والعصر

اور والعصر کہ ہم
شیشۂ ساعت میں نہیں ہیں
کہ گریں
اور والعصر کہ
ہم کون و مکاں میں نہیں رہتے کہ اُٹھیں
اور والعصر کہ
بددل ہیں زمانے سے مگر
ہم بھی اِک دور میں دل والے تھے
اور والعصر کہ
کہ ہروقت کھڑا رہتا ہوں
صبح میں
شام میں
دوپہر میں
سہ پہر میں ، مَیں
پیر مٹی بھی نہیں چھوڑتے
ہرلمحہ رُکا رہتا ہے ہرروز وہیں
اور والعصر کہ
تسلیم و رضا کافی نہیں
ورنہ بادل نہ گرجتے
نہ عیاں صورتِ ہم دوش ِ جہاں ہوپاتی
یعنی وہ یار عزازیل، حلیفِ فطرت
اور والعصر کہ
یہ سارا خسارہ ہے مرا
اور والعصرکہ
دل درد کا مارا ہے مرا

ادریس آزاد