیں چُلّہے ماں دو ڈکّے لا

میں اَگ بالُوں تَیں پیڑے کر!

پانڑیں بھرنے نُوں بَھر لے کر!

پَر نلکا اوہلی گیڑے کر!

اَج اَنکھاں کے بِچ پا انکھاں

اَج بُل بُلّہاں کے نیڑے کر!

چشتی نُوں گُوانڈنڑ روج کُہے

تَیں اُنچے اپڑیں بیڑے کر!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی طرح اسلم چشتی کا یہ شعر مجھے آتاہے،

آپڑیں جاتک دے ہرویلے ونڈدی دُکھ نماڑیں ما

جد وی رووے راج دُلارا بھجدی پیروں واہڑیں ما

یہ والا شعر درج کرتے ہوئے مجھے اپنے گھر کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ چشتیؒ صاحب سے میرے ابا جی کو کچھ عجب سا دلی لگاؤ تھا۔ وہ ان کے ساتھ بہت مذاق کرتے اور دونوں خوب ایک دوسرے پر پھتیاں کستے۔ چنانچہ اندر گھر میں بھی چشتیؒ صاحب کا خوب خوب تعارف تھا۔ جب میں نے اپنی بہن عصمی کو چشتی صاحب کا یہی شعر سنایا،

آپڑیں جاتک دے ہرویلے ونڈدی دُکھ نماڑیں ما

جد وی رووے راج دُلارا بھجدی پیروں واہڑیں ما

عصمی نے اذراہِ تفنن فوراً کہا، ’’نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ ہوتا یوں ہے کہ جب راج دُلارا روتا ہے تو ماں پیروں واہنڑیں (برہنہ پا) اِس لیے دوڑتی ہے کہ جُوتا تو اُس کے ہاتھ میں ہوتا ہے‘‘

خیر! چشتیؒ صاحب کی وفات کوئی دو سال قبل ایک حادثے میں ہوئی۔ جب وہ مائن سے کوئلہ نکال رہے تھے اور کسی زہریلی گیس نے اُن سمیت دو مزید مزدوروں کی بھی جان لے لی۔ ان کی موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی تھی۔ بڑی شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ بہت زیادہ غریب ہونے کی وجہ سے کسی سے لڑائی کرنے یا گالی دینے کی ہمّت تو نہ پاتے تھے خود میں، لیکن غصے میں آجاتے تو اپنا احتجاج بڑے منفرد انداز میں ریکارڈ کرواتے۔ اچانک سر پر اُسترا پھروا لیتے، مونچھیں منڈوا دیتے، حتیٰ کہ ایک بار تو بھنویں بھی منڈوا دی تھیں۔ اس وقت انہیں غصہ بھی زیادہ تھا۔ کیونکہ کچھ لوگوں نے پبلک میں اُن کی انسلٹ کردی تھی۔

اپنے ظہیر باقر بلوچ صاحب کے بھی بہت قریبی دوست تھے۔ مجھ سے بھی زیادہ۔ ایک مرتبہ ظہیر صاحب چشتی کو لاھور اپنے ساتھ لے گئے۔فارحہ گواہ ہے۔ یہ لوگ ریواز گارڈن کے کسی فلیٹ میں رہتے تھے۔ چشتیؒ صاحب نے ظہیر صاحب سے دریافت کیا، ’’ظہیر صاحب! کوئی خاتون اچھی لگ جائے تو اس کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا مہذب طریقہ کیا ہے؟‘‘ ظہیرصاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’ اُسے چائے کی دعوت دینا چاہیے‘‘۔ اگلے دن چشتی صاحب سبزی خریدنے گئے ، کیونکہ کُکنگ کی ذمہ داری انہی کی ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ خیر سبزی لینے گئے تو وہاں ایک نیم بزرگ قسم کی خاتون کو سبزی خردیتے دیکھا اور بڑی احتیاط سے کہہ دیا، ’’محترمہ! آپ میرے ساتھ چائے پینا پسند کرینگی؟‘‘۔ افففف بس پھر کیا تھا ۔ محترمہ تو سیخ پا ہوگئیں، وہاں تو جو بولیں سو بولیں۔۔۔۔۔۔۔بعد میں محترمہ کے جوان بیٹے ظہیر صاحب کے فلیٹ پر آگئے اور اُن کا مؤقف تھا کہ چشتی صاحب کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اُن کی تواضح کرسکیں۔ لیکن ظہیرصاحب بلوچ تھے۔ وہ دوست کے لیے سینہ سپر ہوگئے اور چشتیؒ صاحب کو بال بال بچا لیا۔

چشتیؒ صاحب کی ہزار یادیں ہیں جو لکھنے کو جی چاہتاہے۔ ان کا سارا کلام ان کے لواحقین نے ضائع کردیا۔ حالانکہ بقول ان کے اُن کی تین کتابیں بن سکتی تھیں۔

سب سے عجب بات یہ ہے کہ چشتی صاحب چٹے ان پڑھ تھے۔ جب اُن کی شاعری سن کر لوگ اُن سے تعلیم پوچھتے تو وہ کہا کرتے تھے، ’’ میری تعلیم گیارہ گھنٹے ہے۔ میں نےنئی روشنی سکیم کے تحت داخلہ لیا تھا۔ ایک گھنٹے کی کلاس ہوا کرتی تھی اور جب گیارہ دن گیا تو بدقسمتی سے نئی روشنی سکیم ہی بند ہوگئی‘‘

ادریس آزاد